بغیراجازت دوسری شادی پرسپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ بغیر اجازت دوسری شادی پر پہلی بیوی کو حق مہر معجل ہو یا غیر مؤجل فوری ادا کرنا ہوگا۔

سپریم کورٹ میں بغیر اجازت دوسری شادی سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بغیر اجازت دوسری شادی پر پہلی بیوی کو حق مہر فوری ادا کرنا ہوگا، مہر معجل ہو یا مؤجل دونوں صورتوں میں فوری واجب الادا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   گوادر پاکستان کے ترقی کا مرکز بنے گا، عمران خان

پشاور کے رہائشی نے اہلیہ کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی تھی، پشاور ہائی کورٹ نے شہری کو حق مہر فوری ادا کرنے کا حکم دیا شہری نے عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کردی تاہم سپریم کورٹ نے حق مہر کی فوری ادائیگی کے فیصلے کیخلاف اپیل خارج کر دی اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے درخواستگزار شہری کو حق مہر فوری ادا کرنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیر اعلیٰ ہو تو ایسا!عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب کو محرومیوں سے نکالنے کا وعدہ پورا کردیا

پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس مظاہر علی اکبر نے جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی یا ثالثی کونسل کی اجازت لازمی ہے، دوسری شادی کیلئے اجازت کا قانون معاشرے کو بہتر انداز سے چلانے کیلئے ہے، تیسری شادی کیلئے اجازت کے قانون کی خلاف ورزی سے کئی مسائل جنم لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   صحافیو ں کے تحفظ ، ڈیجیٹل سیکیوریٹی ،نفسیاتی و سماجی معاونت اور معروضیت پر مبنی رپورٹنگ کے بارے میں تربیتی ورکشاپ

واضح رہے کہ معجل ہونے کی صورت میں مہر کی رقم نکاح کے فوری بعد ادا کرنا ہوتی ہے جب کہ مؤجل اس مہر کو کہتے ہیں جس کی ادائیگی کے لیے کوئی مدت متعین کی گئی ہو یا اسے بیوی کے مطالبے پر ادا کرنا ضروری تسلیم کیا گیا ہو۔