محمدبن قاسم…قسط نمبر/5

Spread the love

مرتب؛ محمدساجداشرفی

پھر وقت گزرتا گیا اور داہر کے راجہ کی سرحدیں پھیلتی چلی گئیں، پھیلتے پھیلتے سرحد ملتان تک جاپہنچی سیستان اور کچھ علاقہ مکران کا بھی اس کی سرحدوں میں آگیا۔ اور جنوب میں مالوہ اور گجرات کا تھیاواڑ کے علاقے بھی راجہ داہر کے زیرنگیں ہوگئے۔
مائیں رانی بڑھاپے میں داخل ہوگئی ،بلال بن عثمان بھی بوڑھا ہونے لگا تھا ،وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر جیتے تھے۔
راجہ داہر کی حکمرانی تو وسیع ہوگئی لیکن اس کا ذہن تنگ ہو گیا، اس نے رعایا پر ظلم و تشدد شروع کردیا، اس وقت داہر کے ملک میں بدھ مت کے پیروکار زیادہ تھے داہر خود برہمن تھا بدھ مت کے پیروکار جاٹ تھے ،ان کی الگ تھلگ قوم تھی، داہر نے ان بدھو کا جینا حرام کر دیا ،ان کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کرنے لگا۔
عرب کی اسلامی حکومت کے ساتھ بھی اس نے دشمنی پیدا کر لی تھی، جب حجاج بن یوسف عراق کا حاکم تھا اس وقت راجہ داہر کی مجرمانہ اور معاندانہ کارروائیاں تیز ہو گئی تھیں، عرب سے جو باغی ادھر آئے تھے داہر انہیں اپنے ہاں پناہ دیتا اور انہیں اسلامی حکومت کے خلاف بھڑکاتا رہتا تھا ۔
حجاج بن یوسف کے دل میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی تھی، حجاج آدھی سلطنت کا حاکم تھا اور وہ ظالمانہ حد تک سخت گیر تھا، اس کے ڈر سے کئی باغی عراق سے بھاگ کر سندھ میں آگئے تھے اور راجہ داہر نے انہیں نہ صرف پناہ دی تھی بلکہ انہیں اسلامی حکومت کے خلاف زمین دوز تخریبی کارروائیوں کے لیے تیار کرتا رہتا تھا۔
یہ وہ وقت تھا جب حجاج بن یوسف کا بھتیجا محمد بن قاسم فارس کا حاکم گورنر تھا، اور اس کا دارالسلطنت شیراز تھا ،اس کی عمر سترہ سال تھی لیکن ذہنی لحاظ سے فہم و فراست اور تدبر کے لحاظ سے وہ تجربہ کار اور منجھے ہوئے ادھیڑ عمر آدمی سے زیادہ ذہین تھا، یہ ماں اور حجاج کی تعلیم و تربیت کا کرشمہ تھا۔ عسکری لحاظ سے وہ منجھا ہوا سپہ سالار تھا۔
فارس کے کرد باغی جنگجو تھے، فارس کا شہنشاہ بھی ان کی باغیانہ سرگرمیوں کے آگے بے بس ہوگیا تھا، محمد بن قاسم نے فن حرب و ضرب کی مہارت اور تدبر سے کردوں کو ایسی لگام ڈالی کہ کرد اس کے اشاروں پر ناچ چنے لگے تھے۔
اس سے پہلے محمد بن قاسم نے فارس کے ان علاقوں کو فتح کیا تھا جو ابھی سلطنت اسلامیہ میں شامل نہیں ہوئے تھے، اس وقت شیراز کو کوئی اہمیت حاصل نہیں تھی یہ معمولی سی ایک چھاؤنی تھی محمد بن قاسم نے تھوڑے سے عرصے میں کچھ علاقے فتح کیے پھر کردوں کے بے حد خطرناک فتنے کو ختم کیا، اور شیراز کو دارالسلطنت قرار دے کر اسے شہر بنانا شروع کیا ،آج کے شیراز کی بنیاد محمد بن قاسم نے رکھی تھی اور اپنی زندگی میں ہی اسے بڑا اور ہر لحاظ سے اہم شہر بنادیا تھا۔
اس یتیم اور کمسن مجاہد نے ابھی نقطہ عروج تک پہنچنا تھا اس کا بڑا ہی سخت امتحان ابھی باقی تھا ،عروج کی پہلی سیڑھی پر اس کا قدم اس وقت کے خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس روز دیکھ رکھا تھا جس روز محمد بن قاسم نے سالانہ کھیلوں کے مقابلے میں خلیفہ کے بھائی سلیمان بن عبدالملک کو شکست دی تھی، سلیمان کو توقع تھی کہ اس کا بھائی خلیفہ ہے اور وہ اس کی عزت بچا لے گا اور اس پر محمد بن قاسم کی فتح تو محض کھیل قرار دے گا ۔لیکن خلیفہ نے محمد بن قاسم کی جیت میں اسکے ڈھکے چھپے جوہر دیکھ لیے تھے۔
اسی روز خلیفہ نے محمد بن قاسم کو اپنے پاس بلایا اور اس کے ساتھ باتیں کیں، خلیفہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ یہ لڑکا غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہے وہ اسی عمر میں سپہ سالاری کی سطح کے امور کو سمجھتا اور ان کا تجربہ کر سکتا ہے۔
ابن یوسف !،،،،،،خلیفہ نے حجاج بن یوسف سے کہا ۔۔۔خدا کی قسم یہ لڑکا عظیم سالار بنے گا، اور آنے والی نسلیں اس کے نقش قدم پر چلیں گی، اس جیسے انسان اپنی قوم کے لئے خدا کا بہت بڑا انعام ہوا کرتے ہیں، اسے لے جاؤ یوسف کے بیٹے اسے سالاری کے عہدے پر رکھ لو ۔
مؤرخوں نے اس دور کے وقائع نگاروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ محمد بن قاسم کا رنگ گلابی ساتھا، آنکھیں بڑی تھیں،اور ان میں جو چمک تھی وہ دوسروں کو مسحور کر لیتی تھیں، پیشانی چوڑی تھی، بازو سیڈول اور لمبے تھے ،جسم بھرا بھرا تھا ،اور آواز بھاری تھی جس میں رعب اور جلال تھا لیکن زبان شیریں تھی، چہرہ کھلا رہتا اور ہونٹوں پر تبسم تھا۔

محمد بن قاسم بصرہ آیا ہوا تھا جہاں اس کا چچا حاکم تھا ۔
محمد !،،،،،حجاج نے کہا۔۔۔ مرنے سے پہلے میں اپنی ایک خواہش پوری کرنا چاہتا ہوں۔ کیسی خواہش چچا جان !،،،،محمد بن قاسم نے پوچھا۔
یہ ان خواہشوں میں سے ہے جو عزم بن جایا کرتی ہیں۔۔۔ حجاج نے کہا ۔۔۔میں سندھ کی راجدھانی کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اس ملک کو خلافت اسلامیہ کے زیر نگیں لانا چاہتا ہوں، مجھے یوں نظر آرہا ہے جیسے میرا یہ عزم تم پورا کرو گے۔
امیرالمومنین کے حکم کی ضرورت ہے۔۔۔ محمد بن قاسم نے کہا۔۔۔ میں آپ کا یہ عزم ان شاءاللہ پورا کروں گا۔
