زمینوں کا ریکارڈ بہتر ہوگا تو زرعی قرض آسان ہوجائے گا: اسٹیٹ بینک

Spread the love

اسلام آباد: گورنراسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ کورونا کے باعث کسانوں کے 56 ارب کے قرض ری شیڈول کیے، زمین کا کمپیوٹرائز ریکارڈ ضروری ہے۔

تفصیلات کے مطابق زرعی مصنوعات کے حوالے سے خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا، خصوصی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت اسپیکرقومی اسمبلی نے کی، اس موقع پر زراعت کی صورت حال سمیت دیگر چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں کارپوریٹ گورننس میں بہتری آگئی، ورلڈ بینک

گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ زراعت کو فروغ دینا ہمارا اہم مقصدہے، 2004-5 میں زراعت کے لیے109 ارب کے قرض دیے، 20-2019میں 1.3کھرب کے قرض دیے گئے۔

گورنراسٹیٹ بینک نے بتایا کہ 37لاکھ چھوٹے کسانوں کو قرض دیے گئے، کرونا کے باعث کسانوں کے56 ارب کے قرض ری شیڈول کیے، زمین کا کمپیوٹرائز ریکارڈ ضروری ہے، زمینوں کاریکارڈ بہتر ہوگیا توزرعی قرض دینا آسان ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   خیبرپختونخوا میں سیلز ٹیکس میں کمی