محمدبن قاسم…قسط نمبر/4

Spread the love

مرتب؛ محمدساجداشرفی
مائیں رانی نے بلال کو دوسرے دن قلعے سے تھوڑی ہی دور ایک جگہ ملنے کو کہا تھا، دوسرے دن بلال چلنے لگا تو دوستوں نے اسے روک لیا، رات کو ہی وہ اس مسئلہ پر بحث و مباحثہ کرتے رہے تھے، اُس کے ساتھی کہتے تھے کہ رانی اسے دھوکے میں بلا کر گرفتار کروا دے گی، یہ شک بلال کے ذہن میں بھی تھا کیونکہ مائیں نے اسے کہا تھا کہ وہ اسے جاسوس سمجھتی ہے، اس نے اپنے ساتھیوں کو یہ بات بتائی تھی اسی لئے ساتھی اسے جانے سے روکتے تھے، لیکن بلال یہ بھی محسوس کرتا تھا کہ مائیں اسے دھوکہ نہیں دے گی۔
اگر جانا ہی ہے تو ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں گے۔۔۔ بلال کے ایک ساتھی نے کہا۔
تم کیا کرو گے؟،،،،، بلال نے پوچھا اور کہا۔۔۔ تم سب کو میرے ساتھ دیکھ کر وہ مجھے نہیں ملے گی، اور یہ بھی سوچو کہ اس کی نیت خراب ہوئی تو تم سب میرے ساتھ پکڑے جاؤ گے، بہتر ہے کہ مجھے خطرہ مول لینے دو ،اور تم یہیں ہی رہو، اس طرح یہ ہوگا کہ میں اکیلا پکڑا جاؤں گا ،اگر میں شام تک واپس نہ آیا تو سمجھ لینا کہ میں مصیبت میں گرفتار ہو گیا ہوں، پھر تم یہاں سے نکل جانا۔ اس کے ساتھی نہ مانے آخر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بلال اکیلا جائے اور وہ گھوڑے پر جائے تاکہ خطرے کی صورت میں وہاں سے بھاگ سکے، انہوں نے یہ بھی طے کر لیا کہ اس کے چاروں ساتھی اس جگہ سے جہاں بلال سے رانی نے ملنا تھا کچھ دور چھپے رہیں گے، اور خطرے کی صورت میں بلال کی مدد کو پہنچیں گے، بلال بن عثمان اپنے گھوڑے پر سوار ہوا برچھی ہاتھ میں لی اور چل پڑا ۔
اس نے جہاں پہنچنا تھا وہ جگہ اڑھائی تین میل دور تھی، مائیں نے اسے راستہ بتا دیا تھا۔