یہی ایک رکاوٹ ہے ۔۔۔حجاج بن یوسف نے کہا۔۔۔ امیرالمومنین ابھی اجازت نہیں دے رہا، میں اس کوشش میں ہوں کہ مجھے ایسا جواز مل جائے کہ میں امیر المومنین کو مجبور کر دوں کہ سندھ پر حملے کی اجازت دے دے، سندھ بلکہ ہندوستان سے اسلام کے خلاف بہت بڑا فتنہ اٹھ رہا ہے ،تمھارے اتالیق نے تمہیں بتایا ہوگا کہ جنگ قادسیہ میں سندھ کے راجہ نے فارسیوں کو اپنی فوج بھیجی تھی اور ہاتھی بھی دیے تھے۔
ہاں چچا جان !،،،،،،محمد بن قاسم نے کہا۔
اور اس سے دو سال پہلے جنگ سلاسل میں آتش پرستوں کی فوج میں ہندو چاٹ بھی تھے جو اپنے آپ کو زنجیروں میں باندھ کر لڑے تھے۔
یہ واقعہ 633 عیسوی (12 ہجری) کا ہے جب مسلمان فارس کی عظیم جنگی قوت کے خلاف لڑ رہے تھے اس جنگ میں خالد بن ولید سپہ سالار تھے اور ان کے مقابل فارسیوں کا مشہور جرنیل ہرمز تھا ،اس کی جارحانہ قیادت کی دہشت تمام عرب ممالک پر اور ہندوستان پر بھی طاری تھی، اس کے مقابل جو آیا اس نے بہت بری شکست کھائی، لیکن وہ خالد بن ولید کے مقابل آیا تو اس کے پاؤں کے نیچے زمین ہلنے لگی، اس سے پہلے فارس کی فوج خالد بن ولید کے ہاتھوں بہت ہی بری شکست کھا چکی تھی۔
فارسیوں اور سندھیوں کی آپس میں لڑائیاں ہوچکی تھی ،ان کے درمیان جنگ و جدل کا سلسلہ چلتا رہتا تھا ،ایک بار ہرمز نے سندھ پر بحری بیڑے سے حملہ کیا تھا ۔سندھی اس اچانک اور شدید حملے کی تاب نہ لا سکے ہرمز نے سندھ کے کسی علاقے پر قبضہ نہ کیا وہ مال غنیمت اور ہزاروں سندھیوں کو قیدی بنا کر لے گیا تھا، یہ سب ہندو جاٹ تھے۔
فارسیوں کو حضرت خالد بن ولید ہر میدان میں شکست دیتے آگے ہی آگے بڑھتے گئے تو ہرمز نے مجاہدین اسلام کو شکست دینے کے لئے یہ اقدام کیا کہ سندھ کے اس وقت کے راجہ کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرلیا تاکہ وہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں، دوسرا اقدام یہ کیا کہ اس کے پاس جو ہندو جاٹ قیدی تھے اور وہ غلاموں کی زندگی بسر کر رہے تھے ان سب کو ہرمز نے باعزت زندگی اور بہت اچھی تنخواہ پیش کرکے اپنی فوج میں شامل کر لیا یہ سب تجربے کار سپاہی اور عہدے دار تھے انہیں اس نے وہی حقوق دے دیے جو فارس کی اپنی فوج کو حاصل تھے اس کے علاوہ ان ہندو جاٹوں کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کی نفرت پیدا کی گئی۔
یہ تھے وہ سپاہی جو پانچ یا سات یا اس سے کچھ زیادہ کی ٹولی بنا کر اپنے آپ کو ایک زنجیر سے باندھ لیتے اور لڑتے تھے، اس طرح کسی ٹولی سے ایک دو سپاہی بھاگنا چاہتے تو بھاگ نہیں سکتے تھے، دوسرا فائدہ یہ تھا کہ ان کی دشمن فوج آگے بڑھتی تو سپاہیوں اور گھوڑوں کے قدموں کے آگے زنجیر آکر انہیں گرا دیتی تھی۔
میں جانتا ہوں چچا جان!،،،،، محمد بن قاسم نے حجاج سے کہا۔۔۔ ابن ولید کی ایک ایک بات جو مجھے اتالیق میں سنائی تھی میرے ذہن پر نقش ہے، ان زنجیروں کی وجہ سے اس جنگ کو جنگ سلاسل کہتے ہیں، یہ سب ہندوستان کے غیر مسلم سپاہی تھے یہ جنگ کاظمہ کے مقام پر لڑی گئی تھی اور ہرمز ابن ولید کے ہاتھوں ذاتی مقابلے میں مارا گیا تھا۔
پھر مجاہدین نے فارسیوں کو بڑی شرمناک شکست دی تھی۔
میرے جاسوس سندھ میں موجود ہیں حجاج نے کہا انہوں نے باغیوں کے بہروپ میں سندھ میں پناہ لے رکھی ہے وہ مجھے خبریں بھیجتے رہتے ہیں، راجہ داہر نے اپنا دماغ یہاں تک خراب کر لیا ہے کہ اس نے بحری قزاقوں کی پشت پناہی اور پرورش شروع کردی ہے۔
سراندیپ اور مالا بار سے مسلمان حج کے لئے آتے ہیں اور ہمارے تاجر ادھر جاتے آتے رہتے ہیں مجھے اطلاع مل رہی ہے کہ سندھی قزاق ان کے دو تین جہازوں پر حملے کر چکے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہوئے ان کی ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس بادبانی کشتیاں ہیں جن سے وہ بڑے جہاز کو روک نہیں سکتے، ایک جہاز پر انہوں نے جلتے ہوئے تیر بھی پھینکے ہیں، جہاز کے ملاحوں نے جہاز کا رخ پھیر لیا، صرف ایک بادبان کو جلتے ہوئے فلیتے والے دو تیر لگے تھے وہ بادبان جل گیا تھا ملّاحوں نے دوسرے بادبانوں کو بچالیا اور نکل آئے ۔
ہمیں ان جہازوں کی حفاظت کا کوئی انتظام کرنا پڑے گا ۔۔۔محمد بن قاسم نے کہا ۔
میں صرف ایک انتظام جانتا ہوں ۔۔۔حجاج بن یوسف نے کہا۔۔۔ اگر سندھ پر قبضہ نہ ہوسکے تو سندھ کا ساحل ہمارے قبضے میں ہونا چاہیے، سندھ کی سب سے بڑی بندرگاہ دبیل ہے۔
امیرالمومنین سے اجازت لے دے ۔۔۔محمد بن قاسم نے کہا۔۔۔ پھر دبیل کی بندرگاہ مجھ سے لے لیں۔
میں اجازت لینے کی کوشش کروں گا۔۔۔ حجاج نے کہا ۔۔۔لیکن اجازت شاید نہ ملے ، میں راجہ داہر کی لاش عرب کے گھوڑوں کے قدموں تلے کچلے اور مسلے ہوۓ دیکھنا چاہتا ہوں، راجہ داہر اپنی بہن کا خاوند ہے ۔
دوسرے دن محمد بن قاسم شیراز چلا گیا۔

ایک مہینہ گزرا ہوگا دوپہر کے ذرا بعد کا وقت تھا بصرہ میں حجاج بن یوسف کھانا کھا کر آرام کر رہا تھا اسے باہر شور سنائی دیا ،اس کے محافظ شاید کسی کو روک رہے تھے، اس شور میں حجاج کو کسی کی پکار سنائی دی۔ یاحجاج۔۔۔ یاحجاج۔۔۔ یاحجاج۔۔۔ یاحجاج مدد ۔۔۔مدد یا حجاج۔۔۔ حجاج نے دربان کو بلایا اور پوچھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔
