محمدبن قاسم…قسط نمبر/6

Spread the love

راجہ داہر نے اپنے وزیر بدہیمن کو بلایا ۔
کیا میرا دانشمند وزیر آنے والے وقت کی خبر دے سکتا ہے؟،،،،، داہر نے اس سے پوچھا۔۔۔ کیا عرب سے ایک اور آندھی آئے گی۔
آندھیاں تو آیا ہی کرتی ہیں مہاراج !،،،،بد ہیمن نے کہا ۔۔۔کچھ پورب سے کچھ پچھم سے، دیکھنا یہ ہے کہ ہم آندھی کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں یا نہیں، میں یہ بتا سکتا ہوں کہ عرب سے آندھی ضرور آئے گی مسلمان اتنی جلدی شکست نہیں مانا کرتے، مہاراج کو چوکس رہنا چاہیے۔
رمل کا راجہ ہم پر چڑھ دوڑا تھا تو تم نے مشورہ دیا تھا کہ عرب کے ان مسلمانوں کو میدان میں اتار دو جنہیں میں نے مکران میں اپنی پناہ میں رکھا ہوا ہے۔۔۔ راجہ داہر نے کہا۔۔۔ میں نے تمہارے مشورے پر عمل کیا تو ان عربوں نے ہی میرے دشمن کو بھگا دیا، میں نے اب پھر انھیں کہا کہ عرب کی فوج حملہ کرے تو وہ میری مدد کریں لیکن ان کے سردار نے انکار کردیا ،وہ کہتا ہے کہ عرب کے مسافروں کو رہا کرو، اور اس نے یہ بھی کہا ہے کہ مسلمان مسلمان کے خلاف نہیں لڑے گا، مجھے بتاؤ کہ میں ان مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرو انہیں احسان فراموشی کا مزہ چکھا دوں۔
نہیں مہاراج!،،،،، وزیر بریمن نے کہا۔۔۔ دشمنوں کی تعداد میں اضافہ نہ کریں ،انہیں دشمن بنایا تو یہ پیٹھ پر وار کریں گے ان کے ساتھ دوستی گہری کرلیں، اور ان کے درمیان اپنے جاسوس چھوڑ دیں، معلوم کریں کہ ان کے ارادے کیا ہیں، انہیں دوست بنائیں لیکن ان پر بھروسہ نہ کریں، مسلمانوں کو ہمیشہ اپنا دشمن سمجھو، انہیں وہیں محدود رہنے دیں اگر انہیں ہر طرف گھومنے پھرنے کی اجازت دی گئی تو یہ اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کردیں گے، یہ وہ خطرہ ہے جو مہاراج کے سائے میں پرورش پا رہا ہے، اور یہ وہ اندھیرا ہے جو مہاراج کے چراغ کے نیچے ناچ رہا ہے۔
اگر انہوں نے عرب کے حملہ آوروں کی درپردہ بھی مدد کی تو میں ان سب کو قتل کرا دوں گا ۔۔۔راجہ داہر نے کہا ۔۔۔سندھ میں اور سارے ہندوستان میں صرف ایک مذہب رہے گا اور یہ مذہب ہمارا ہوگا ،ہندومت،
کیا مہاراج نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ان قیدیوں کو رہا کردیا جائے تو کیا ہوگا ؟
نہیں بدہیمن !،،،،،راجہ داہر نے کہا۔۔۔ میں نے یہ کبھی نہیں سوچا، انہیں رہا کردیا تو عرب کے حاکم مجھے کمزور سمجھنے لگیں گے، دوسری وجہ یہ ہے کہ میں عرب کے ایلچی کو جواب دے چکا ہوں کہ قیدی میرے پاس نہیں، اب میں کس منہ سے کہہ دو کہ وہ میرے پاس ہیں، نہیں میں ایسا نہیں کہہ سکتا اب ان قیدیوں کی باقی عمر قید خانے میں ہی گزرے گی۔

تمام مورخوں نے لکھا ہے کہ جہازوں کے مسافر اروڑ کے قید خانے میں بند کیے گئے تھے، اس قید خانے کے حاکم کا نام قُبلہ تھا تاریخ میں یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس کا مذہب کیا تھا بہرحال وہ مسلمان نہیں تھا۔
آج اس قید خانے کا کوئی نشان نہیں ملتا۔
راجہ داہر کے زمانے میں یہ ایک مشہور قیدخانہ تھا اس کی اندرونی فضا پر ہیبت طاری رہتی تھی اس میں جب کسی قیدی کو داخل کیا جاتا تو وہ انسانیت سے خارج ہو جاتا تھا۔ اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہو تا تھا۔
اس قید خانے کا ایک تہ خانہ تھا جس میں چھوٹی بڑی جہازوں کے مسافروں کو ان کوٹھریوں میں رکھا گیا تھا، ان میں پورے پورے کنبے بھی تھے ہر کمبے کے افراد کو ایک ایک کوٹھری دی گئی تھی۔
ان کی قید کی پہلی رات تھی آدھی رات سے کچھ دیر پہلے قید خانے کا حاکم انہیں دیکھنے کے لئے آیا، جب ان قیدیوں کو یہاں لایا گیا تھا تو قُبلہ نے انہیں دیکھا تھا ،ان میں جوان اور خوبصورت عورتیں بھی تھیں، قُبلہ جسے دو مورخوں نے کُبلا لکھا ہے ،ان عورتوں کے خیال سے ہی رات کو قید خانے کے دورے پر آیا تھا، ہر قیدی کو وہ اپنا ذاتی غلام سمجھتا تھا قیدی عورتیں اس کی ملکیت ہوتی تھیں، یہ قیدی جو عرب کے سمندری مسافر تھے مسلمان ہونے کی وجہ سے قبلہ سے اچھے سلوک کی توقع رکھ ہی نہیں سکتے تھے۔
وہ جب اس جگہ پہنچا جہاں سے تہ خانے کی سیڑھیاں اترتی تھی، تو اسے مترنم سے گونج سنائی دی، جیسے بہت سے آدمی مل کر گنگنا رہے ہوں، قُبلہ اوپر ہی رک گیا اور سننے لگا ،اس گونج کا ترنم اسے اچھا لگ رہا تھا، قید خانے میں وہ بیڑیوں اور زنجیروں کی جھنکار سنا کرتا تھا، یا دوروں یا کوڑوں کے زناٹے دار آواز اس کے کانوں میں پڑتی تھی، اور ان کی چیخیں اسے سنائی دیا کرتی تھی جن کے برہنہ جسموں پر درے کوڑے برستے تھے ،جس جہنم میں کربناک آہ وزاری رہتی تھی وہاں ترنم خوابوں کی آواز لگتا تھا۔
