خون میں گلوکوز سے چلنے والا گلوکومیٹر پیوند تیار

Spread the love

سعودی عرب: انسانی جسم میں دوڑتے لہو میں موجود گلوکوز کے ذریعے توانائی حاصل کرکے خود خون میں شکر کی مقدار ناپنے والا ایک آلہ بنایا گیا ہے جسے بدن میں مستقل طور پر ایک پیوند کی صورت میں لگایا جاسکتا ہے۔

دنیا بھر میں ذیابیطس کے شکار کروڑوں افراد کو دن میں کئی مرتبہ بلڈ شوگر معلوم کرنا ہوتی ہے کیونکہ خون میں شکر کی مقدار کو قابو رکھنا ضروری ہوتا ہے۔بار بار گلوکومیٹر سے خون کی شکر کی مقدار معلوم کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور متبادل کے طور پر خود جسم میں ایک پیوند لگانے کی تجاویز پیش کی جاتی رہی ہے لیکن اس پیوند کو برقی رو فراہم کرنا ہمیشہ سے ہی ایک مسئلہ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا آپ اپنے بالوں سے پریشان ہیں ؟

کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کے اے یو ایس ٹی) کے سائنسدانوں نے ایک نیا آلہ تیار کیا ہے جو جسم کے اندر خون اور دیگر مائعات سے اپنی بجلی بنا کر طویل عرصے تک گلوکومیٹر کو بجلی پہنچاتا رہتا ہے۔ اس کی تیاری میں زندہ جسموں کے لیے انتہائی موزوں بایو کمپٹیبل پالیمراستعمال کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام آباد ،موسم کی تبدیلی کے باوجود ڈینگی کنٹرول نہ ہو سکا، پولی کلینک میں 36 مریضوں میں ڈینگی کی تصدیق

اس کی تیاری میں این ٹائپ سیمی کنڈکٹر کے ساتھ ایک خاص خامرہ (اینزائم) گلوکوز آکسیڈیز بھی شامل کیا گیا ہے۔ جب یہ اینزائم اپنی اطراف میں گلوکوز سے ملتا ہے تو اس کے الیکٹران کھینچ کر پالیمر تک لاتا ہے اس طرح یہ جسم میں شکر کی مقدار بتاسکتا ہے یہاں تک کہ انسانی لعاب سے بھی گلوکوز کی خبر دے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   باقاعدہ ورزش موروثی ڈپریشن کو بھی دور کرتی ہے، تحقیق

اس میں پالیمر ایندھنی سیل کے لیے اینوڈ کا کام کرتا ہے اور اسے دوسرے پالیمر کی کیتھوڈ سے ملایا جاتا ہے۔ اس طرح وہ خون میں موجود گلوکوز اور جسم میں پائی جانے والی آکسیجن سے بجلی بناتا رہتا ہے اور اس پیوند کے لیے کسی قسم کی بیٹری کی ضرورت نہیں رہتی۔

کیٹاگری میں : صحت