ایک خستہ حال آدمی ہے ،یا حجاج دربان نے کہا ،کہتا ہے، سراندیب سے آیا ہوں اور قزاقوں نے جہاز کو لوٹ لیا اور مسافروں کو قید کر لیا ہے۔
اسے فوراً لے آؤ۔۔۔ حجاج نے کہا ۔۔۔فوراً میرا منہ مت دیکھو۔
حجاج سے صبر نہ ہوا وہ دربان کے پیچھے پیچھے باہر نکل گیا، اس کے محل کے باہر ایک آدمی گھوڑے پر سوار تھا گھوڑا بری طرح ہانپ رہا تھا، اور یہ گھوڑا پسینے سے نہایا ہوا تھا، سوار کا سر جھکا ہوا تھا اس کی تھوڑی اس کے سینے کے ساتھ لگی ہوئی تھی، اس نے سر اٹھایا اس کی آنکھیں نیم وا تھیں، منہ کھلا ہوا اور ہونٹ سفید ہوگئے تھے، اس کے چہرے پر گرد تھی۔
یا حجاج ۔۔۔حجاج کو دیکھ کر وہ بولا اور گھوڑے سے اترتے گر پڑا، سنبھل کر اٹھا اور کہنے لگا سندھ کے قزاقوں نے جہاز لوٹ لیا اور مسافروں کو راجہ کے محل میں لے گئے ہیں، سوار کو پانی پلایا گیا، حجاج کے کہنے پر اسے اندر لے جانے لگے لیکن اس نے کہا کہ اسکی بات سن لی جائے۔ یہیں سن لو اس نے کہا ۔۔۔موت مجھے اتنی مہلت نہیں دے گی، میں عرب کی ایک بیٹی کی پکار لایا ہوں، یہ سن لیں، میں زندہ نہیں رہ سکوں گا۔
یہ واقعہ یوں ہوا کہ سراندیپ میں عرب کے مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی سراندیپ کا حکمران ان مسلمانوں کے اخلاق اور کردار سے بہت متاثر تھا، اس نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کے خلیفہ کے ساتھ دوستی کر لینی چاہئے، اس نے دوستی کا اظہار اسطرح کیا کہ آٹھ جہازوں میں تحائف لادے اور انہیں خلیفہ کو پیش کرنے کے لئے جہاز روانہ کردیئے، ان تحائف میں گھوڑے اور دیگر جانور بھی تھے، اور کچھ تعداد حبشی غلاموں کی تھیں، ان کے علاوہ بیش قیمت تحائف تھے یہ تحائف ان مسلمانوں کے ساتھ جا رہے تھے جو سراندیب سے عرب جا رہے تھے، ان میں کچھ تعداد تاجروں کی تھی جو آتے جاتے رہتے تھے، ان میں بعض اپنے عزیز رشتہ داروں سے ملنے جا رہے تھے، اور کچھ عمرہ کرنے جا رہے تھے، ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو سراندیپ میں پیدا ہوئے اور یہیں جوان ہوگئے تھے، وہ اپنا وطن دیکھنے کے لئے عرب جا رہے تھے، ان مسافروں کے ساتھ ان کی بیویاں اور بچے بھی تھے ان میں چند ایک ضعیف العمر بھی تھے۔
سراندیپ اور مالابار سے عربوں کے جو جہاز عرب کو جاتے آتے تھے ان کے ملاحوں کو کہا گیا تھا کہ وہ سندھ کے ساحل سے بہت دور رہا کریں، یہ سندھ کے قزاقوں سے بچنے کی ایک ترکیب تھی مگر یہ آٹھ جہاز جب سندھ کے ساحل سے ابھی پیچھے ہی تھے کہ موسم بگڑ گیا اور ہوا کا رخ بدل گیا اور ہوا کی کیفیت طوفانی ہو گئی، اس زمانے میں جہاز ہوا کے رحم و کرم پر چلا کرتے تھے، یہ جہاز چھوٹے بھی تھے انہیں راستے پر رکھنے کی بہت کوشش کی گئی ہوا اتنی تیز و تند اور مخالف ہوگئی کہ جہاز راستے سے ہٹتے ہٹتے سندھ کے ساحل کے قریب چلے گئے۔
اچانک ایک اور طوفان آگیا یہ انسانوں کا طوفان تھا جو بہت سی کشتیوں پر آیا تھا، یہ سندھی قزاقوں کا ایک گروہ تھا جو نکامراہ کہلاتا تھا۔ ان کی تعداد بے شمار تھی انہوں نے آٹھوں جہازوں کو گھیرے میں لے کر ان پر تیروں کا مینہ برسا دیا، پھر رسّے پھینک کر جہازوں پر چڑھ گئے، مسافر فوجی نہیں تھے کہ وہ مقابلہ کرتے ان میں سے جنہوں نے تلواروں سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی انہیں قتل کردیا گیا ،جہازوں میں بڑا ہی قیمتی سامان تھا قزاقوں نے یہ سارا مال تو لوٹنا ہی تھا، وہ مسافروں کو بھی پکڑ کر لے گئے مسافروں میں عورتیں بھی تھیں اور بچے بھی انہیں دبیل لے جایا گیا اور قید خانے میں ڈال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   محمدبن قاسم....قسط نمبر/4

اس خستہ حال سوار نے حجاج بن یوسف کو یہ سارا واقعہ سنایا ،اس کی آواز دبتی جا رہی تھی، اور زبان ہکلانے لگی تھی۔
حجاج نے اس کے آگے مشروب رکھے، اور کچھ کھانے کو کہا، مگر اس نے یہ کہہ کر کھانے پینے سے انکار کردیا کہ میں عرب کی ایک بیٹی کی پکار پہنچانے تک زندہ رہوں گا۔
وہ عرب کی سرزمین کی ایک جوان بیٹی ہے یا حجاج!،،،،، اس نے اٹک اٹک کر کہا۔۔۔میں اس کا نام نہیں جانتا وہ بنی یربوعہ کی خاتون ہے، جب ہم سب کو دبیل کے ساحل پر قزاقوں نے اتارا تو انہوں نے ہم سب کو کوڑے مارنے شروع کر دیے، وہ ہمیں مار مار کر آگے لے جا رہے تھے، بن یربوعہ کی یہ جوان عورت روک گئی اس نے عرب کی طرف منہ کرکے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا ئے اور چلّا چلّا کر کہا۔۔۔ یا حجاج اغثنی ۔۔۔یاحجاج اغثنی۔۔۔ (اے حجاج میری مدد کو پہنچ ،اے حجاج میری مدد کو پہنچ)
حجاج نے اس نیم جان سوار کی ہکلاتی لڑکھاتی زبان سے یہ الفاظ سنے تو وہ جوش میں اٹھ کھڑا ہوا اور بلند آواز میں بولا ۔۔۔لبیک ۔۔۔لبیک ۔۔۔میں حاضر ہوں ،میں حاضر ہوں۔
مورخ بلاذری نے اس عورت کا نام نہیں لکھا ،یہ لکھا کہ یہ یربوعہ قبیلے کی تھی بعض مورخوں نے یربوع لکھا ہے ،اور بعض نے یربوعیہ لیکن زیادہ تر نے یربوعہ لکھا ہے ۔
