حکومت اسٹیل ملز کی نجکاری سے متعلق فیصلہ نہ کرسکی

کراچی: حکومت پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری سے متعلق کسی بھی فیصلے پر نہیں پہنچ سکی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی سطح پر چین، روس اور یوکرائن نے اسٹیل ملز کی خریداری یا بحالی میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ حکومتی سطح پر پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری یا بحالی کا منصوبہ ترک کردیا گیا ہے۔ اسٹیل ملزم اس وقت قومی خزانے کو روزانہ کی بنیاد پر 5 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خوردنی تیل کی قیمتیں بلندترین سطح پرپہنچ گئیں

ذرائع کے مطابق حکومت اسٹیل ملز کو لیز یا پٹرولیم بلاکس کی طرز پر اجارہ داری پر دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ وزارت بحری امور نے بھی اسٹیل ملز کو خریدنے یا پٹے پر لینے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، وفاقی کابینہ کل ادارے کو علی زیدی کی وزارت کے سپرد کرنے پر غور کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   سعودی عرب میں پاکستانی مصنوعات کی نمائش اور فوڈ فیسٹیول کا انعقاد

نجکاری کمیشن اسٹیل ملز کو پٹے پر دینے کے لیے الگ سے کام کررہی ہے تو دوسری طرف وزارت نجکاری ادارے کو اجارہ داری پر دینے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ سرمایہ کار اسٹیل ملز کی پیداواری صلاحیت 11 لاکھ ٹن سے30 لاکھ ٹن سالانہ کرنے کا پابند ہوگا، اسٹیل ملز کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ مارچ کے وسط تک کرلیا جائے گا۔