مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس.پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے ٹیلی میٹری نظام نصب کرنے کا فیصلہ

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں ملک بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے ٹیلی میٹری نظام نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس آج اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔بعدازاں اطلاعات کے بارے میں معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے آج شام اسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس نظام کا پہلا مرحلہ چار ہفتوں میں جائزے کے بعد تیار کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پن بجلی کے خالص منافع کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور اس سلسلے میں ایک ماہ کے اندر سفارشات تیار کرنے کے لئے اعلیٰ سطح کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔معاون خصوصی نے کہا کہ توانائی کے منصوبے ہر صوبے کا حق ہے اور تمام صوبے توانائی کے کسی بھی منصوبے کی منظوری سے قبل نیپرا کو اعتماد میں لیں گے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں تیل کی تلاش اور پیداوار سے متعلق پالیسی کی بھی منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں مقامی صنعتوں کی پیداوار کا معیار بہتر بنانے کے لئے بھی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اجلاس کو حویلی شاہ بہادر اور بلوکی بجلی گھروں کے منصوبے کی نجکاری کیب ارے میں بھی بتایا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات کی ہدایت کی۔اجلاس میں صوبائی حکومتوں سے ملک میں یکساں نصاب تعلیم اور تعلیمی نظام کے لئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لئے بھی کہا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم نے اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ نامناسب قرار دے دیا

معاون خصوصی نے کہا کہ اجلاس میں قابل تجدید توانائی کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ تمام منصوبے قابل تجدید توانائی کے منصوبے شروع کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اوگرا آرڈیننس مجریہ 2002ء میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایل این جی کی رائلٹی مستقبل میں خریدوفروخت کی بنیاد پر مقرر کی جائے گی اور تمام صوبوں کو گیس کی رائلٹی کا تعین کرتے وقت اعتماد میں لیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ورکرز ویلفیئر فنڈکے سلسلے میں بھی پالیسی تیار کرے گی۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اجلاس میں صحت کی اصلاحات اور ہیپاٹائٹس کی روک تھام سے متعلق صوبوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