یا حجاج!،،،، اس سوار نے کہا ۔۔۔وہاں سے کوئی قیدی نہیں نکل سکتا تھا ،وہ ایک عرب تھا جس نے مجھے اور میرے ایک ساتھی کو وہاں سے نکالا، میں اور میرا یہ ساتھی قیدیوں کی قطار میں پیچھے تھے ،وہاں تو ہڑبونگ مچی ہوئی تھی، ساحل پر ٹوٹی پھوٹی کشتیاں پانی کے باہر پڑی ہوئی تھیں، ہمیں ان کے قریب سے گزارا جا رہا تھا، قزاق آگے تھے ایک آدمی آیا اس نے میرا بازو پکڑا اور عربی میں کہا جھک جائیں، ادھر اس نے اپنے ساتھی کا بازو پکڑ لیا اس طرح ہم دونوں جھک کر ٹوٹی ہوئی ایک بڑی کشتی کی اوٹ میں ہو گئے، اس عرب نے ہم دونوں کو دو کشتیوں کے درمیان بیٹھا کر چھپا لیا ،وہ بہت بوڑھا تو نہیں تھا لیکن جوانی سے اور آگے نکل گیا تھا۔
قزاق تمام قیدیوں کو ہانکتے ہوئے دبیل لے گئے، تو اس عرب نے کہا میرا نام بلال بن عثمان ہے میں نے جوانی میں اپنے آپ کو عرب سے جلاوطن کیا تھا ،خلافت نے مجھے باغی قرار دے دیا تھا، میں دبیل میں نہیں ہوتا یہاں سے بہت دور راجہ داہر کے محل میں ہوتا ہوں، میں اس کی رانی کا محافظ ہو وہ آج کل سمندر کی سیر کے لئے یہاں آئی ہوئی ہیں، میں نے دیکھا کہ یہ تو میرے وطن کے مسافر ہیں جنہیں قزاق پکڑ کر لا رہے ہیں، میں ادھر آ گیا میں زیادہ دیر یہاں رک نہیں سکتا میں تمہیں دو گھوڑے دوں گا سیدھا بصرہ پہنچو اور حاکم بصرہ کو اطلاع دو، راستے میں رکنا نہیں حجاج بن یوسف کو بتانا کہ یہ قزاق راجہ داہر کے اپنے آدمی ہیں اور راجہ نے دبیل کا جو حاکم مقرر کر رکھا ہے وہ ان قزاقوں کی پشت پناہی کرتا ہے، قزاقوں کے چنگل سے نکل بھاگنا ممکن نہیں تھا اتفاق کی بات تھی کہ رانی سمندر کی سیر کے لیے دبیل آئی ہوئی تھی اور بلال بن عثمان اس کے ساتھ تھا ،بلال نے کسی طرح دو گھوڑوں کا انتظام کردیا اور شام کے بعد دونوں کو دبیل سے نکال دیا۔
میرے ساتھی کا گھوڑا راستے میں پیاس اور تھکن سے گر پڑا۔۔۔ اس سوار نے حجاج بن یوسف کو بتایا ۔۔۔میرا ساتھی گھوڑے کے نیچے آگیا میں نے رک کر دیکھا گھوڑا تڑپ تڑپ کر مر گیا اور میرا ساتھی اس کے نیچے کچلا گیا ،میں نے پھر گھوڑے کو ایڑ لگا دی بہت آگے آکر اپنی ایک چوکی دیکھی وہاں سے گھوڑا بدلا پھر ایک چوکی سے یہ گھوڑا بدلا، میں پانی کا گھونٹ پینے کے لیے بھی نہیں روکا ۔
اسکی آواز ڈوبنے لگی، وہ چپ ہو گیا اس کی آنکھیں بند ہونے لگی، اس کے ہونٹوں سے سرگوشی پھسلی۔۔۔ یا حجاج اغثنی۔۔۔ اغثنی۔۔۔ اس کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔
حجاج بن یوسف کا یہ حال ہو گیا جیسے وہ آگ کا گولا ہو اور ہر طرف گھومتا اور اڑتا پھر رہا ہو۔

اس وقت مکران اسلامی سلطنت میں شامل تھا۔ حجاج نے محمد بن ھارون بن زراع نمری کو وہاں کا حاکم مقرر کیا تھا ۔حجاج نے داہر کے نام ایک خط لکھا جس میں اس نے لکھا کے اس نے عرب کے جن مسافروں کو اپنے قید خانے میں ڈال رکھا ہے انہیں باعزت طور پر رہا کرکے انہیں اسی جہازوں میں بٹھایا اور عرب روانہ کرے، اور وہ تمام سامان ایک ایک چیز ان جہازوں پر لاد کر بھیجے، اور عورتوں بچوں اور دیگر تمام مسافروں کو جو تکلیف دی گئی ہے اس کا معقول تاوان ادا کرے۔
حجاج نے خلیفہ کی مہر لگوانے کے بجائے اس خط پر اپنے دستخط کیے اور خط براہ راست راجہ داہر کو بھیجنے کی بجائے قاصد کے ساتھ مکران کے حاکم محمد بن ہارون کو اس تحریری حکم کے ساتھ بھیجا کہ وہ اپنے اعلی افسر کو اس قاصد کے ساتھ داہر کے پاس بھیجے، حجاج نے محمد بن ہارون کو یہ بھی لکھا کہ سندھ کے راجہ سے قیدیوں کی رہائی کی درخواست نہیں کرنی بلکہ اسے کہنا ہے کہ اس کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ ہمارے مسافروں کو رہا کردے، تمام مال و اموال جانور اور حبشی غلام واپس کر دے۔ حجاج نے محمد بن ہارون کو یہ بھی لکھا کہ اپنے جاسوس سندھ میں داخل کر دے اور جو جاسوس پہلے ہی وہاں موجود ہیں انہیں اور تیز کر دے۔
حجاج بن یوسف راجہ داہر پر بجلی بن کر گرنے کے بہانے ڈھونڈ رہا تھا ،آخر اسے ایسا جواز مل گیا کہ وہ انتقام کا شعلہ بن گیا ،اس کا چین اور سکون اور اس کی نیند اڑ گئی، راجہ داہر کے جواب کا انتظار کئے بغیر اس نے سندھ پر حملے کا منصوبہ بنانا شروع کردیا ۔
راجہ داہر کا جواب آگیا قاصد نے حجاج بن یوسف کو بتایا کہ وہ مکران کے حاکم محمد ہارون کے ایک اعلی افسر کے ساتھ سندھ کی راجدھانی برہمن آباد گیا راجہ داہر وہاں تھا، اسے حجاج کا تحریری پیغام دیا گیا جو عربی جاننے والے ایک آدمی نے پڑھ کر داہر کو اس کی زبان میں سنایا ،داہر کا ردعمل کچھ بھی نہ تھا جیسے وہ اپنی رعایا میں سے کسی نادار آدمی کی عرض سن رہا ہو، محمد بن ھارون کے ایلچی کو داہر نے اس کے رتبے کے مطابق تعظیم نہ دی، اس کے رویے میں بے رخی تھی اس نے مختصر سا جواب دیا کہ جہازوں کو بحری قزاقوں نے لوٹا ہے اور سندھ کا حکم اور قانون ان پر نہیں چلتا۔
مشہور ومعروف مورخ محمد قاسم فرشتہ نے یہ واقعہ تفصیل سے لکھا ہے۔ حجاج کے خط کا جواب جو داہر نے دیا تھا وہ بھی فرشتہ نے لکھا ہے ،فرشتہ لکھتا ہے کہ حجاج کا خط محمد بن ہارون کا خاص ایلچی لے کر داہر کے پاس گیا اور داہر نے یہ جواب دیا کہ جس قوم نے جہازوں کو لوٹا اور مسافروں کو قید میں رکھ لیا ہے وہ شوکت اور قوت رکھنے والی قوم ہے ،اور سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ تم اس قوم سے اپنا مال اور قیدی واپس لے لوگے۔
