بارود کا پتا لگانے والا ’’سائبورگ ٹڈا‘‘

واشنگٹن: امریکی بحریہ کی فنڈنگ سے واشنگٹن یونیورسٹی، سینٹ لوئی کے سائنسدانوں نے ٹڈے کے سر پر ایک خاص طرح کا سرکٹ نصب کرکے اسے کئی اقسام کے دھماکا خیز مواد کی نہایت معمولی بُو سونگھ کر سراغ لگانے کے قابل بنالیا ہے۔

اگرچہ کسی سامان میں یا زیرِ زمین چھپائے گئے بارود یا کسی بھی دوسری قسم کے دھماکا خیز مواد کی تلاش میں فی الحال کتوں سے خاصی مدد لی جارہی ہے لیکن ماہرین بخوبی واقف ہیں کہ اس معاملے میں مختلف کیڑے مکوڑوں میں سونگھنے کی حس، کتوں سے بھی کئی گنا زیادہ تیز اور حساس ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جدید ایکسرے مشین تیار،سی ٹی اسکین سے 100 گنا بہتر

عام ٹڈا (لوکسٹ) بھی ایسا ہی ایک کیڑا ہے اپنے قدرتی انٹینا میں موجود ہزاروں حساسیوں (سینسرز) کی مدد سے ہوا میں موجود مادّوں کی بے انتہا معمولی مقدار بھی محسوس کرلیتا ہے اور پھر اسی حساب سے فوری کارروائی بھی کرتا ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں پروانوں، لال بیگوں اور جیلی فش سمیت کئی جانوروں پر الیکٹرونک سرکٹ نصب کرکے ان سے مختلف کام لینے کے تجربات کیے جاتے رہے ہیں۔ سائبورگ ٹڈے کی تیاری بھی اسی تسلسل میں ایک نئی کامیابی ہے۔

حالیہ تجربات کے دوران ٹڈے کو نرم لیکن مضبوط دھاگے کی مدد سے ایک چھوٹی سی روبوٹک ٹرالی پر باندھ دیا گیا جبکہ اس کے سر پر ایک چھوٹا لیکن طاقتور الیکٹرونک سرکٹ بھی نصب کردیا گیا جو اس کے انٹینا سے منسلک تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   دنیا کا وہ پہلا ملک جس نے سب سے بڑے فائیو جی نیٹ ورک کا آغاز کردیا

دھماکا خیز مواد کی بُو پاتے ہی ٹڈے کے انٹینا میں خاص طرح کی سرگرمی پیدا ہوتی جسے الیکٹرونک سرکٹ کی مدد سے نوٹ کرکے مزید تجزیئے کے لیے مرکزی سافٹ ویئر کو بھیج دیا جاتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران مختلف اقسام کے دھماکا خیز مادّوں کی موجودگی میں ٹڈے کے اعصاب میں اٹھنے والے اشاروں کے مخصوص نمونوں (پیٹرنز) کا ریکارڈ مرتب کیا گیا۔ اس ضمن میں ٹڈے کی کارکردگی اتنی زبردست تھی کہ اس نے ہر قسم کے دھماکا خیز مواد کی موجودگی، ایک سیکنڈ کے صرف ایک ہزارویں حصے میں پوری درستی سے معلوم کرلی۔

یہ بھی پڑھیں:   دنیا کاسب سے طاقتور ترین مقناطیس تیار

اگلے مرحلے میں دھماکا خیز مادّوں کی سراغرسانی کےلیے عملی محاذ پر قابلِ استعمال نظام تیار کیے جائیں گے جو ٹڈوں کی خداداد صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہوں گے۔

امریکی بحریہ کے تحقیقی شعبے ’’آفس آف نیول ریسرچ‘‘ نے 2016ء میں اس تحقیق کےلیے ساڑھے 7 لاکھ ڈالر گرانٹ دی تھی جو اب مکمل ہوچکی ہے.