قُبلہ کے ساتھ قید خانے کے چند ایک ملازم تھے اس نے ان کی طرف دیکھا۔
یہ آج والے نئے قیدی ہیں۔۔۔ اسے قید خانے کے ایک افسر نے بتایا۔۔۔ جس وقت سے آئے ہیں عبادت میں مصروف ہیں۔
قُبلہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترا ،تہ خانے میں یہ گونج اسے اور زیادہ اچھی لگی۔
وہ کوٹھریوں کے سامنے سے گزرنے لگا کسی کوٹھڑی میں دو قیدی تھے کسی میں تین یا چار اور کسی کوٹھڑی میں پورا کنبہ بند تھا ،سب قبلہ رو ہوکر دوزانو بیٹھے تھے اور بیک زبان کلمہ طیبہ کا ورد ذرا بلند آواز میں کر رہے تھے، ان میں سے کسی ایک نے بھی دروازے کی طرف نہ دیکھا کہ کون گزر رہا ہے۔
قُبلہ آخری کوٹری تک چلا گیا اس نے ایک سنتری کے کان میں کچھ کہا۔
تمام قیدی خاموش ہو جائیں ۔۔۔سنتری نے اعلان کیا۔۔۔ حاکم کچھ کہنا چاہتے ہیں۔
قیدی خاموش ہوگئے اور کوٹھریوں کے دروازے کی سلاخوں کے سامنے جا کر کھڑے ہوئے، انہوں نے لعن طعن کا ایسا شور بپا کردیا کہ کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کون کیا کہہ رہا ہے، دروازوں کو تالے لگے ہوئے تھے۔ سنتریوں نے سلاخوں پر کوڑے اور ڈنڈے مارنے شروع کر دیے ایک ہڑبونگ تھی جس پر قابو پانا محال نظر آتا تھا۔
کوئی ایک آدمی بات کرو ۔۔۔قُبلہ نے کہا۔۔۔ میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔
ادھر آ ۔۔۔ایک بوڑھے عرب نے کہا ۔۔۔کون ہے تو ؟ میرے ساتھ بات کرو۔
قُبلہ اس کوٹھڑی کے دروازے کے سامنے جا کھڑا ہوا ۔
کیا تو اس قید خانے کا حاکم ہے؟،،،،،، بوڑھے نے غصے سے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا۔۔۔ کس جرم میں ہمیں قید میں ڈالا ہے۔
میں کسی کو قید میں نہیں ڈال سکتا ۔۔۔قُبلہ نے کہا ۔۔۔اور میں کسی کو اپنی مرضی سے یہاں سے نکال بھی نہیں سکتا ،میں حکم کا پابند ہوں مجھے برا بھلا مت کہو، میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ،تم سب مل کر کیا گا رہے تھے، یہ آواز مجھے بہت اچھی لگ رہی تھی ۔
کیا اس آواز نے تیرے دل کو موم نہیں کیا؟،،،، بوڑھے نے پوچھا۔
میں نے کچھ اثر ضرور محسوس کیا ہے۔۔۔ قُبلہ نے جواب دیا ۔۔۔مجھے اس گیت کے الفاظ بتاو ۔
یہ بوڑھا عرب مالابار میں بہت عرصہ رہا تھا اور ہندوستان کے کچھ علاقوں میں اس کی تجارت پھیلی ہوئی تھی، اس لئے یہاں کی زبان بول سکتا تھا۔
یہ گیت نہیں۔۔۔۔ بوڑھے نے کہا ۔۔۔یہ ہمارا کلمہ ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور عبادتوں کے لائق نہیں، اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اس کے علاوہ ہم قرآن کے مختلف آیات کا بھی ورد اسی طرح آواز ملا کر کرتے ہیں۔
اس سے تمہیں کیا حاصل ہو گا؟،،،،،قُبلہ نے پوچھا ۔
سکون قلب، اللہ کی خوشنودی۔۔۔بوڑھے نے کہا ۔۔۔اور اس جہنم سے رہائی ملے گی۔
کیا تمہیں یقین ہے کہ تم سب کو رہا کردیا جائے گا ؟،،،،قُبلہ نے پوچھا۔
اگر ہم گنہگار ہوتے تو اس قید کو سزا سمجھ کر قبول کرلیتے۔۔۔ بوڑھے نے کہا۔۔۔ پھر ہم اللہ سے قید سے رہائی نہ مانگتے، گناہوں کی بخشش مانگتے، ہمیں بے گناہ پکڑا گیا ہے۔ ہمارا حلال مال لوٹا گیا ہے، اللہ ہماری مدد کرے گا، تم سے اور تمہارے راجہ سے ہم کچھ نہیں مانگتے ،راجہ کی قسمت میں تباہی لکھ دی گئی ہے۔
کیا تم اس کی تباہی کی دعائیں مانگتے ہو؟۔۔۔ قُبلہ نے پوچھا۔
نہیں !،،،،،بوڑھے نے جواب دیا۔۔۔ ہم کسی کے لئے بری دعا نہیں مانگا کرتے، سزا اور جزا اللہ کے اختیار میں ہے، تو نیکی کرے گا تو ثمر پائے گا، کسی پر ظلم کرے گا تو تجھ پر ظلم کیا جائے گا۔
بوڑھے عرب نے ایسے انداز سے قید خانے کے حاکم کے ساتھ باتیں کیں کہ وہ جس برے ارادے سے ان قیدیوں کو دیکھنے آیا تھا وہ ارادہ اس کے دل سے نکل گیا، وہ راجہ داہر کے حکم کے بغیر قیدیوں کو رہا نہیں کرسکتا تھا ،لیکن اس نے جو اثر قبول کیا تھا وہ قیدیوں کے حق میں جاتا تھا۔
تاریخ میں قُبلہ کے متعلق لکھا گیا ہے کہ وہ دانشور تھا، صاحب علم اور اہل قلم تھا، حیرت ہے کہ ایسے شخص کو قید خانے کا دروغا کیوں مقرر کیا گیا تھا ۔
قید خانوں کے دروغا عموماً طبعاً قصائی ہوتے تھے، جو بے بس اور مجبور انسانوں کی ہڈیاں توڑ کر دلی خوشی محسوس کرتے تھے۔