فرشتہ لکھتا ہے کہ راجہ داہر کے ان الفاظ کا دراصل مطلب یہ تھا کہ تمہارے جہازوں کو ہم نے لوٹا ہے اور تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   محمدبن قاسم…قسط نمبر/8

حجاج بن یوسف نے خلیفہ ولید بن عبدالملک کو ابھی تک اس حادثے سے بے خبر رکھا ہوا تھا۔ جب داہر کا جواب آگیا تو حجاج نے خلیفہ کے نام بڑالمبا پیغام لکھا اور داہر کا جواب بھی اس میں شامل کیا ،اس نے خط میں پورا واقعہ لکھا آخر میں اس نے لکھا کہ اسے سندھ پر حملے کی اجازت دی جائے۔
ایوان خلافت سے جواب آیا کہ حملہ نہ کیا جائے ۔
خلیفہ ولید نے کوئی وجہ نہ لکھی کہ حملہ کیوں نہ کیا جائے۔
حجاج اس جواب سے جل اٹھا اس نے خلیفہ کو ایک اور خط لکھا جس میں اس نے خلیفہ کی غیرت اور اس کے وقار کو بیدار کرنے کی کوشش کی ،اس نے یہ بھی لکھا کہ ان جہازوں میں جو عورتیں آ رہی تھی ان میں بیشتر عمرہ کرنے غالبا حج کے لئے آ رہی تھیں، اور اب وہ ایک ہندو راجہ کی قید میں ہیں۔
امیرالمومنین!،،،، حجاج نے آخر میں لکھا۔۔۔ معلوم ہوتا ہے آپ یہ سوچ کر حملے کی اجازت نہیں دے رہے کہ اتنی دور محاذ کھولنے پر بہت خرچ اٹھے گا ،میں امیرالمومنین سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس حملے اور اس کے بعد کی جنگ پر جو خرچہ آئے گا میں اگر زیادہ نہیں تو اس سے دوگنی رقم خزانے میں جمع کروا دوں گا ۔
خلیفہ نے حملے کی اجازت دے دی۔
حجاج نے اسی وقت فوج کے ان دستوں کو جنہیں اس نے پہلے ہی سندھ کی طرف کوچ کرنے کے لئے تیاری کا حکم دے رکھا تھا کوچ کا حکم دے دیا ،اس فوج کا سپہ سالار عبداللہ بن نبہان تھا ،کوچ بہت ہی تیز تھا دیکھتے ہی دیکھتے عبداللہ بن نبہان دبیل پہنچ گیا۔
حجاج سے ایک بھول ہو گئی تھی اسے جاسوسوں نے راجہ داہر کی جنگی طاقت کی صحیح رپورٹ دی تھی مگر اس نے داہر کی فوج کی لڑنے کی اہلیت کا صحیح اندازہ نہ کیا۔ وہ خوش فہمی میں مبتلا رہا۔
دوسری چوٹ یہ پڑی کہ عبداللہ بن نبہان پہلے روز ہی شہید ہو گیا ۔ مورخ لکھتے ہیں کہ عبد اللہ نے شجاعت اور قیادت میں کوئی کسر نہ رہنے دی لیکن وہ شہید ہو گیا اور فوج میں کھلبلی بپا ہو گئی، اس سے داہر کی فوج نے یہ فائدہ اٹھایا کہ قلعے سے باہر آکر بڑا شدید جوابی حملہ کیا مسلمان اس حملے کی تاب نہ لاسکے اور پسپا ہوگئے۔
حجاج نے یہ صدمہ سہ لیا، اور ایک اور سالار بدیل بن طہفہ کو سندھ پر حملے کا حکم دیا۔ حجاج بن یوسف نے اس شکست کا صدمہ سہ تو لیا لیکن اس نے نیند چین اور سکون اپنے اوپر حرام کرلیا ۔وہ طبعاً غصیلا آدمی تھا جابر تھا ۔اس کی فطرت میں قہر بھرا ہوا تھا ۔ظلم و تشدد پر اتر آتا تو لگتا تھا جیسے یہ شخص رحم کے نام سے بھی واقف نہیں۔
مسلمان قبائل کے وہ سردار جو خلافت سے باغی ہو مکران بھاگ آئے یہاں آباد ہو گئے تھے کسی نہ کسی شرط پر واپس اپنے وطن جا سکتے تھے، لیکن یہ حجاج بن یوسف کا خوف تھا جو انھیں واپس نہیں جانے دے رہا تھا، یہ سردار اموی خلافت کے ہی باغی تھے وہ جانتے تھے کہ خلیفہ شاید بخش دے، حجاج نہیں بخشے گا۔
وہ حجاج جس نے خلیفہ ولید بن عبدالملک بھی دوبکتا تھا شکست کو کس طرح برداشت کر لیتا، اسے جب اطلاع ملی تھی کہ اس کا بھیجا ہوا سالار عبداللہ بن نبہان شہید ہوگیا اور فوج بری طرح پسپا ہوئی ہے تو اس نے ایک اور سالار بدیل بن طہفہ کو بلایا اور اسے سندھ پر حملے کا حکم دیا۔
اور تم نے بھی میدان میں پیٹ دکھائی تو ان باغی سرداروں کے پاس چلے جانا جو مکران میں زندگی کے باقی دن پورے کر رہے ہیں۔۔۔ حجاج نے بدیل بن طہفہ سے کہا۔۔۔ ان پر عرب اور عراق کے دروازے بند ہوچکے ہیں، عبداللہ کی طرح وہیں مر جانا ،مجھے دبیل کا قلعہ اور داہر کی لاش چاہیے۔
تیرا اقبال بلند ہو ابن یوسف!،،،،، بدیل بن طہفہ نے کہا۔۔۔ عبداللہ نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی میں وہاں سے واپس آئے ہوئے سپاہیوں سے پوچھ چکا ہوں کہ سبب کیا ہوا اپنی شکست کا، سب نے اپنے سالار کی تعریف کی کہتے ہیں وہ دشمن سے مغلوب ہوکر نہیں مرا، وہ دشمن پر غالب آنے کے لئے ان کے قلب میں چلا گیا تھا ،مگر داہر ہاتھی پر سوار تھا ابن نبہان کی شجاعت اور شہادت پر سندھ کی ریت نہ ڈال ابن یوسف!،،،، تو امیر عراق ہے، خدائی طاقت اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کر۔
خدا کی قسم ابن طہفہ!،،،،، میں تیری جرات پر خوش ہوں۔۔۔ حجاج نے کہا ۔۔۔یہ ندامت ہے جو مجھ سے ایسی باتیں کرا رہی ہے ذرا سوچ خلیفہ سندھ پر حملے سے خوش نہیں تھا ،میں نے اسے بہت مشکل سے راضی کیا اور اس سے حکم لیا تھا ،مجھے شکست نے اتنا شرمندہ نہیں کیا جتنا امیرالمومنین کے اس پیغام نے بے حال کیا ہے جو شکست کی اطلاع ملنے پر اس نے مجھے بھیجا ہے ،اس نے کہا ہے کیا اب بھی نہیں سمجھو گے کہ میں نے تجھے سندھ پر حملے سے کیوں روکا تھا۔
کیا اب ایوان خلافت سے ہمیں حملے کی اجازت مل جائے گی؟،،،، بدیل نے پوچھا۔ مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔۔۔ حجاج نے کہا ۔۔۔یہ میری شکست ہے، یہ اسلام کی شکست ہے ،میں نے اسے فتح میں بدلنا ہے، میں امیرالمومنین کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ سندھ پر حملہ اور قبضہ کیوں ضروری ہے ،تو بھی سمجھ لے ابن طہفہ مجھے دو آدمیوں نے شکست دی ہے راجہ داہر نے، اور خلیفہ ابن عبد الملک نے، اگر تو نے بھی وہی کیا جو پہلے ہو چکا ہے تو میرے ہاتھ ہمیشہ کے لئے بندھ جائیں گے، اور وہ ہندی ان مسلمانوں کو کمزور اور بے آسرا سمجھنے لگیں گے جو ہندوستان کے ساحلی علاقوں میں اور سراندیپ میں آباد ہیں، سندھ کے ڈاکو ان کے جہازوں کو لوٹتے اور انہیں قیدی بناتے رہیں گے۔
