مودی سرکار مسلمانوں کو بے دخل کرنے کے لیے ”اسرائیلی ماڈل“پر عمل پیرا

Spread the love

بھارت میں شہریت کے متنازع ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور بھارتی فورسزکی ظالمانہ کاروائیوں سے اب تک درجنوں افراد جانوں سے ہاتھ دھوچکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں کئی شہروں میں مودی سرکار کی ہدایات کی روشنی میں زخمیوں کو طبی امداد بھی نہیں دی جارہی اور آرایس ایس کے غنذے ہسپتالوں اور پرائیویٹ کلینکس کو چیک کررہے ہیں اور طبی عملہ کو خبراد کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی اور خاندان کی سلامتی کے لیے زخمیوں کے علاج سے گریزکریں.

یہ بھی پڑھیں:   اقوام متحدہ نے خواتین کیلئے بڑا اعلان کر دیا

اسی طرح آرایس ایس کے دہشت گردوں اور مودی سرکار کی جانب سے میڈیا ہاﺅسزپر بھی شدید دباﺅ ہے کہ وہ آرایس ایس اور بھارتی پولیس کی ریاستی دہشت گردی کی کوریج کو مثبت اندازمیں پیش کریں. بتایا جارہا ہے کہ وزیرداخلہ امیت شاہ کی زیر سرپرستی آرایس ایس کے غنذے ملک بھر میں مسلمانوں کی املاک کے بارے میں تفصیلات جمع کررہے ہیں

یہ بھی پڑھیں:   افغان صدر کی تقریبِ حلف برداری دھماکوں سے گونج اُٹھی

اسی طرح مساجد اور مسلم وقف کے ملکیت جائیدادوں کی فہرستیں بھی تیار کی جارہی ہیں ‘رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے تشدد کے واقعات اور ہلاکتوں جو اعداد وشمار پیش کیئے جارہے ہیں وہ جعلی ہیں رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مودی سرکار دہلی سمیت مسلمان اکثریت والوں علاقوں میں فوجی اور نیم فوجی دستے تعینات کررہی ہے بعض بھارتی تجزیہ نگاروںکا خیال ہے کہ ملک میں کچھ ”بڑا“ہونے جارہا ہے .ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر 25کروڑ سے زیادہ بھارتی مسلمانوں کو چھیڑا گیا تو ملک میں بڑے پیمانے پر فسادات اور خانہ جنگی شروع ہونے کا خدشہ ہے اور مسلمانوں کے خلاف متعصب پالیسیوں سے بھارت کے مسلمان ممالک کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی آئے گی.

یہ بھی پڑھیں:   مودی سے ملاقات میں جرمنی کی سربراہ کشمیریوں کے حق میں بول پڑیں