جس روز سالار بدیل بن طہفہ بصرہ سے تین سو سپاہیوں کے ساتھ روانہ ہوا، اس رات بلال بن عثمان اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ اس قید خانے کے باہر جس میں مسلمان مسافر قید تھے دیوار کے ساتھ کھڑا تھا، ان کے پاس ایک رسّہ تھا جس کے ایک سرے کے ساتھ لوہے کا وہ شاخہ کنڈہ بنا ہوا تھا، رات آدھی گزر گئی تھی بلال اور اس کے ساتھی جہاں کھڑے تھے وہاں دلدل سی تھی زمین اونچی نیچی تھی، اور وہاں ٹیکریاں بھی تھیں، رات تاریک تھی بلال نے دن کے وقت ادھر آکر یہ جگہ دیکھی تھی اور کمان پھینکنے کے لئے اسے یہی جگہ موزوں لگی تھی، دیوار کے اوپر قلعوں کی طرح چھوٹی چھوٹی برجیاں بنی ہوئی تھیں، اس نے دیکھا تھا کہ قید خانے کے چاروں کونوں پر بڑی برجیاں تھیں، اور ہر برجی میں ایک سنتری موجود تھا۔
بلال اپنے ساتھیوں کو ایک ایسی ٹیکری پر لے گیا جو دیوار کے زیادہ قریب تھی اور ذرا زیادہ اونچی تھی، اس پر کھڑے ہوکر بلال نے اپنے ہاتھوں رسّہ دیوار پر پھینکا، کمند دیوار کے اوپر اٹک گئی، رات کی خاموشی میں لوہے کے کنڈے کے گرنے کی آواز اتنی زیادہ سنائی دی کہ سنتریوں نے بھی سن لی ہو گی، بلال اور اس کے ساتھی ٹیکری سے اتر کر دیوار کے ساتھ لگ گئے، اوپر کی آواز سننے کی کوشش کرنے لگے۔
کچھ دیر تک اوپر کوئی آواز کوئی آہٹ نہ سنائی دی ،سب سے پہلے بلال نے رسّی کو پکڑا اور پاؤں دیوار کے ساتھ لگا کر اوپر گیا، دیوار قلعوں جیسی تھی، اونچی منڈیر سی تھی، اور اس کے ساتھ دیوار اتنی چوڑی تھی کہ اس پر ایک گھوڑا آسانی سے چل سکتا تھا، بلال اوپر جاکر منڈیر کے اوٹ میں بیٹھ گیا، اس کا ایک ساتھی اوپر آ رہا تھا وہ بھی آ گیا، اور اس کے بعد ایک اور ساتھی اور اس کے بعد چوتھا ساتھی بھی آ گیا، ان کے پاس تلواریں تھیں اور ایک ایک خنجر کمر بند میں اڑسا ہوا تھا۔
ان میں سے کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ قید خانے کے اندر کیا ہے، انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ عرب کے مسافر کہاں بند ہیں، قید خانہ بہت وسیع تھا بعض دیواروں کے ساتھ ڈنڈو والی مشعلیں جل رہی تھیں، بلال نے قیدیوں کی رہائی کی اسکیم جذبات سے مغلوب ہو کر بنائی تھی، اسے سب سے پہلے تو یہ معلوم کرنا چاہیے تھا کہ قید خانے کے اندر کی دنیا کیسی ہے، اس نے محمد حارث علافی کے ساتھ مل کر یہ طے کیا تھا کہ وہ راستے میں حائل ہونے والے سنتریوں کو مار ڈالیں گے اور ان کے ہتھیار قیدیوں کو دے دیں گے پھر وہ سنتریوں پر غالب آ کر قید خانے کا بڑا دروازہ کھلوائیں گے اور باہر آ جائیں گے، پھر تمام قیدیوں کو مکران بھیج دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   محمدبن قاسم…قسط نمبر/7

بلال نے تین ساتھیوں کو وہیں چھوڑا جہاں انہوں نے کمند ڈالی تھی، وہ کونے والی ایک برجی کی طرف چل پڑا وہ جھک کر یا دبے پاؤں نہیں چل رہا تھا بلکہ اس کی چال ایسی تھی جیسے وہ اس قید خانے کا دروغا ہو، وہ چونکہ کئی برسوں سے محل کے حفاظتی دستے میں تھا اس لئے وہ وہاں کی فوجی اصطلاح اور مخصوص آواز میں باتیں کر سکتا تھا۔
جب وہ برجی کے قریب پہنچا تو وہاں کے سنتری نے اسے پکارا ۔۔۔کون ہے؟،،،،
اوئے،،،، سنتری نے کہا۔
ہاہاہا ۔۔۔بلال نے کہا ۔۔ادھر ہی کھڑا رہ۔ سنتری اسے قید خانے کا کوئی عہدہ دار سمجھ کر برجی کے اندر ہی کھڑا رہا، بلال نے تلوار نکالی برجی کے اندر اندھیرا تھا برجی کوئی جھوپڑی کمرہ نہیں تھ،ا معمولی سی موٹائی کے چار ستونوں پر چھت کے اوپر برجی ہر طرف سے کھلی تھی بلال نے اس کے اندر جاتے ہیں تلوار کی نوک سنتری کی شہ رگ پر رکھ دی، برچھی تلوار پھینک دے،،،، بلال نے کہا۔
سنتری نے دونوں ہتھیار اتار کر پھینک دیے، بلال نے اسے فرش پر
بٹھا دیا اور تلوار اس کی شہ رگ پر ہی رکھی۔
عرب کے قیدی کہاں ہیں؟،،،، بلان نے اس سے پوچھا۔۔۔صحیح بتا اور فوراً بتا۔
سنتری نے اسے بتایا کہ وہ تہ خانے میں ہیں۔ راستہ بتا۔۔۔ بلال نے کہا۔۔۔ اور یہ بھی بتا کہ کوٹھریوں کی چابیاں کہاں ہوگی؟
میں تمہیں سب کچھ بتاؤں گا ۔۔۔سنتری نے کہا ۔۔۔نہ یہ قید خانہ میرے باپ کا ہے نہ میرا باپ یہاں کا راجہ ہے، ہم تو پیٹ کے خاطر نوکری کر رہے ہیں، نہ تم میری جان کے پیچھے پڑو ،نہ میں تمہارے راستے میں آتا ہوں۔ میری گردن سے تلوار ہٹا لو۔
بلال نے اس کی گردن سے تلوار ھٹالی، اب بولو ۔۔۔بلال نے کہا۔