ایسا نہیں ہوگا ابن یوسف!،،،،، بدیل بن طہفہ نے کہا۔
اور یہ بھی سوچ ابن طہفہ !،،،،حجاج نے کہا۔۔۔ مجھے اپنے وطن اور اپنے مذہب کی ایک بیٹی نے پکارا تھا وہ داہر کی قید میں ہے اس کی پکار مجھ تک پہنچانے والے نے میرے سامنے جان دے دی تھی۔

اس وقت جب بصرہ میں حجاج بن یوسف سالار بدیل بن طہفہ کو سندھ پر حملے کے لیے تیار کر رہا تھا راجہ داہر اپنی راجدھانی اروڑ میں اپنے خاص کمرے میں بیٹھا تھا، اس نے مکران میں مقیم عرب کے باغی سرداروں کے امیر محمد حارث علافی کو بلایا تھا۔
حجاج کے بھیجے ہوئے سالار عبداللہ بن نبہان کی شکست کے بعد داہر علافی کی یہ پہلی ملاقات تھی۔
کیا تم خوش نہیں ہو کہ میں نے تمہارے دشمنوں کو بھگا دیا ہے۔۔۔ راجہ داہر نے محمد حارث علافی سے پوچھا۔
نہیں !،،،،علافی نے کہا۔۔۔ یہ شکست بنو امیہ کی نہیں یہ اسلام کی شکست ہے ،یہ سلطنت اسلامیہ کی شکست ہے۔
پھر تم ہماری فتح پر خوش نہیں ہو،،، راجہ داہر نے کہا ۔
مہاراج !،،،،علافی نے کہا۔۔۔ آپ کی آنکھیں اور آپ کا چہرہ بتا رہا ہے کہ آپ میرے ساتھ کوئی خاص بات کرنا چاہتے ہیں ،کیا یہ بہتر نہیں کہ آپ نے مجھے جس بات کے لئے بلایا ہے وہ بات کریں۔
ہاں علافی!،،،،، راجہ داہر نے کہا۔۔۔ میں تمہیں اس لیے بلایا ہے کہ مجھے مشورہ دو، کیا عرب پھر حملہ کریں گے؟
اگر ان میں غیرت ہوئی تو ضرور حملہ کریں گے۔۔۔ علافی نے کہا۔۔۔ خلیفہ شاید منہ موڑ جائے، عراق کا امیر حجاج بن یوسف ہٹ کا پکا ہے، وہ اس شکست کو ہضم نہیں کرے گا، اس نے معلوم کر لیا ہوگا کہ آپ کی فوج کس طرح لڑتی ہے، وہ دوسری بار شکست نہیں کھائے گا ۔
کیا تم میری مدد کو نہیں آؤ گے؟،،،، راجہ داہر نے پوچھا ۔۔۔تمہارا وطن اب یہ ہے عرب نہیں ۔
مہاراج! علافی نے کہا۔۔۔ ہم جہاں کہیں بھی رہے ہمارا وطن عرب ہے، ہم اپنے ہموطنوں کے خلاف نہیں لڑیں گے۔
اگر عرب کی فوج نے پھر حملہ کیا تو مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہو گی۔۔۔ راجہ داہر نے کہا۔۔۔۔اس مدد کی جو قیمت مانگو گے دونگا۔کہو گے تو تم جہاں رہتے ہو اس علاقے کو تمہاری آزاد ریاست بنا دو گا وہاں تمہارا راج ہوگا۔
ہم آپ کی یہ مدد کریں گے کہ آپ کے خلاف نہیں لڑیں گے۔۔۔۔ علافی نے کہا ۔۔۔۔ہم غیر جانبدار رہیں گے۔
سوچ لو علافی!،،،،، داہر نے کہا۔۔۔ میں نے تمہیں آباد کیا ،میں تمہیں برباد بھی کرسکتا ہوں ،تمہیں اپنے ملک سے نکال سکتا ہو تم سب کو قید میں ڈال سکتا ہوں۔
مہاراج !،،،،،علافی نے کہا ۔۔۔ہمارے متعلق جو بھی فیصلہ کریں سوچ سمجھ کر کریں ،اور اپنے وزیر بدہیمن سے مشورہ کرلیں، میں ایک بار پھر آپ سے کہتا ہوں کہ ہم آپ کی یہ مدد کریں گے کہ عرب کی فوج نے حملہ کیا تو ہم غیر جانبدار رہیں گے، یہ مت بھولیں کہ آپ نے جن عربوں کو لوٹا اور انھیں قید میں رکھا ہوا ہے ان کے ساتھ ہمارا بھی کچھ رشتہ ہے ان میں عورتیں اور بچے بھی ہیں۔ آپ ہمیں ملک سے نکالنے کی دھمکی دے رہے ہیں اس کے جواب میں ہم اپنے قیدیوں کو رہا کرانے کا ارادہ کر سکتے ہےہیں، آپ نے تو دھمکی دی ہے ہم کچھ کر کے دکھائیں گے۔
میں تم لوگوں کو کس طرح یقین دلاؤ کہ میں کچھ نہیں جانتا یہ قیدی کہاں ہیں؟،،،، راجہ داہر نے کہا ۔۔۔نہ میں نے حکم دیا ہے کہ ان جہازوں کو لوٹ لیا جائے، جہازوں کو لوٹنے والے بڑے طاقتور قبیلے کے لوگ ہیں تم نے بھی مجھ پر وحی الزام عائد کردیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے تم پر بھروسہ اور اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔
مہاراج !،،،،علافی اٹھ کھڑا ہوا اور بولا ہم نے آپ کے ایک دشمن کو ایسا بھگایا تھا کہ آپ پر حملہ کرنے کی دوبارہ سوچتا ہو گا تو ڈر جاتا ہوگا، ہندوستان سے آپ کا کوئی اور دشمن اٹھے گا تو ہم اسے ہمیشہ کے لئے ختم کردیں گے ،لیکن عرب کے حملہ آوروں کے خلاف نہیں لڑیں گے، ہمارا اختلاف خلافت سے ہے ہم اپنے حکمرانوں کے خلاف ہیں اپنے مذہب اپنی قوم اور اپنی سلطنت کے خلاف نہیں۔
فرق کیا ہوا ۔۔۔راجہ داہر نے کہا ۔۔راجہ اور راج میں کوئی فرق نہیں ہوتا جو کوئی میری ذات سے باغی ہو گا اسے میں اپنے راج کا اپنی قوم کا اور اپنے ملک کا باغی اور غدار سمجھوں گا۔
اسلامی سلطنت میں کوئی راجہ نہیں ہوتا۔۔۔ علافی نے کہا۔۔۔ راج اللہ کا ہوتا ہے ،خلیفہ بادشاہ نہیں ہوتا، اور قوم رعایا نہیں ہوتی، کوئی شخص خلیفہ کے خلاف ہوجائے تو خلیفہ اسے خلافت یا سلطنت کا باغی نہیں کہے گا، لیکن مہاراج ان باتوں کو چھوڑیں میں آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم عربوں کے خلاف نہیں لڑیں گے۔

محمد حارث علافی راجہ داہر کی کوئی مزید بات سنی بے غیر وہاں سے نکل آیا، اس کا گھوڑا باہر کھڑا تھا وہ گھوڑے پر سوار ہوا اور وہاں سے چل پڑا، وہ محل سے کچھ دور گیا تو ایک آدمی اس کے راستے میں آگیا، اس آدمی نے السلام علیکم کہا تو علافی نے گھوڑا روک لیا۔
