پہلی بار عدالت نے نظریہ ضرورت پر انحصار نہیں کیا،اعتزاز احسن کاردعمل

Spread the love

اسلام آباد : پی پی رہنمااورقانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ مشرف کیس پاکستان کی تاریخ کا پہلا فیصلہ ہے جس میں عدالت نے نظریہ ضرورت پر انحصار نہیں کیابلکہ وہ کیا جو اس نے قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا ہے۔انہوں نے کہا یہ بڑا اہم اور ضروری فیصلہ ہے۔ان پر آرٹیکل چھ تو لگتا ہی تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے پر 3ماہ قید کی سزا سنا دی

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ججوں کو گرفتار کرلینے کااختیار تو کسی آرمی چیف کو نہیں دیا جاسکتا ۔مشرف نے دوسری بار یہ کام کیا تھا کہ وہ بھول گئے کہ انہوں نے وزیراعظم نوازشریف کو بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو گرفتار کیاتھا،ان کے ساتھ ان کے خاندان اور وزرا کو گرفتار کیاتھا۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے پاکستان کو 53 کروڑ ڈالر کی پیشکش

تین نومبر کی ایمرجنسی بھی سنگین جرم تھا۔آرمی چیف کو یہ اختیارکس نے دیا۔انہوں نے کہا مشرف نے دو مرتبہ مکمل غداری کااقدام کیا حالانکہ وزیراعظم نے اسے معطل کررکھا تھا۔ایک سوال کے جواب میں اعتزاز نے کہا جن لوگوں نے مشرف کی اعانت کی ان کی مدد کے مطابق انہیں جوابدہ ہونا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کا معاملہ، لڑائی نہ پہلی بار ہے اور نہ ہی آخری بار، فواد چوہدری