میں نے تمہارے ساتھ دوستوں کی طرح بات کی ہے۔۔۔ سنتری نے کہا۔۔۔ میرے ساتھ دوستوں کی طرح بولو اگر تم اکیلے ہو یا پانچ سات آدمی ہوں تو میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ یہیں سے واپس چلے جاؤ۔
کیوں؟
اگر تم قیدیوں کو رہا کرانے آئے ہو تو نہیں کرا سکو گے۔۔۔ سنتری نے کہا ۔۔۔میں تمہیں کہتا ہوں کہ تمہارا جو ارادہ ہے وہ مجھے بتاؤ پھر میں تمھیں صحیح راستہ بتاؤ گا، اگر مجھ پر اعتبار نہیں تو جو پوچھتے ہو وہ بتا دیتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ بہت بری طرح ناکام ہو گے۔
پہلے یہ بتاؤ کہ تمہیں میرے ساتھ ایسی محبت کیوں پیدا ہوگئی ہے ؟،،،،بلال نے پوچھا۔۔۔ کیا تم موت سے اتنا زیادہ ڈرتے ہو، ایک میں ہوں جو اپنے وطن کے قیدیوں کی خاطر اپنی جان پر کھیل رہا ہو ،اور ایک تم ہو،،،،
میں کس کی خاطر اپنی جان پر کھیلوں۔۔۔ سنتری نے کہا۔۔۔ ان بے گناہوں کی خاطر جنہیں لوٹ کر یہاں بند کر دیا گیا ہے، ایسا گناہ راجہ مہاراجہ ہی کر سکتے ہیں ،میں اس وجہ سے اپنی جان دینے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوگا کہ عرب کے ان بے گناہ قیدیوں کو کوئی چھڑانے آئے تو میں راستے میں آ جاؤں اور انہیں رہا نہ ہونے دوں، اگر میرا بس چلے تو میں خود کوٹھریاں کھول کر انہیں باہر نکال دوں ،اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ان قیدیوں کی وجہ سے ہمارے ملک پر آفت آ رہی ہے، یہ آفت تمہارے وطن عرب سے آئے گی، میرا خیال تھا کہ تمہیں اتنی عقل نہیں ہو گی۔۔۔ بلال نے سنتری سے کہا۔۔۔ لیکن تم دانشمندی کی باتیں کر رہے ہو۔
تم ٹھیک کہتے ہو میرے عربی دوست!،،،، سنتری نے کہا۔۔۔ مجھے یہ باتیں میرے باپ نے بتائی ہیں، وہ کہتا ہے کہ ہمارا راجہ ایک بار عربی فوج کو شکست دے کر خوش ہو رہا ہے ،لیکن وہ عربوں کو اچھی طرح نہیں جانتا، عربی لشکر ایک بار پھر آئے گا، ہمارا راجہ اپنے آپ کو آسمانوں کا دیوتا سمجھ بیٹھا ہے، اسے ابھی اس کے بہت بڑے گناہ کی سزا ملنی ہے، اس نے اپنی بہن کو بیوی بنا رکھا ہے ۔
اب مجھے بتاؤ جو میں پوچھتا ہوں۔۔۔ بلال نے کہا ۔
سنتری نے اسے وہاں سے نیچے اترنے کا راستہ دکھایا اور چابیوں کے متعلق بتایا کہ وہ سنتری کے پاس نہیں ہوتی، چابیاں ایک اور کمرے میں رکھی جاتی تھیں، وہ کمرہ باہر سے مقفل ہوتا تھا یہ قید خانے کا دفتر تھا، وہاں دو سنتری موجود رہتے تھے، کمرے کی چابی ان کے پاس ہوتی تھی، یہ دونوں سنتری عام قسم کے سپاہی نہیں بلکہ عہدے دار ہوتے تھے ،سنتری نے اسے یہ بھی بتایا کہ سارے قیدخانے میں سنتری کہاں کہاں موجود ہوتے ہیں۔

اس سنتری کے سر پر پگڑی تھی بلال نے جھپٹا مار کر اس کی پگڑی اتار لی اور بجلی کی سی تیزی سے اسے اوندھے منہ فرش پر گرا دیا، بڑی تیزی سے اس کے دونوں ہاتھ پیٹھ پیچھے کرکے پگڑی کے ساتھ باندھ دیے، اسی پگڑی سے اس کے پاؤں باندھے اور جو پگڑی بچ گئی تھی وہ پھاڑ کر اس کے منہ پر باندھ دی، میں تمہیں جان سے نہیں مارونگا۔ میرے دوست!،،،، بلال نے کہا ۔۔۔لیکن میں تم پر اعتبار بھی نہیں کرسکتا، کوئی آئے گا تو تمہیں کھولے گا۔
بلال اس جگہ واپس آ گیا جہاں اس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے، انہیں ساتھ لے کر وہ پھر اسی برجی میں واپس گیا اس برجی کے فرش پر ایک موٹا تختہ رکھا ہوا تھا وہ ہٹایا تو اس کے نیچے سیڑھی لگی ہوئی تھی چاروں اس سیڑھی سے اتر گئے سنتری نے جو راستے بتائے تھے وہ بھول بھلیوں جیسے تھے، بعض جگہ ایسے پتہ چلتا تھا جیسے وہ غار میں سے گزر رہے ہوں، ان اندھیرے راستوں میں سے گزر کر وہ اس کمرے میں پہنچے جہاں سنتری نے بتایا تھا کہ چابیاں رکھی جاتی ہیں ،وہاں سلاخوں والا ایک دروازہ تھا جو کھلا ہوا تھا یہ ایک ڈیوڑھی تھی جس کے دوسری طرف باہر والا دروازہ تھا یہ بہت ہی مضبوط دروازہ تھا جس کے اندر کی طرف دو بہت بڑے تالے لگے ہوئے تھے، یہ بڑے قلعوں کے دروازوں جیسا تھا، اس ڈیوڑھی کے دائیں اور بائیں دو کمرے تھے ایک کے باہر تالا لگا ہوا تھا اور دوسرا کھلا ہوا تھا، بلال اور اس کے ساتھی کمرے میں گئے جو کھلا ہوا تھا ڈیوڑھی میں دو مشعلیں دیواروں کے ساتھ لگی ہوئی جل رہی تھیں، بلال نے ایک مشعل اپنے ہاتھ میں لے لی اور چاروں کمرے میں داخل ہوگئے۔
دو چارپائیاں پڑی ہوئی تھیں جن پر دو آدمی سوئے ہوئے تھے، انہوں نے ان دونوں کو جگایا وہ ہڑبڑا کر اٹھے ننگی تلوار دیکھ کر وہ خوف سے کانپنے لگے۔