کون ہو تم؟،،،،، علافی نے اس سے اس خطے کی زبان میں پوچھا ۔
تیرا ہموطن ہوں۔۔۔ اس شخص نے عربی زبان میں جواب دیا۔۔۔ میرا نام بلال بن عثمان ہے۔ خدا کی قسم تیری آنکھوں کی چمک میں مجھے اپنے وطن کی ریت کی چمکتے ہوئے زرے نظر آرہے ہیں ۔۔۔علافی نے کہا ۔۔۔لیکن تو یہاں کیا کررہا ہے ؟،،،،،
میں محل کے محافظ دستے کا آدمی ہوں۔۔۔ بلال نے کہا۔۔۔ اور میں بنوں اسامہ میں سے ہوں، کیا تو میرے باپ کو نہیں جانتا؟،،،،،،،،،اسامہ ابن ہشام کو سب جانتے ہیں۔
آہ میرے عزیز!،،،،، علافی نے کہا۔۔۔ تو اس وقت چھوٹا ہو گا جب ہم نے وطن چھوڑا تھا، تیرا باپ چٹانوں کے جگر چاک کر دیا کرتا تھا، اپنے اللہ سے ڈرنے والے اس شخص سے سب ڈرتے تھے، وہ سردار نہیں تھا، خدا کی قسم اس کے آگے سرداروں کے سر جھک جایا کرتے تھے،،،، اور اب یہ بتا تو یہاں کیسے پہنچا ہمارے پاس کیوں نہ آیا؟
بلال نے علافی کو اشارہ کیا ،علا فی گھوڑے سے اتر آیا، اور دونوں اکٹھے چلنے لگے، بلال نے علافی کو بتایا کہ وہ کس طرح اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ یہاں پہنچا تھا، اس نے مائیں رانی کے ساتھ اپنے تعلقات کا ذکر نہ کیا۔
اور اب میں وہ بات کرتا ہوں جس کی خاطر میں نے آپ کو روکا ہے۔۔۔ بلال نے کہا۔۔۔ لیکن ڈرتا ہوں کہ آپ راجہ کے نمک خوار ہیں آپ پر راجہ کی اتنی مہربانیاں ہیں کہ ان سے آپ کا ایمان کمزور ہو گیا ہو گا ۔
تو نے یہ بات کیوں کہی عثمان کے بیٹے!،،،، علافی نے پوچھا۔
کفار کی بعض مہربانیوں کا وزن اتنا زیادہ ہوتا ہے۔۔۔ بلال نے کہا۔۔۔ اتنا زیادہ کہ اس کے نیچے ایمان چٹخنے لگتا ہے ۔میں نے یہ بات اس لئے کہی ہے کہ راجہ داہر نے عرب کے جہاز لوٹے ہیں اور تمام مسافروں کو قید خانے میں ڈال دیا ہے، ان میں عورتیں اور بچے بھی ہیں ،عرب کی فوج آئی تو میں خوش تھا کہ قیدی آزاد ہوجائیں گے، لیکن ہماری فوج کو پسپا ہونا پڑا۔
وہ کہہ جو تیرے دل میں ہے ابن عثمان!،،،، علافی نے کہا ۔۔۔جو میں پہلے سے جانتا ہوں وہ مجھے کیوں بتا رہے ہو۔
کیا آپ قیدیوں کی رہائی کے لئے کچھ نہیں کریں گے؟،،،، بلال نے پوچھا ۔۔۔ کیا بنو امیہ کی جو عداوت آپ کے دل میں بھری ہوئی ہے وہ اپ کو کچھ نہیں کرنے دے رہی۔
علافی نے بلال کو بتایا کہ راجہ داہر کے ساتھ اس کی کیا باتیں ہوئی ہے۔
معلوم ہوتا ہے ولید بن عبدالملک ایک ہی شکست سے ان مسافروں کو بھول گیا ہے جو یہاں قید ہیں۔۔۔ بلال نے کہا۔
حجاج نہیں بھولے گا ۔۔۔علافی نے کہا۔۔۔ میں اسے جانتا ہوں وہ خون کے بدلے خون ہی لیا کرتا ہے ۔
میں انتظار نہیں کر سکتا ۔۔۔بلال نے کہا۔۔۔ میری رگوں میں جس باپ کا خون دوڑ رہا ہے اس باپ کو آپ جانتے ہیں ،مجھے مشورہ دینے والا کوئی نہ تھا آپ کو یہاں آتے دیکھا تو آپ کی واپسی کے انتظار میں راستے میں کھڑا ہو گیا ۔
کیا ارادہ ہے تیرا،،،،،،،،؟
میں قیدیوں کو رہا کرواؤنگا ۔۔۔بلال نے کہا۔ لیکن قید خانے سے نکل کر وہ جا ئیں گے کہاں؟،،،،،
کیا آپ پناہ دے سکتے ہیں؟
ابن عثمان علافی نے کہا ۔۔۔اگر تو قیدیوں کو رہا کرا لے تو انہیں ہمارے پاس لے آ، ہم انہیں اپنے پاس رکھیں گے اور موقع دیکھ کر انہیں کشتیوں میں بٹھا کر روانہ کردیں گے، لیکن تو انہیں رہا کیسے کرائے گا،،،،،؟
رات کو قید خانے میں داخل ہونا پڑے گا ۔۔۔بلال نے کہا۔۔۔ اپنی جان پر کھیلنا پڑے گا، ہوسکتا ہے ہم قید خانے میں کسی طرح داخل ہو جائیں اور واپس ہی نہ آئیں۔
کتنے آدمی اندر جاؤ گے؟،،،،،
زیادہ نہیں ۔۔۔بلال نے جواب دیا۔۔۔ تین یا چار آدمی ہونگے ۔
بلال اور علافی چلتے رہے اور قیدیوں کو فرار کرانے کا منصوبہ بناتے گئے۔ قلعے کا دروازہ آگیا ۔
علافی نے بلال سے کہا کہ وہ واپس چلا جائے، بلال واپس آ رہا تھا، تو اس کے ذہن میں قیدیوں کے فرار کا منصوبہ قلابازیاں کھا رہا تھا ،علافی نے مدد کا وعدہ کیا تھا اور اسے بڑی اچھی ترکیب بتائی تھی، بلال کو مائیں رانی پر غصہ آ رہا تھا کہ اس نے کوئی مدد نہیں کی تھی، اب مائیں رانی کی جوانی میں وہ بات نہیں رہی تھی جو اس وقت تھی جب وہ پہلی بار بلال سے ملی تھی، لیکن وہ بوڑھی بھی نہیں ہو گئی تھی، وہ رانی تھی عمر آگے بڑھ گئی تھی لیکن رانی جیسی پیچھے رہ گئی تھی، وہ اب بھی بلال کو تنہائی میں بلاتی اور کچھ دیر اپنے پاس رکھتی تھی۔
جب عربوں کے جہاز لوٹے گئے اور ان کے مسافروں کو قید خانے میں ڈال دیا گیا تو بلال نے مائیں رانی سے کہا تھا کہ وہ راجہ داہر سے کہے کہ قیدیوں کو رہا کردے۔
نہیں بلال!،،،،، مائیں رانی نے کہا تھا اپنے بھائی پر میرا ذرا سا بھی اثر نہیں۔۔۔ وہ میری بات نہیں مانے گا۔
بلال نے رانی کو محبت کا واسطہ دے کر کہا تھا کہ وہ راجہ داہر سے بات کرکے تو دیکھیں۔ لیکن مائیں رانی نے بلال کو ٹال دیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ راج کے کاموں میں دخل نہیں دے سکتی ۔
مائیں رانی نے بلال کو صاف ٹال دیا تھا پھر بھی بلال کے دل میں مائیں کے خلاف ذرا سی بھی خفگی نہیں تھی، اس نے بالکل صحیح سمجھ لیا تھا کہ مائیں رانی راجہ داہر کے آگے مجبور ہے اور وہ مائیں کی دخل اندازی پسند نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں:   رمضان المبارک میں ان عادات و کاموں سے دور رہیں گے تو مکمل صحت کے ساتھ اس ماہ مقدس کی برکات سے مستفید ہو سکیں گے. انتخاب ایم آر شاہد

