وزیراعظم کی توانائی کمپنی کو نادہندہ ہونے سے بچانے کیلئے مداخلت،تنازع حل کرادیا

Spread the love

اسلام آباد : وزیراعظم آفس کی مداخلت پر پاور ڈویژن نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کمپنی (این جے ایچ پی سی ) کو نادہندہ ہونے سے بچانے کے لیے پاور پرچیس ایگریمنٹ (پی پی اے ) پر باقاعدہ دستخط سے متعلق تنازع حل کردیا۔

رپورٹ کے مطابق 510 ارب روپے مالیت کے پاور پروجیکٹ نے گزشتہ برس اگست میں 969 میگاواٹ پیداواری صلاحیت حاصل کی تھی اور تب سے لے کر اب تک کسی ادائیگی کے بغیر نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کررہا ہے۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) اور این جے ایچ پی سی کے درمیان پی پی اے پر دستخط نہ ہونے کا نتیجہ 75 ارب روپے کے گردشی قرضے کی صورت میں نکلا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانیوالوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا اعلان کردیا

مختلف اعلی عہدیداران سے حالیہ ملاقاتوں میں این جے ایچ پی سی کے چیف ایگزیکٹو افسر بریگیڈیئر محمد زرین نے خبردار کیا تھا واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں حکومت کو سنگین سیاسی، مالی اور ساکھ سے متعلق خطرات ہوں گے۔تاخیری ادائیگیوں کی وجہ سے حکومت کو 75 ارب سے زائد گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے کنزیومر ٹیرف میں اضافہ کرنے کی ضرورت جبکہ حکومت اور واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کو ڈیفالٹ سے کی ضمانتوں کو بے نقاب کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   حمزہ شہباز ای سی ایل سے نام خارج ہونے کے بعد لندن روانہ

ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ وزیراعظم آفس نے مداخلت کی تھی اور پاور ڈویڑن کو جلد از جلد یہ معاملہ حل کرنے کی ہدایت کی تھی۔سیکریٹری پاور ڈویژن عرفان علی نے سی پی پی اور این جے ایچ پی کے نقطہ نظر سنے تھے جس کے بعد سی پی پی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوا تھا۔ جس نے دونوں اداروں کے درمیان پی پی اے پر دستخط کی منظوری دی۔عہدیدار نے بتایا کہ دونوں فریقین نے اپنے قانونی ماہرین کی جانب سے جانچ پڑتال کے بعد رواں ہفتے پی پی اے پر دستخط پر اتفاق کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت،مقبوضہ کشمیرکی صورتحال میں حالیہ تبدیلیوں نے دو قومی نظریے کی تائیدکی ہے،صدر،وزیر اعظم