تہ خانے کی چابیاں نکالو۔۔۔بلال نے کہا۔۔۔ اور باہر کے دروازے کی چابیاں بھی ہمارے حوالے کر دو۔
ان میں سے ایک کمرے کی دیوار کے ساتھ جا کھڑا ہوا اور وہاں سے ایک پتھر نکالا ،کسی اجنبی کو شک بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ پتھر دیوار میں سے الگ کیا جا سکتا ہے، سنتری نے دیوار میں ہاتھ ڈال کر ایک چابی نکالی اور بلال کے آگے کر دی۔
میں تہ خانے اور صدر دروازے کی چابیاں مانگ رہا ہوں۔۔۔ بلال نے کہا۔۔۔ سنتری ڈرا ہوا کمرے سے نکلا اور اس نے سامنے والے مقفل کمرے کا تالا کھولا پھر اس نے بلال کی طرف دیکھا، بلال مشعل لے کراس تک گیا ،وہ بلال کو کمرے میں لے گیا، ایک دیوار کے ساتھ بڑی بڑی چابیوں کے گچھے لٹک رہے تھے وہ گچھے اتار کر بلال کو دے دیے اور اسے بتایا کہ تہ خانے کی کوٹھریوں کی چابیاں کونسی ہے، اور صدر دروازے کی تالوں کی کون سی ۔
یہ خاصا فراخ کمرہ تھا۔ ایک دیوار کے ساتھ تو چابیاں لٹک رہی تھیں اور دو دیواروں کے ساتھ بہت سی چابیاں رکھی ہوئی تھی، اور دیوار سے تلواریں اور بھالے بھی لٹک رہی تھیں، ان چاروں نے ان دونوں سنتریوں کو انہی کی پگڑی ویسے اسی طرح باندھ دیا جس طرح بلال نے برجی والے سنتری کو باندھا تھا۔
باہر نکل کر انہوں نے اس کمرے کا دروازہ بند کیا اور تالا لگادیا ،مشعل دیوار کے ساتھ لگا دی جہاں سے بلال نے اتاری تھی، اور چاروں قید خانے کے اندر چلے گئے۔
وہاں بارکوں کی طرح پتھروں کے لمبے لمبے کمرے تھے ،اور کہیں ایک ہی قطار میں کوٹھریاں تھیں، ہر کمرے اور کوٹھری میں مشعل جل رہی تھی قیدی سوئے ہوئے بھی تھے اور کراہ بھی رہے تھے، کمروں سے مشعلوں کی روشنی باہر آرہی تھی، اس روشنی میں بارکوں اور کوٹھریوں کے سنتری ٹہلتے دکھائی دے رہے تھے، یہ چاروں ساتھی ان بارکوں اور کوٹھریوں کے عقب سے گزرتے جا رہے تھے۔
اس طرح وہ سنتریوں سے بچتے بچاتے اس جگہ تک پہنچ گئے جہاں تہ خانہ تھا، یہ ایک غار سا تھا جس کے دور اندر روشنی تھی ،برجی والے سنتری نے بلال کو بتایا تھا کہ اس غار جیسی جگہ میں خاصہ آگے جا کر دائیں کو گھومنا ہے وہاں سے بڑی چوڑی سیڑھیاں تہ خانے میں اترتی تھیں، اس رہنمائی کے مطابق یہ چاروں عربی آگے ہی آگے بڑھتے گئے اور اس جگہ پہنچ گئے جہاں سے سیڑھیاں نیچے اترتی تھیں، نیچے دو مشعلیں جل رہی تھیں جن کی روشنی اوپر تک آرہی تھی ،تہخانے میں اتر کر بلال نے نعرہ لگانے کے انداز سے کہا۔۔۔ خدا کی قسم آج تم سب اس جہنم سے نکل آئے ہو۔
قیدی سوئے ہوئے تھے آدھی رات کے بہت بعد کا وقت تھا بلال کی للکار پر سب جاگ اٹھے اور شوروغل بپا ہوگیا۔
خاموش رہو !،،،،،،بلال نے کہا۔۔۔ ابھی تمہارا ایک اور سفر باقی ہے ہوسکتا ہے ہمیں لڑنا پڑے ،جس طرح اچانک شور اٹھا تھا اسی طرح خاموشی طاری ہوگئی ،بلال نے پہلی کوٹھری کے تالے میں چابیاں لگائی تو تالا نہ کھلا یہ تو چابیوں کا پورا گچھا تھا ،بلال ایک ایک چابی تالے میں ڈال کر گھمانے لگا کوئی ایک بھی چابی تالے کو کھول نہ سکی۔
معلوم ہوتا ہے ہمارے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔۔۔ بلال کے ایک ساتھی نے کہا ۔۔۔اس کافر نے ہمیں غلط چابیاں دے دی ہیں۔
چاروں ایک ہی کوٹھری کے سامنے اکٹھے کھڑے تالے میں چابیاں ڈال رہے تھے، ایک ہلکا سا زناٹہ اس کے ساتھ دھیما سا ایک دھماکا ہوا اور اس کے ساتھ ایک آدمی کی کرب ناک ہائے سنائی دی سب نے بدک کر دیکھا بلال کا ایک ساتھی آگے کو جھکا ہوا تھا اس کی پیٹ میں برچھی اتری ہوئی تھی اور وہ گر رہا تھا، باقی ساتھیوں نے اوپر دیکھا اوپر والی آخری سیڑھی پر چھ سات آدمی کھڑے تھے، ان کے ہاتھوں میں دور سے پھینکنے والی برچھیاں تھیں ،بلال نے دیکھا کہ ان میں وہ سنتری بھی تھا جس نے دیوار کی برجی میں بلال کو راستہ بتایا تھا اور جسے بلال نے اس کی پگڑی سے باندھ آیا تھا۔
میرے عربی دوست!،،،،، اس سنتری نے اوپر کھڑے کھڑے کہا ۔۔۔۔میں نے تمہیں خبردار کردیا تھا کہ نیچے نہ جاؤ لیکن تم نے مجھ پر اعتبار نہ کیا ،تمہارا خیال تھا کہ میں شاید ساری رات بندھا رہوگا ،مجھے معلوم تھا کہ کچھ ہی دیر بعد مجھے کھولنے والے آجائیں گے، تمہارے ساتھ میں نے دوستی کا حق ادا کیا تھا اب میں ان کا حق ادا کر رہا ہوں جن کا نمک کھاتا ہوں، یہاں سے کبھی کوئی قیدی نکل کے نہیں گیا، اب تم بھی یہیں رہو گے، اس قید خانے سے صرف جلاد تمہیں رہائی دلاسکتا ہے۔
