بچوں کے ٹی وی دیکھنے اور موٹاپے میں تعلق کا انکشاف

Spread the love

اسپین: ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹی وی دیکھنے کی عادت بچوں میں موٹاپے کی وجہ بن سکتی ہے۔ اسپین میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ٹی وی کے سامنے زیادہ وقت گزارنے والے بچے تیزی سے اپنا وزن بڑھاتے ہیں اور آخرکار فربہی کے درجے میں شامل ہوجاتے ہیں۔

یہ اہم تحقیق بارسلونا میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف گلوبل ہیلتھ نے کی ہے جس میں 1480 ہسپانوی بچوں کا کئی برس تک بغور مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس میں بچوں کی پانچ عادات یعنی ورزش، نیند، ٹی وی بینی، سبزیاں کھانے اور پروسیس شدہ غذاؤں کی بابت خاص طور پر سوالات کیے گئے تھے۔ اس ضمن میں چار سال کے بچوں کے والدین سے بھی پوچھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا آپ اپنے بالوں سے پریشان ہیں ؟

پہلے چار برس کی عمر میں بچوں کے باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)، کمر کی چوڑائی اور بلڈ پریشر کو نوٹ کیا گیا؛ یہاں تک کہ ان کی عمر سات برس جاپہنچی اور اس وقت تک یہ تمام ٹیسٹ جاری رہے۔ اس کی تفصیلات پیڈیاٹرک اوبیسٹی نامی جرنل میں شائع ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کھانے کے بعد تھوڑا سا گڑ کھا لیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام پانچ رحجانات میں سے ٹی وی کا موٹاپے سے تعلق سب سے زیادہ مضبوط رہا۔ جو بچے چار سال کی عمر تک ٹی وی کے رسیا بن گئے وہ اپنا ہر کام ٹی وی کے سامنے کرتے تھے اور آخر کار سات برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ان میں وزن بڑھنے کے امکانات بڑھ گئے، وہ موٹاپے کی جانب مائل ہوئے اور ان میں میٹابولک سنڈروم جیسی کیفیت بڑھ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   دہی کا روزانہ استعمال قوتِ مدافعت بڑھائیں

لیکن جب دیکھا گیا کہ ٹی وی کی بجائے عین اتنی ہی مدت تک بچے ڈرائنگ، پڑھائی، معمے حل کرنے یا کسی اور سرگرمی میں مشغول رہے تو ان میں موٹاپا ظاہر نہیں ہوا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ٹی وی دیکھنے کا عمل جسم پر اثرانداز ہوکر وزن کو بڑھاتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت