کورونا وائرس کے اثرات، اسٹاک مارکیٹ کریش، انڈیکس میں 2275 پوائنٹس کی کمی

Spread the love

کراچی: پاکستان اسٹاک مارکیٹ 2275 پوائنٹس کی کمی کے نتیجے میں کریش کرگئی اور سرمایہ کاروں کے کھربوں روپے ڈوب گئے۔

کاروباری ہفتے کے پہلے روز ہی بازار حصص شدید مندی کا شکار ہوگیا اور لین دین معطل کردیا گیا۔ کورونا وائرس اور سعودی عرب کے سیاسی حالات نے تیل کی عالمی مارکیٹس اور بازار حصص پر گہرا اثر ڈالا اور سعودی حکومت نے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کردی۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 30 فیصد کمی کے باعث کئی ممالک کی اسٹاک مارکیٹس کریش کرگئیں جس کے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی شدید منفی اثرات مرتب ہوئے اور مارکیٹ تیزی سے نیچے آگئی۔ صورتحال اس حد خراب ہوگئی کہ مارکیٹ عارضی طور پر بند کرنی پڑی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 2 ہزار 275 پوائنٹس کی کمی سے 35 ہزار 943 کی سطح تک گر گیا اور 6.33 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تیل کمپنیوں نے اپنے حصص فروخت کرنے شروع کردیے جس کے نتیجے میں مارکیٹ بے یقینی کا شکار ہوگئی اور چھوٹے سرمایہ کار بھی دھڑا دھڑ اپنے حصص بیچنے لگے۔

شدید مندی کے سبب اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار 45 منٹ کے لیے معطل کردیا گیا۔ اسٹاک مارکیٹ پہلی مرتبہ رسک مینجمنٹ کے لیے باضابطہ طور پر بند کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی کردی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے قواعد کے مطابق مارکیٹ 4 فیصد گرنے کی صورت میں خودکار نظام کے تحت بند ہوجاتی ہے اور ٹریڈنگ بند کردی جاتی ہے لیکن ان قواعد پر آج پہلی مرتبہ عمل کیا گیا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ پونے گھنٹے بعد بحال ہوئی تو اس کے بعد بھی مارکیٹ میں گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔

ادھر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس شدید مندی کا شکار رہیں، جاپان اسٹاک مارکیٹ میں 7فیصد، چینی اسٹاک مارکیٹ میں 3فیصد،ہانگ کانگ ساڑھے تین فیصد، جنوبی کوریا4فیصد،بھارت 3فیصد،سنگاپوراسٹاک مارکیٹ میں 4فیصد، تھائی لینڈاسٹاک مارکیٹ میں 6فیصد اور بنگلہ دیش میں 2.2فیصد کمی ہوئی۔

بین الاقوامی سطح پر کورونا وائرس کی بڑھتی ہوئی وباء کے سبب عالمی معیشت پر منفی اثرات پاکستانی معیشت پر ظاہر ہونا شروع ہوگئے، ملک میں ڈالر کی قیمت میں تین روپے کا اضافہ ہوا جب کہ ملکی اسٹاک مارکیٹ میں ساڑھے گیارہ سو پوائنٹ کے لگ بھگ کمی واقع ہوئی جس سے سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ اور روپے کی قیمت گرنے کی بنیادی وجہ کورونا وائرس سے عالمی سطح پر پیدا ہونے والے اقتصادی بحران اور تیل کی قیمتوں میں خطرناک حد تک کمی ہے اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں اقتصادی صورتحال مزید متاثر ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   تاجروں کی ہڑتال اور فضل الرحمان کے دھرنے کے باوجودسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی،سرمائے میں بڑا اضافہ،انڈیکس 7بالائی حدیں عبور کر گیا

فاریکس ایسوسی ایشن کے رہنما ملک بوستان نے ایکسپریس سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں حالیہ کمی کی لہر کی بنیادی وجہ کورونا وائرس کا خوف ہے، اس وائرس کی وجہ سے چین، شمالی کوریا، اٹلی اور ایران سمیت دیگر ممالک بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اس کے خوف سے عالمی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے لیکن پاکستان میں اس کے اثرات کم ہے۔

رہنما فاریکس ایسوسی ایشن نے کہا کہ ملکی اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 5 سے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی تھی کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے خوف زدہ ہوکر ان سرمایہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹ سے پیسہ نکالنا شروع کر دیا ہے اور اپنے اسٹاک فروخت کرنا شروع کردیئے ہیں جس کے نتیجے میں روپے پر دباؤ بڑھا ہے، سرمایہ کاروں نے اسٹاک فروخت کرکے ڈالر لیے ہیں جس کی وجہ سے ڈالر کی طلب بڑھ گئی ہے۔

ملک بوستان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے بھی اچھے اقدامات کیے ہیں اس کے علاوہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے جہاں اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثرات ہیں وہیں ملکی معیشت پر اس کے مثبت اثرات بھی ہیں اس سے ملک کے درآمدی بل میں کمی واقع ہوگی اور ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں مزید کمی واقع ہوگی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس بھی ہوسکتا ہے، حکومت اور حکومتی ٹیم کو انتہائی موثر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ مزید کرائسز سے بچا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی،ڈالرسستا ہوگیا

عقیل کریم ڈیڈھی نے بتایا کہ پاکستان میں اسٹاک مارکیٹ الٹا ردعمل ظاہر کررہی ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے اس کے ملکی معیشت پر اثھے اثرات مرتب ہوں گے اور اس اچھی خبر پر ملکی اسٹاک مارکیٹ کو مثبت ردعمل دینا چاہیے تھا لیکن ہمارے ہاں اس کے برعکس ہوا، اسٹاک مارکیٹ 2200 پوائنٹس نیچے گئی اور پہلے ہاف کے بعد مارکیٹ کریش ہوگئی نتیجے میں ساڑھے گیارہ ہزار پوائنٹس کے لگ بھگ کمی پر مارکیٹ 37 ہزار کے لگ بھگ پوائنٹس پر بند ہوئی۔

ڈالر کی قیمت میں اضافے پر ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کو مہنگا ہونا نہیں چاہیے تھا کیونکہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے جہاں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوگا وہیں درآمدی بل بھی کم ہوگا اور ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ اس سے سرپلس بھی ہوسکتا ہے اسی طرح پاکستان کے لیے درآمدی اشیاء بھی سستی ہوں گی جس سے مہنگائی کی شرح میں بھی کمی واقع ہوگی۔