تلواریں پھینک دو۔۔۔ یہ سنتریوں کے عہدے دار کی آواز معلوم ہوتی تھی، اس نے کہا۔۔۔ تلواریں پھینک کر اوپر آ جاؤ ورنہ برچھیاں تمہارے جسموں سے پار ہو جائیں گی۔
دوستوں!،،،،،، بلال نے اپنے ساتھیوں سے آہستہ سے کہا۔۔۔ ان لوگوں نے زندہ تو ہمیں پھر بھی نہیں چھوڑنا ،آؤ لڑ کر مرتے ہیں۔
چاروں کے ہاتھوں میں تلواریں تھیں وہ کمانوں سے نکلے ہوئے تیروں کی طرح سیڑھیاں چڑھ گئے ،اوپر والے ہاتھوں میں برچھیاں لیے تیار تھے، بلال کے دو ساتھی ایک وار بھی نہ کرسکے اور سینوں میں برچھیاں لیے سیڑھیوں سے لڑکھڑاتے ہوئے نیچے آئے۔ بلال اور اس کے ساتھی نے ایک ایک آدمی کو لے لیا ان کی تلواریں اوپر والوں کے پیٹھوں میں اتر گئی تھیں، لیکن دونوں کو اور وار کرنے کا موقع نہ ملا، بلال کا ساتھی بیک وقت تین برچھیوں کے زد میں آگیا ،بلال کا پاؤں پھسلا اور وہ سیڑھیوں سے لڑھکتا ہوا نیچے گرا ،وہ اٹھ ہی رہا تھا کہ سنتریوں نے اسے دبوچ لیا اور زندہ پکڑ لیا، اسے گھسیٹ کر لے گئے اور اوپر لے جا کر ایک ایسی کوٹھری میں بند کردیا جو انسانی خون کی بدبو سے بھری ہوئی تھی ،یوں لگتا تھا جیسے یہاں ہر روز انسان زبح ہوتے ہیں، دیواروں پر خون کے چھیٹے لگے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   محمدبن قاسم....قسط نمبر/2

اگلے روز راجہ داہر اپنے محل کے خاص کمرے میں لمبےلمبےڈگ بھرتا ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر بڑے غصے میں ٹہل رہا تھا، اس کی بہن مائیں رانی جو اس کی بیوی بھی تھی سر جھکائے بیٹھی تھی۔
میں نے تمہارے کہنے پر ان چاروں کو محافظ دستے میں رکھ لیا تھا ۔۔۔راجہ داہر مائیں رانی سے کہہ رہا تھا۔۔۔ میں نے تمہاری بات مان لی ورنہ میں ایسا خطرہ کبھی مول نہ لیتا ،تمام ملک میں دیکھ لو نہ کوئی راجہ نہ کسی کی رعایہ کسی مسلمان پر بھروسہ کرتی ہے، گاؤ ماتا کا گوشت کھانے والے پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا، تم کہتی ہوں کہ میں نے پانچ سو عربی مسلمانوں کو اپنے سائے میں رکھا ہوا ہے کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ میں نے انھیں کہاں رکھا ہوا ہ،ے اور اب مکران کے اس علاقے میں جہاں وہ رہتے ہیں میں نے ان پر پہرے بٹھا دیے ہیں، ان کے اردگرد کچھ خانہ بدوش قبیلوں نے جا ڈیرے ڈالے ہیں، وہ خانہ بدوش نہیں وہ سب میری فوج کے سپاہی اور عہدہ دار ہیں جو اپنے بال بچوں کو ساتھ لےکر ظاہری طور پر وہاں خانہ بدوش کی طرح رہ رہے ہیں ،عرب سے ایک حملہ اور آئے گا میں اس خطرے کو نظرانداز نہیں کرسکتا کہ یہ اپنے بھائیوں کے دشمن ہوتے ہوئے بھی ان کا ساتھ دیں گے۔
میں نے انہیں وفا دار اور دیانت دار جان کر آپ سے کہا تھا کہ انھیں حفاظتی دستے میں رکھ لیں۔۔۔ مائیں رانی نے کہا ۔۔۔اسے میری ناتجربے کاری کہہ لیں،،،،، انہوں نے اپنے کیے کی سزا پا لی ہے ۔وہ جو زندہ پکڑا گیا ہے ،،،،بلال بن عثمان ،،،،اسے آپ عمرقید دیں گے یا،،،،،،،
میں ایسے نمک حرام کو جینے کا حق نہیں دے سکتا ۔۔۔راجہ داہر نے کہا۔۔۔ میں نے حکم دے دیا ہے کہ اس سے پہلے یہ اگلواؤ کہ اس کے ساتھ اور کون کون تھا ،ہو سکتا ہے اس کا رابطہ علافی کے ساتھ یا ان عربوں میں سے کسی اور کے ساتھ ھو، اور ان لوگوں نے اس کی پشت پناہی کی ہو، قید خانے والے اس سے اگلوا لے گے، اس نے کچھ نہ بتایا تو اسے جلاد کے حوالے کر دوں گا۔
مائیں رانی کے چہرے پر کوئی ایسا تاثر نہیں تھا جس سے پتہ چلتا کہ بلال کی قسمت کا یہ فیصلہ سن کر اس کا ردعمل کیا ہے، بلال سے اسے اتنی محبت تھی کہ اپنے ساتھ رکھنے کے لیے اس نے بلال کو محل کے باڈی گارڈ دستے میں رکھ لیا تھا، اور اس خیال سے بلال اسے چھوڑ کر چلا نہ جائے اس نے بلال کے چاروں ساتھیوں کو بھی باڈی گارڈ دستے میں رکھ لیا تھا، آج وہ بلال جس پر وہ مر مٹی تھی موت کے منہ میں آ گیا تھا اور یہ موت بڑی ہی اذیت ناک تھی۔
صبح سویرے سویرے قید خانے کے دروغہ نے راجہ داہر کو خود آ کر اطلاع دی تھی کہ رات کو قید خانے میں کیا ہوا ہے، داہر نے اسی وقت وہ حکم دے دیا تھا کہ بلال بن عثمان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے، اس نے بلال کی سزا بھی سنا دی تھی،،، موت،،، بلال کے ساتھیوں کی لاشوں کے متعلق داہر نے حکم دیا تھا کہ انہیں دفن نہ کیا جائے نہ جلایا جائے تینوں لاشیں باہر پھینک دی جائیں۔
