آسٹریلیا نے افغانیوں کے قتل پر اپنے 13 فوجیوں کو برطرف کردیا

Spread the love

پرتھ: آسٹریلیا نے افغانستان میں شہریوں کو دہشت گرد قرار دیکر اور غیر مسلح طالبان کو غیرقانونی طور پر ہلاک کرنے والے اپنی فوج کے 13 اہلکاروں کو ملازمتوں سے برطرف کردیا۔

آسٹریلوی نشریاتی ادارے ’اے بی سی‘ کے مطابق نے آسٹریلیا افغانستان میں مقیم اپنے 19 فوجیوں کو غیر مسلح 39 افغان شہریوں اور قیدیوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا الزام ثابت ہونے پر 13 اہلکاروں کو ملازمتوں سے برطرف کردیا جب کہ بقیہ کو دیگر سزائیں سنائی گئی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   ایران میں کورونا وائرس سے 50 افراد ہلاک

خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ سزائیں ریاستی جج کی جانب سے تحقیقات مکمل کرکے پیش کی گئی رپورٹ کے تحت دی گئی ہیں جس میں 19 حاضر و ریٹائرڈ فوجیوں کو جنگی جرائم کے تحت سخت سزائیں تجویز کی گئی تھیں تاہم رپورٹ میں فوجیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   او آئی سی کا مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھانے اور گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ

اسٹیٹ جج کی رپورٹ پر فوری ردعمل دیتے ہوئے 10 فوجیوں کی برطرفی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ برطرف کردہ فوجی 14 روز کے اندر اپیل کرسکتے ہیں۔ اسٹیٹ جج کی رپورٹ میں فوجیوں کے جرم کا مرتکب پانے پر آسٹریلوی فوج نے افغانستان سے معافی مانگتی تھی۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا نے امریکی اتحادی کے طور پر اپنی فوجیں افغانستان بھیجی تھیں اور اس دوران 2001 میں آسٹریلوی فوجیوں نے غیر مسلح طالبان قیدیوں اور شہریوں کو گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں: شاہ سلمان