دنیا کا سب سے قدیم “مگرمچھ” کی باقیات دریافت

آیووا: مگرمچھ کے کروڑوں سال پرانے رکازات (فوسلز) کا ایک بار پھر جائزہ لینے کے بعد سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ مگرمچھ اتنا خطرناک تھا کہ ڈائنوسار تک کا شکارکرتا تھا۔

اس مگرمچھ کی قدیم ترین باقیات 8 کروڑ 20 لاکھ سال پرانی ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ ڈائنوسار کے ساتھ یہ بھی موجود تھا۔ اس کے نوک دار دانت بڑے کیلے جتنے لمبے تھے، یہ ڈھائی ٹن سے پانچ ٹن تک وزنی ہوا کرتا تھا جبکہ اس کی لمبائی تقریباً 33 فٹ یعنی ایک عام تین منزلہ عمارت جتنی ہوتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان بھر میں 11دسمبر سے ٹیلی نار کی سروسز بند ہونے جارہی ہیں؟

اپنی ان ہی خصوصیات کی بنا پر اس قدیم مگرمچھ کو ’’ڈینوسوکس‘‘ (Deinosuchus) یعنی ’’دہشت گرد مگرمچھ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے اوّلین رکاز 1850 کے عشرے میں امریکا سے دریافت ہوئے تھے۔ ڈینوسوکس کو ڈائنوسار کے زمانے میں نیم آبی (سیمی ایکویٹک) ماحول بشمول جوہڑ اور تالاب وغیرہ کے سب سے دیوقامت جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ مگرمچھ کی طرح یہ بھی شکاری جانور تھا، لیکن یہ بات صرف خیالی ہی رہی۔ حالیہ تحقیق میں یونیورسٹی آف آیووا کے سائنسدانوں نے ڈینوسوکس قسم سے تعلق رکھنے والے مختلف مگرمچھوں کے رکازات کا ایک بار پھر جائزہ لیا جبکہ ساتھ ہی ساتھ ان ڈائنوساروں کے رکازات بھی کھنگالے گئے جو دریافت ہوئے تھے اور انہی رکازات جتنے قدیم تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   فیس بک سربراہ کا پرائیویسی برقرار رکھنےکے لئے بڑا اعلان

ان ڈائنوساروں کے رکازات میں ٹانگوں اور دموں پر بالکل ویسے ہی نشانات تھے جیسے ڈینوسوکس کے دانت گاڑنے سے بنے ہوں۔ ڈائنوساروں کے جسموں پر مخصوص مقامات پر یہ نشانات دیکھنے اور ان کا موازنہ ڈینوسوکس کے دانتوں سے کرنے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ دیوقامت اور قدیم مگرمچھ ڈائنوسار کا شکار کیا کرتے۔

یہ بھی پڑھیں:   گزشتہ 30 برس میں گرین لینڈ کی 4,000 ارب ٹن برف غائب ہوچکی ہے

اس کا ایک ممکنہ منظرنامہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جیسے ہی کوئی ڈائنوسار اس مگرمچھ کے تالاب کے قریب آتا ہوگا، پانی میں چھپا ہوا مگرمچھ فوری طور پر باہر نکل کر اسے دبوچ لیتا ہوگا۔ ’’ڈینوسوکس بہت دیوقامت تھے اور وہ یقیناً کسی تالاب یا جوہڑ کے کنارے پانی پینے آنے والے ڈائنوساروں کےلیے خوف کا باعث بھی رہے ہوں گے۔‘‘