بلال کے ساتھ وہ سلوک شروع ہوچکا تھا جس کا راجہ داہر نے حکم دیا تھا، اسے ایک بہت بڑے اور چوڑے پہیے پر پیٹھ کے بل لیٹا دیا گیا تھا ،اس کے بازو اوپر کرکے کلائیاں پہیے کے ساتھ باندھی گئی تھی، اور پاؤں فرش پر گاڑے ہوئے کنڈوں کے ساتھ رسی سے بندھے ہوئے تھے، پہیہ ایک ہی جگہ نصب تھا ،دو آدمی پہیہ کو ذرا سا چلاتے تھے تو بلال یوں محسوس کرتا تھا جیسے اس کے بازو کندھے سے اور ٹانگیں کولہوں سے الگ ہو رہی ہوں۔ بولو تمہارے ساتھ اور کون تھا ۔۔۔اس کے جسم کو یوں دونوں طرف کھینچ کر پوچھتے تھے۔۔۔ کیا مکران والے عرب تمہاری کارروائی سے واقف تھے؟،،،، بلال کے جسم سے پسینہ پھوٹ رہا تھا اور درد کی شدت سے اس کے دانت بج رہے تھے۔۔۔ نہیں!،،، وہ ہر بار کہتا میرے ساتھی یہی تین آدمی تھے جو مارے گئے ہیں۔
عربوں کے سردار علافی نے تمہیں کیا کہا تھا۔۔۔ اس سے پوچھتے تھے۔
میں کبھی مکران گیا ہی نہیں۔۔۔ بلال کا یہی ایک جواب تھا ۔
اسے کچھ دیر اسی طرح رکھتے تھے کہ اس کا جسم اوپر کو اور نیچے کھنچا ہوا ہوتا تھا، دوپہر تک اس پر غشی طاری ہونے لگی اسے پہیے سے کھولا گیا تو وہ گر پڑا ،کوشش کے باوجود وہ اٹھ نہ سکا ،اسے فرش پر ہی پڑا رہنے دیا گیا وہ پانی مانگتا تھا تو پانی کا پیالہ اس کے منہ کے قریب لے جا کر پیچھے کر لیا جاتا تھا، پیاس سے اس کا منہ کھل گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   محمدبن قاسم…قسط نمبر/8

رات کو اسے اسی کوٹھری میں پھینک کر دروازے کو تالا لگا دیا گیا جس میں اسے گزشتہ رات بند کیا گیا تھا ،اس کوٹھری کے تعفن میں اس کے اپنے پسینے کی بدبو بھی شامل ہو گئی تھی ،وہ اوندھے منہ فرش پر پڑا تھا چھوٹے بڑے کیڑے مکوڑے اس کے جسم پر رینگنے لگے، بعض کیڑے اسے کاٹتے تھے وہ جسم کو کھجلاتا اور تڑپتا تھا ،آدھی رات کے وقت کوٹھڑی کا دروازہ کھلا اور اسے گھسیٹ کر پھر وہی لے گئے جہاں وہ سارا دن پہیے کے ساتھ بندھا اور کھینچا رہا تھا، اب اس کے پاؤں سے دو رسیاں باندھ کر چھت کے ساتھ الٹا لٹکا دیا گیا، اس کے بازو نیچے کو لٹک رہے تھے، ہاتھ فرش سے چھے سات انچ اوپر تھے، اس حالت میں اسے ایک کوڑا مارتے اور پوچھتے تھے۔۔۔ کہو مکران والے عرب تمہارے ساتھ تھے۔
نہیں۔
چمڑے کے کوڑے کا زناٹا سنائی دیتا اور بلال کے جسم پر ایک اور گہری سرخ لکیر ابھرآتی۔
اور کون تھا تمہارے ساتھ؟
جو تھے وہ مارے گئے ہیں۔
او بدنصیب انسان !،،،،اسے آخر کہاں گیا ۔۔۔کیوں اتنی بری موت مرتے ہوں، سچ بولو اور عیش کرو،،،، تمہارے ساتھ ان تینوں آدمیوں کے علاوہ کوئی اور ضرور تھا۔
ہاں!،،،،، اس نے جواب دیا۔۔۔ میرے ساتھ اللہ تھا۔
اسے ایک اور کوڑا مارا گیا، اس کا الٹا لٹکا ہوا جسم کانپنے لگا۔
بلا اپنے اللہ کو۔۔۔ اسے کہا گیا۔۔۔ کہہ اسے وہ تجھے اور دوسرے قیدیوں کو چھوڑا لے۔ اللہ ان سب کو چھوڑ آئے گا۔۔۔ بلال نے کہا۔۔۔ اللہ آ رہا ہے۔
رات گزر گئی بلال بے ہوش ہو گیا اسے چھت سے اتار کر کوٹھری میں پھینک آئے اسے کھانے پینے کے لئے کچھ نہ دیا گیا صبح وہ ہوش میں آیا اور اب دوسرے طریقوں سے اس کے جسم کو توڑا جانے لگا، وہ دن بھی گزر گیا رات کو اسے تھوڑے سے وقت کے لئے آرام دیا گیا، پھر اسے اسی کمرے میں لے گئے وہ فوراً ہی بیہوش ہو گیا ۔
صبح راجہ داہر کو اطلاع دی گئی کہ بلال کسی اور کا نام نہیں بتاتا، جو ازیت اسے دی گئی ہے وہ سانڈ بھی برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔ راجہ داہر کو بتایا گیا ۔۔۔معلوم ہوتا ہے اس کے ساتھ یہی تین ساتھی تھے جو مارے گئے تھے، اور مکران کے عرب اس کی اس کارروائی سے ناواقف لگتے ہیں۔
جلاد کے حوالے کردو۔۔۔ راجہ داہر نے حکم دیا۔۔۔ لیکن اسے کھانے پینے کے لئے کچھ دے دو ،کسی کو بھوکا اور پیاسا مارنا اچھا نہیں ہوتا ۔
بلال کو کھانا دیا گیا پانی بھی دیا گیا ،اس سے اس کی زبان میں بولنے کی طاقت واپس آ گئی ،شام کو اسے بتایا گیا کہ اس کی زندگی کی آخری رات ہے۔
کوئی آخری خواہش یا بات ہو تو بتا دو۔۔۔ داروغہ نے اس سے پوچھا ۔
میری خواہش ایک ہی ہے۔۔۔ اس نے کہا۔۔۔ ان بے گناہ مسافروں کو رہا کر دو ،عورتوں اور بچوں کو ہی چھوڑ دو۔
یہ ہمارے بس میں نہیں ۔۔۔قُبلہ نے کہا ۔
میں نے مائیں رانی کی بہت خدمت کی ہے۔۔۔ اس نے کہا۔۔۔ اگر وہ یہاں آ سکے تو میں اسے آخری بار دیکھ لوں، اور اس سے معافی مانگ لوں۔
یہ بھی نہیں ہوسکتا۔۔۔ دروغہ نے کہا ۔۔۔رانی کو ہم کیسے بلا سکتے ہیں ۔
مرنے سے پہلے مجھ پر یہ کرم کرو۔۔۔بلال نے کہا۔۔۔مائیں رانی تک میرا پیغام پہنچا دو وہ آجائے گی، قید خانے کا حاکم اچھا آدمی تھا، اسے ایک خیال آ گیا۔
