ٹرمپ کے حامیوں کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ

Spread the love

واشنگٹن: ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں کے سپریم کورٹ کی جانب مارچ اور انتخابی نتائج کے خلاف مظاہروں کے دوران کئی مقامات پر مقابل مظاہرین اور پولیس سے تصادم کے نتیجے میں ایک شخص کے زخمی اور 20 افراد گرفتار ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گزشتہ شب سے واشنگٹن سمیت کئی امریکی ریاستوں میں ٹرمپ کے حامیوں ںے بڑی تعداد میں جمع ہوکر انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کیا جس میں ’’چوری بند کرو‘‘ اور ’’ہر ووٹ گنتی کرو‘‘ کے نعرے لگائے۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکہ میں اژدھے کی خاتون کے دروازے پر دستک

دارالحکومت میں آج ہونے والے احتجاج میں کشیدگی بڑھتے ہوئے کئی مقامات پر تصادم کی صورت حال بھی پیدا ہوگئی۔ کئی مقامات پر تصادم کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ کی گئیں۔ حکام کے مطابق ان جھڑپوں میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوچکے ہیں۔

ہفتے کی صبح صدر ٹرمپ نے ان مظاہرین کی خاموش حمایت کا اشارہ دیا ہے۔ اپنے گولف کلب جاتے ہوئے ان کے صدارتی قافلے نے وہ راستہ اختیار کیا جہاں ان کے حامی سڑک کنارے موجود تھے۔ صدر کی گاڑیوں کا قافلہ دیکھتے ہی مظاہرین نے ’’یو ایس اے ‘‘، ’’چار سال اور‘‘ کے نعرے لگانا شروع کردیے۔

یہ بھی پڑھیں:   کلبھوشن کی بریت کیس ،عالمی عدالت انصاف نے بھارتی درخواست مسترد کردی

واضح رہے کہ امریکی انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج سامنے آچکے ہیں جس کے بعد جو بائیڈن کو 306 الیکٹرول ووٹ حاصل ہوئے ہیں جو کہ صدارت کے لیے واضح برتری ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ اول دن سے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کررہے ہیں اور ان کی کمپین ٹیم کئی مقامات پر نتائج کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عراق، داعش کیخلاف آپریشن میں 2 امریکی فوجی ہلاک

ٹرمپ کے حامی دائیں بازو کے شدت پسند گروپوں نے انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کے لیے ’’ملین میگا مارچ‘‘ کا اعلان کیا تھا اور مختلف شہروں میں اس حوالے سے مظاہروں کا آغاز ہوگیا ہے۔ ہفتے کی رات کو صدر ٹرمپ کے حامیوں نے سپریم کورٹ کی عمارت کی جانب مارچ اور انتخابی دفاتر کے سامنے مظاہرے کیے۔