ادھر سندھ میں علافی اور بلال قیدیوں کی رہائی کی اسکیم بنا چکے تھے۔
ادھر بصرہ میں حجاج بن یوسف اپنے سالار بدیل بن طیفہ کو آخری ہدایت دے رہا تھا ۔ان دنوں سالار بدیل عمان میں اپنی فوج کے ساتھ ہوتا تھا ۔
حجاج نے اسے وہاں سے بلایا تھا۔
ابن طہفہ!،،،،، حجاج نے کہا۔۔۔ تو تو سمجھ چکا ہوگا کہ سندھ پر حملہ اور قبضہ کیوں ضروری ہے، میں تو پہلے ہی سندھ کے تمام تر ساحلی علاقے پر قبضہ کرنے کے منصوبے بناتا رہتا تھا اس کا مقصد تو بھی سمجھتا ہوگا۔
ہاں ابن یوسف!،،،،، بدیل بن طہفہ نے کہا۔۔۔ سراندیب وغیرہ سے ہمارے جہاز اسی صورت میں باحفاظت آسکتے ہیں کہ سندھ کے ساحلی علاقے ہمارے قبضے میں ہوں۔
خدا کی قسم تو میرے دل کی باتیں جانتا ہے۔۔۔ حجاج نے کہا۔۔۔۔ اور تو یہ بھی جانتا ہوگا کے امیرالمومنین امن پسند انسان ہے، وہ آرام اور اطمینان سے حکومت کرنا چاہتا ہے، اس طرح کے حکمران دشمن کو بھی دوست سمجھ لیا کرتے ہیں ،لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ دشمن دشمن ہی رہتا ہے، اور جو دوست ہوتے ہیں وہ بھی دشمن بن جاتے ہیں، یہ تو میں تجھے بتا چکا ہوں کہ امیرالمومنین نے مجھے سندھ پر حملے سے روک دیا تھا، اب میں بھی اس سے پوچھے بغیر حملہ کر رہا ہوں ۔
کیا امیرالمومنین بگڑے گا نہیں،،،سالار بدیل نے پوچھا۔
بگڑے گا تو کیا کر لے گا۔۔۔ حجاج بن یوسف نے جواب دیا۔۔۔ مجھے اپنی قوم کی غیرت عزیز ہے ،خلافت کے تخت پر بیٹھ کر ولید بن عبدالملک کو یہ احساس بھی نہیں رہا کہ ہم اس طرح ایک لٹیرے ہندو راجہ سے دب گئے تو کل وہ ہمارے ساتھ براہ راست چھیڑ چھاڑ شروع کردے گا، برہمن کی ذہنیت کو میں جانتا ہوں جس مہاراجہ نے اپنی سگی بہن کو بیوی بنا کر رکھا ہوا ہے اس پر کس طرح بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔
ایک اور بات پر تو نے غور نہیں کیا ابن یوسف!،،،، سالار بدیل نے کہا ۔۔۔سندھ کے راجہ نے پانچ سو عرب مسلمانوں کو پناہ دے رکھی ہے، میں نے سنا ہے یہ عرب اس کی ایک لڑائی میں بھی لڑ چکے ہیں اور انھوں نے اس کے ایک طاقتور دشمن کو شکست دی ہے، کیا ایسا نہیں ہو گا کہ یہ عرب ہمارے خلاف لڑائی میں شامل ہوجائیں۔
ہوسکتا ہے۔۔۔۔ حجاج نے کہا ۔۔۔میں نے جاسوسوں کے ذریعے ان پر نظر رکھی ہوئی ہے ،ابھی تک کوئی ایسی اطلاع نہیں ملی کہ یہ عرب ہمارے خلاف اٹھیں گے، اگر وہ ہمارے خلاف میدان جنگ میں آئے تو ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے اور پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے، وہ ہمارے باغی ہیں، کچھ ایسے ہیں جنھیں ہم نے جلاوطن کیا تھا ،اور زیادہ تر ایسے ہیں جو خود چلے گئے تھے، ان کے دلوں میں بنو امیہ کے خلاف جو کدورت بھری ہوئی ہے وہ انہیں ہمارے خلاف ضرور اُکسائے گی، تجھے اس صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
ہاں ابن یوسف!،،،، سالار بدیل نے کہا ۔۔۔میں اس صورتحال کے لئے تیار ہوں لیکن ایک بات کہہ دیتا ہوں کہ امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زوال اسی روز شروع ہوگیا تھا جس روز مسلمانوں کی تلواریں آپس میں ٹکرائیں تھیں، میں پوری کوشش کروں گا کہ جو بھی میرے سامنے آئے وہ زندہ نہ رہے ،لیکن ابن یوسف میں ڈر رہا ہوں کے مسلمان پر تلوار اٹھاتے میرا ہاتھ کانپ جائے گا۔
پھر اس مسلمان کی تلوار تمہارا سر تمھارے جسم سے الگ کردے گی۔۔۔ حجاج نے کہا۔۔۔ میں خلیفہ کی اجازت کے بغیر اتنی بڑی اور اتنی دور جو جنگی کارروائی کررہا ہوں وہ اسلام کے وقار کے لیے ہی تو ہے، لیکن یہ مت بھولیں کہ جس طرح ولید بن عبدالملک مسند خلافت پر بیٹھے رہنے کے لیے اپنے سگے بھائی کا گلا کاٹنے سے بھی باز نہیں آتا اسی طرح میں بھی اپنی عمارت کے تحفظ کے لئے چند ایک مسلمانوں کا خون بہانے سے دریغ نہیں کروں گا ،میں خلافت کا وقار تو ہوں لیکن میں اتنا طاقتور بننا چاہتا ہوں کہ خلیفہ مجھ سے باز پرس کرنے کی جرات بھی نہ کرسکے ،اور ابن طہفہ تیری قسمت میرے ہاتھ میں ہے، اگر تو سندھ کو فتح کر لے گا تو میرے حکم سے تو ہی وہاں کا امیر ہو گا۔
حجاج بن یوسف کا کردار یہی تھا کہ وہ اس وقت کے خلیفہ کی طرح اقتدار پسند تھا لیکن قوم کے دشمن کو وہ دشمن سمجھتا تھا اس نے یہ اظہار نمایاں طور پر کر دیا تھا کہ وہ خود ایک طاقت بننا چاہتا ہے، لیکن راجہ داہر نے جن مسلمان مسافروں کو لوٹ کر قید میں ڈال دیا تھا ان کی رہائی کے لیے حجاج انتقام کے جذبے سے پاگل ہوا جارہا تھا، لیکن اسے شک بھی ہوجاتا تھا کہ فلاں کا سر اس کے اقتدار کے خلاف اٹھ رہا ہے تو وہ سر حجاج کی تلوار سے کٹ جاتا تھا۔
ابن طہفہ !،،،،،،حجاج نے سالار بدیل سے کہا۔۔۔ اب تم عمان واپس نہیں جاؤ گے، میں تمہیں صرف تین سو آدمی دے رہا ہوں، میں نے مکران کے امیر محمد بن ہارون کو پیغام بھیج دیا ہے کہ وہ تمہیں تین ہزار سوار دے گا، تم سیدھے مکران اس کے پاس پہنچ جاؤں وہ تمہیں آگے کی باتیں بھی بتادے گا ،میں نے جو جاسوس وہاں بھیجے ہوئے ہیں ان کا رابطہ محمد بن ھارون کے ساتھ ہے۔

جاری ہے………….