بلال !،،،،،، اس نے بلال سے کہا۔۔۔ اگر تمہیں یہ توقع ہے کہ مائیں رانی تمہارے پیغام پر آجائے گی تو اسے یہ بھی کہوں کہ تمہیں معافی دلا دے، وہ راجہ سے ہر بات منوا سکتی ہے، ہو سکتا ہے وہ تمہیں موت کی سزا سے بچا لے۔

صبح مائیں رانی قیدخانے میں آگئی، بلال کو بجا طور پر توقع تھی کہ مائیں رانی اس کے کہنے کے بیغیر ہی اسے معافی دلا دے گی۔
مائیں رانی رانیوں کی طرح آئی، اس کے ساتھ بڑی شاندار وردی میں دس بارہ محافظ تھے، وہ اس کوٹھری کے سامنے آن کھڑی ہوئی، سلاخوں میں سے اسے بلال فرش پر بیٹھا ہوا نظر آرہا تھا ،وہ گھٹنوں میں سر دیے بیٹھا تھا،مائیں رانی کے بلانے پر وہ اٹھا اور دروازے کے قریب آگیا۔
آ گئی رانی!،،،،، بلال نے کہا۔۔۔ مجھے امید تھی کہ تم ضرور آؤ گی۔
اور مجھے امید نہیں تھی کہ تم اتنا بڑا جرم کرو گے۔۔۔ مائیں رانی نے کہا ۔
میں اپنے وطن کے معصوم قیدیوں کو رہا کرانا چاہتا تھا۔۔۔ بلال نے کہا۔۔۔ یہ کام تم کر سکتی تھی لیکن تم نے ٹال دیا تھا۔
مجھے یہ بتاؤ کہ تمہیں اس کام پر کس نے اکسایا تھا ۔۔۔مائیں رانی نے پوچھا اور کہا۔۔۔ تم تو عقل اور ہوش والے آدمی تھے تم دوسروں کی باتوں میں آ گئے تھے، مجھے بتاؤ وہ کون ہے؟
اس سوال پر تو ان لوگوں نے میری ہڈیاں بھی توڑ دی ہیں۔۔۔۔بلال نے کہا۔۔۔ میرے جسم کے جوڑ الگ ہوگئے ہیں، میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں، کوئی جواب ہوتا تو میری یہ حالت نہ ہوتی۔
مائیں رانی محبت کا واسطہ دے کر اس سے پوچھنے لگی کہ اس کی اس کاروائی میں اور کس کس کا ہاتھ تھا ۔بلال اپنی زبان پر نہ لایا کہ اس نے اس اقدام کی اسکیم محمد حارث علافی سے مل کر بنائی تھی ۔
مائیں رانی بلال سے یہی راز لینے آئی تھی، ورنہ ایک رانی بلال جیسے مجرم کو ملنے نہ آتی۔
مائیں!،،،، بلال نے کہا ۔۔۔کیا تم مجھے سزائے موت سے بچا سکتی ہو ،راجہ صرف تمہاری بات مانتا ہے، مجھے بچا لو تو میں اس ملک سے ہی نکل جاؤں گا۔
نہیں!،،،،،، مائیں رانی نے کہا ۔۔۔میں نے تم سے ایک بات پوچھی ہے اور تم نے جھوٹ بولا ہے میرے ساتھ ۔
نہیں رانی نہیں۔۔۔ بلال نے کہا۔۔۔ کچھ سچ ہوتا تو میں بتا دیتا ،میں تمہارے ساتھ جھوٹ نہیں بول سکتا، تمہارے ساتھ میرا تعلق ایسا نہیں کہ میں تم سے کچھ چھپاؤں گا ،میں تو تم سے زندگی مانگ رہا ہوں رانی !،،،،مجھے بچا لو۔
بلال کی جسمانی حالت اتنی خراب تھی کہ وہ زیادہ دیر پاؤں پر کھڑا نہ رہ سکا اس نے سلاخوں کا سہارا لے لیا ،اس کی ذہنی حالت جسم سے زیادہ خراب تھی ایسی ظالمانہ اذیتوں نے اسے ذہنی لحاظ سے مردہ کر دیا تھا ،اسی لئے وہ زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا، وہ اپنی قدرتی حالت میں ہوتا تو یوں نہ گڑگڑاتا ۔
میں تمہیں نہیں بچا سکتی۔۔۔ مائیں رانی نے کہا۔
وہ وقت یاد کرو رانی!،،،، جب تم نے مجھ سے محبت کی بھیک مانگی تھی۔۔۔ بلال نے کراہتی ہوئی آواز میں کہا۔۔۔ پھر جس بے تابی سے تم مجھے چوری چوری اپنے پاس رکھتی تھی وہ ملاقاتیں نہ بھولو۔
محبت!،،،، رانی نے طنزیہ کہا۔۔۔ بلال وہ محبت نہیں تھی، اگر وہ محبت ہی تھی تو اس کا تعلق صرف جسم کے ساتھ تھا، مجھے تمھاری ضرورت تھی اور میں نے تمہیں ایسے ہی پالا تھا جیسے پالتو جانور کو گھر میں رکھتے ہیں ،وہ وقت گزر گیا ہے جوانی گزر گئی ہے، اسی لیے میں تمہیں کہا کرتی تھی کہ مذہب کا نام نہ لیا کرو ،اگر تمہاری محبت میرے دل میں اتری ہوئی ہوتی تو میں تمہاری خاطر تمہارے مذہب میں داخل ہو جاتی، یا پھر تمہیں اپنے مذہب میں داخل کرلیتی، اب تم ہمارے مجرم ہوں، اپنے جرم کو دیکھو اگر تم راجہ داہر ہوتے تو کیا تم ایسے مجرم کو بخش دیتے؟
مائیں رانی وہاں سے ہٹی اور تیز تیز چل پڑی۔ قُبلہ اس کے انتظار میں کھڑا تھا ۔
کیا حکم ہے مہارانی۔۔۔ قُبلہ نے پوچھا۔
وہی جو پہلے تھا۔۔۔مائیں رانی نے کہا۔
مائیں انی قیدخانے سے نکلی تو بلال کو کوٹھری سے نکالا گیا ،اس سے چلا نہیں جاتا تھا ،اسے گھسیٹ کر لے گئے اور قید خانے کے اندر ایک احاطے میں داخل کردیا ،اس کے ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ دیے گئے اور اس کے پاؤں بھی باندھ کر اسے گھٹنوں کے بل بیٹھا دیا گیا ،جلاد نے اس کا سر جھکا دیا اور ایک چوڑی تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا سر اس کے جسم سے الگ کر دیا۔

جاری ہے!