سال کی سب سے بڑی سائنسی کامیابی؟ پروٹینز کا محافظ پروٹین دریافت

Spread the love

ٹوکیو: پروٹین کی یہ قسم 2011 میں جاپان کی ایک تجربہ گاہ میں دریافت کی گئی، جو اپنی ساخت میں اب تک دریافت ہونے والے کسی بھی پروٹین سے مختلف تھی۔ تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ یہی پروٹین، دوسرے پروٹینز کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاتا ہے اور ان کی حفاظت کرتا ہے۔

بیشتر پروٹینز صاف ستھرے انداز میں تہہ شدہ اور لپٹی ہوئی شکل میں ہوتے ہیں جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ان کے برعکس، پروٹینز کی یہ قسم لمبے لچکدار ریشوں جیسی ہوتی ہے جو بدلتے حالات کے تحت اپنی شکل بھی تبدیل کرلیتے ہیں۔

اسی عجیب و غریب ساخت کی بناء پر انہیں دریافت کرنے والے سائنسدانوں نے انہیں ’’ہیرو ہیرو کُن‘‘ کا نام دیا۔ جاپانی زبان کے اس عوامی لفظ کا مطلب ’’کمزور اور ڈھیلا ڈھالا‘‘ ہے۔

خیر، کیڑے مکوڑوں سے لے کر انسانوں تک میں ہیرو ہیرو کُن پروٹین کی سیکڑوں اقسام دریافت ہوئیں لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آخر ان کا مقصد، اور نظامِ حیات میں ان کا فائدہ یا مصرف کیا ہے۔ صرف اتنا معلوم ہوسکا کہ ’’ہیرو ہیرو کُن‘‘ پروٹینز شدید گرمی، خشکی اور انتہائی خراب کیمیائی حالات میں بھی اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں، یعنی یہ بے حد سخت جان ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیر صحت پنجاب کا راولپنڈی، اٹک اور ننکانہ میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کرنے کا اعلان

لگ بھگ آٹھ سال کی عدم توجہی کے بعد، یونیورسٹی آف ٹوکیو کے ماہرین نے ایک بار پھر اِن پروٹینز کو تجربہ گاہ میں آزمانے کے فیصلہ کیا۔ اس مرتبہ انہیں پیٹری ڈش میں پروان چڑھائے گئے انسانی اعصابی خلیات اور مکھیوں سے حاصل شدہ خلیات کے ساتھ رکھا گیا۔

تجربات کے دوران انہیں دوسرے پروٹینز کے ساتھ شدید گرمی، انتہائی خشکی اور مضر کیمیائی مادّوں والے ماحول میں آزمایا گیا تو معلوم ہوا کہ ’’ہیرو ہیرو کُن‘‘ پروٹینز نے نہ صرف خود کو بچایا بلکہ دوسرے پروٹینز کو بھی ٹوٹ پھوٹ کر خراب ہونے سے محفوظ رکھا۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس کی ویکسین سے انسانوں پر تجربات شروع

ہیرو ہیرو کُن پروٹینز کی وجہ سے مکھیوں کی عمر 30 فیصد تک بڑھ گئی جبکہ انسانی اعصابی خلیات سے تعلق رکھنے والے پروٹین بھی ایک دوسرے سے چپک کر ڈھیر بننے سے باز رہے، جیسا کہ اعصاب کو نقصان پہنچانے والی بیماریوں میں ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نگراں اور ’’پی ایل او ایس بائیالوجی‘‘ نامی آن لائن ریسرچ جرنل میں اس حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے اہم مصنف، پروفیسر یوکیہائیڈ توماری کا کہنا ہے کہ اب تک چھ طرح کے ہیرو ہیرو کُن پروٹینز تجربہ گاہ میں آزمائے جاچکے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کسی خاص پروٹین کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

’’البتہ، ابھی تک ہمیں کوئی ایک ایسا پروٹین نہیں مل سکا جو واقعی ’سپر ہیرو‘ ہو، یعنی کسی بھی پروٹین کو ہر طرح سے تحفظ فراہم کرسکے،‘‘ پروفیسر توماری نے کہا۔

یہ بھی پڑھیں:   برطانوی کمپنی نے دس دن میں جدید وینٹی لیٹر ایجاد کرلیا

واضح رہے کہ کوئی بھی پروٹین مختلف امائنو ایسڈز کے آپس میں ملنے کے نتیجے میں بنتا ہے جبکہ ایک جیسے کام کرنے والے پروٹینز کی سالماتی ساخت (مالیکیولر اسٹرکچر) بھی اپنے جیسے دوسرے پروٹینز سے ملتی جلتی ہے۔ اس بات کو سائنس میں ’’ارتقائی بقاء‘‘ (evolutionary conservation) کہا جاتا ہے۔ لیکن ہیرو ہیرو کُن پروٹینز (جنہیں اب صرف ’’ہیرو پروٹین‘‘ بھی کہا جانے لگا ہے)، اپنی سالماتی ساخت میں دیگر اقسام کے پروٹینز سے یکسر مختلف ہیں، جس سے کئی ارتقائی سوالات نے جنم لیا ہے۔

ماہرین کے بقول، ہیرو پروٹین کی خصوصیات ابھی ہمارے سامنے آنا شروع ہوئی ہیں؛ اور امید ہے کہ ان کی بدولت جدید بایوٹیکنالوجی اور علاج معالجے کے ضمن میں نئے امکانات سامنے آئیں گے۔

کیٹاگری میں : صحت