شہرقائد بدترین طوفانی بارش سےڈوب گیا

Spread the love

کراچی: شہرقائد بد ترین طوفانی بارش نے تباہی مچادی جس کے باعث بیشتر علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔

کراچی میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچا رکھی ہے اور انتطامیہ خاموش حرکت میں جس کے باعث نظام زندگی مکمل طورپردرہم برہم ہوگیا۔ شہرمیں متعدد سڑکیں اورشاہراہیں ایک بار پھر تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

کراچی میں جن علاقوں میں موسلا دھاربارش نے تباہی مچائی ان میں گلشن اقبال، حسن اسکوائر، نیپا چورنگی ، یونیورسٹی روڈ، طارق روڈ ، پی ای سی ایچ ایس ، شہید ملت روڈ ، شارع فیصل ، بلوچ کالونی ، دھوراجی کالونی ، کارساز، ملیر ، ایئر پورٹ ، ماڈل کالونی ، صفورا گوٹھ ، ڈیفنس ، کلفٹن ، کورنگی، نارتھ کراچی ، نارتھ ناظم آباد ، ناظم آباد ، گولیمار، ایم اے جناح روڈٖ، نمائش، جیل چورنگی ، گلستان جوہر، واٹر پمپ ، سہراب گوٹھ ، سپرہائی وے بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکہ نے پاکستان کی پانچ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں

وزیراعظم نے گورنر سندھ کوفون کیا اورصوبہ میں حالیہ بارشوں پرتشویش کا اظہارکیا۔ وزیراعظم نے گورنر سندھ کو ریلیف کی کوششوں کو تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو اس مشکل گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے، پانی میں پھنسے لوگوں کو کھانا پہنچایا جائے اورلوگوں کی محفوظ مقامات پر جلد منتقلی کا انتظام بھی کیا جائے۔

شہر قائد میں بارش کے بعد بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا اور بارش کی وجہ سے شہر کا بڑا حصہ بجلی سے محروم بھی ہوگیا ہے جب کہ کئی علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے۔ چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ ہوا کے کم دباؤ کا ٹرف بحیرہ عرب اورجنوبی سندھ پر تاحال موجود ہے، بلوچستان سے بھی ایک ٹرف مغرب کی جانب سے داخل ہورہا ہے، ٹرف کے زیر اثر کراچی میں بادل برس رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اپوزیشن کو این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا، وزیراعظم

سندھ رینجرز کا کہنا ہے کہ شہری مدد کے لیے 1101 ہیلپ لائن یا 9001111-0347 پر بذریعہ واٹس ایپ رابطہ کریں۔ سندھ رینجرزکی جانب سے ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری ہے جب کہ متاثرہ علاقوں میں خوراک کی فراہمی کے لیے این جی اوز کے ساتھ تعاون کیا جارہا ہے۔

ایئرپورٹ حکام کے مطابق کراچی میں خراب موسم کے باعث اسلام آباد اورلاہورسے آنے والی پروازوں کونواب شاہ بھیجا جارہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز تک سندھ نے اپنی 90 سالہ تاریخ کی بدترین مون سون بارشیں دیکھی ہیں، آج بھی سپرمون سون کی تیز ترین بارشیں شدت سے سیلابی ریلوں کے ساتھ جاری ہیں، ان لوگوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں جو غیرمعمولی اورریکارڈ قدرتی آفت میں شہریوں کی مدد کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کراچی کو 3 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری

حب ڈیم میں سطح آب 13 سال بعد ساڑھے 338 فٹ کا نشان عبورکرگئی ہے جب کہ آج کسی بھی وقت ڈیم سے اضافی پانی کا اخراج شروع ہوسکتا ہے۔ صورتحال کے پیش نظرحب ڈیم کے نیچے کی آبادیوں سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انخلا کرایا جا رہا ہے۔ مون سون سسٹم کے تحت شہرقائد میں جاری اگست کے مہینے میں حالیہ بارشوں کے باعث بارشوں کا سابقہ 89 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

3 تبصرے “شہرقائد بدترین طوفانی بارش سےڈوب گیا

  1. Pingback: kejuqq

تبصرے بند ہیں