بلال جب چٹانوں، ٹیلوں ،اور کھڈنالوں کے علاقے سے نکل کر آگے گیا تو اسے کچھ دور ایک ایسا سرسبز خطہ دکھائی دینے لگا جیسے صحرا میں نخلستان ہوتا ہے، وہاں ہرے بھرے درختوں کے جھنڈ تھے، ان میں چھوٹے چھوٹے درخت بھی تھے، اور اونچے بھی، ان کے نیچے اونچی گھاس بھی تھی ،اور خودرو پودے بھی تھے، ادھر سے بلال کا گھوڑا چلا جا رہا تھا، ادھر سے ایک گھوڑا دوڑا رہا تھا، سیاہ رنگ کے اس گھوڑے کی سج دھج بتاتی تھی کہ شاہی اصطبل کا گھوڑا ہے، بلال بن عثمان نے دور سے پہچان لیا کہ گھوڑے کا سوار کوئی آدمی نہیں عورت ہے، وہ رانی تھی بلال بن عثمان کوئی ایسا کچا آدمی نہیں تھا اس نے اپنے آپ پر مائیں رانی کے حسن اور اسکی جوانی کو سوار نہیں کیا تھا ،اس نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور گھوڑا دوڑ پڑا لیکن گھوڑے کا رخ مائیں رانی کی طرف نہیں تھا بلکہ اس طرف تھا جہاں اس نے رانی سے ملنا تھا ،وہ رانی سے پہلے اس جگہ پہنچ گیا وہ جگہ بہت ہیں خوبصورت تھی اس کے اندر چھوٹی سی ایک جھیل بنی ہوئی تھی، اس کے اردگرد چھوٹی چھوٹی ٹیکریاں اور ان پر اونچی گھاس اور جھاڑیوں جیسے سر سبز پودے تھے، ان میں اور ٹیکریوں کے پیچھے بیک وقت کئی آدمی چھپ سکتے تھے ،یہ جگہ خاصی وسیع تھی۔
بلال گھوڑا دوڑاتا ہوا اس تمام علاقے میں گھوم گیا وہ دیکھتا پھر رہا تھا کہ رانی کے آدمی چھپے ہوئے نہ ہوں، اس کے سامنے اپنی سلامتی تھی اسے درختوں پر چہچہاتے ہوئے پرندوں کے سوا کوئی جاندار نظر نہ آیا، یہ چند ایک گلہریاں تھی جو اس کے گھوڑے سے ڈر کر درختوں پر چڑھ گئیں ،وہ تمام جگہ گھوم پھر کر جھیل کے کنارے پر آیا تو ادھر سے مائیں رانی کا گھوڑا اس خوبصورت جگہ داخل ہوا ،وہ کود کر گھوڑے سے اتری اور بچوں کی طرح ہنستی ہوئی بلال کی طرف آئی، بلال گھوڑے سے اتر کر آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا ،مائیں نے قریب آکر بے ساختی سے بلال کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اس ہاتھ کو چوم لیا، پھر اس نے اس ہاتھ کو اپنے کندھے پر رکھ لیا اور سرک کر بلال کے اتنے قریب ہوگئی کہ بلال کا بازو اس کے کندھے سے سرک کر اس کی پیٹھ تک پہنچ گیا، اس طرح مائیں بلال کے بازو میں خود ہی آ گئی، بلال نے اپنا بازو پیچھے کر لیا اور خود بھی ذرا پیچھے ہو گیا۔
کیوں ؟،،،،،،مائیں رانی نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔ کیا تمہیں اچھا نہیں لگا، کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو کہ میں اس دیس کی رانی ہوں، تمہیں ڈرنا نہیں چاہیے میں جانتی ہوں تم اپنے دیس کی رعایا میں سے نہیں، مجھے پتا چلا ہے کہ عرب سے بھاگ کر جتنے لوگ مکران میں آئے ہیں وہ سب سردار ہیں، یا سرداروں کے بیٹے ہیں، تم بھی اونچے طبقے کے آدمی معلوم ہوتے ہو۔
نہیں رانی!،،،،،، بلال نے کہا۔۔۔ میں ڈرتا نہیں میں حیران ہو رہا ہوں کہ ایک ملک کی رانی اکیلی قلعے سے اتنی دور آ گئی ہے کیا تمہارے محافظ بعد میں آئیں گے؟
نہیں!،،،،، مائیں نے جواب دیا۔۔۔ یہاں اور کوئی نہیں آئے گا ،میں ان رانیوں میں سے نہیں جو رعایا پر رعب ڈالنے کے لئے محافظوں کے پورے دستے کے ساتھ باہر نکلا کرتی ہیں۔
کیا راجہ نے تم پر اکیلے باہر نکلنے کی پابندی نہیں لگائی؟
نہیں!،،،،، مائیں نے جواب دیا۔۔۔ تمہیں حیران ہونا چاہیے کوئی رانی قلعے سے اتنی دور اکیلے نہیں جایا کرتی، لیکن میرا معاملہ کچھ اور ہے۔
وہ کیسے؟
یہ ابھی نہیں بتاؤنگی۔۔۔ مائیں نے جواب دیا۔۔۔ پہلے دیکھوں گی کہ تمہارا دل میری محبت کو قبول کرتا ہے یا نہیں، مجھے تمہاری محبت کھینچ لائی ہے، کیا تم مجھے محبت کے قابل نہیں سمجھتے؟
سمجھتا ہوں رانی!،،،،، بلال نے جواب دیا ۔۔۔لیکن میں اور بھی بہت کچھ سمجھتا ہوں ،تم نے میرے لیے بہت خوبصورت جال بچھایا ہے۔ میں نے سنا تھا کہ عرب کے لوگ ہمارے ملک کے لوگوں سے زیادہ عقلمند ہوتے ہیں۔۔۔ مائیں نے کہا۔۔۔ لیکن تم تو عقل سے بالکل ہی خالی ہو، کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہماری فوج پانچ آدمیوں کو پکڑ نہیں سکتی، تمہیں پکڑوانا ہوتا تو کیا رات کے وقت فوج کی تھوڑی سی نفری بھیج کر تمہیں تمہارے ساتھیوں سمیت نہیں پکڑا جاسکتا تھا۔
تم نے مجھے محبت کے قابل کیوں سمجھا ہے؟۔۔۔ بلال بن عثمان نے پوچھا ۔۔۔کیا تمہیں مجھ سے بہتر کوئی اپنے ملک کا آدمی نہیں ملا؟
میں رانی ہوں بلال !،،،،،مائیں نے کہا۔۔۔ ہو سکتا ہے تم سے زیادہ خوبصورت جوان میری محبت میں تڑپ رہے ہوں، لیکن وہ ایسی بات زبان پر نہیں لا سکتے، رانی کو رعایا دیوی سمجھتے ہیں، رانی کی لوگ پوجا کرتے ہیں، لیکن بلال آج ایک رانی ایک اجنبی کے پاس محبت کا پیغام لے کر آئی ہے، اجنبی بھی ایسا جو نہ جانے کون ہے اور کیا ہے، مجھے تو یقین سا ہو چلا ہے کہ ہم دونوں پچھلے جنم میں اکٹھے رہے ہیں ہم دونوں ایک تھے۔
میرا مذہب نہیں مانتا کہ انسان مر کر پھر دنیا میں آجاتا ہے۔۔۔ بلال نے کہا۔
محبت میں مذہب کو نہ لاؤ بلال!،،،، مائیں نے کہا۔۔۔ تھوڑی دیر میرے پاس بیٹھو میرا دل توڑ کے نہ جانا، اس نے بلال کو اپنے پاس بٹھا لیا، بلال میں وہ مردانہ حسن و جلال تھا کہ ہندوستان کی ایک رانی اس پر فریفتہ ہو جاتی، اور مائیں رانی کے حسن و جمال میں وہ جادو تھا کہ عرب کا ایک جوان آدمی اس کا گرویدہ ہو جاتا۔

جب بلال اور رانی اس روح پرور سبززار سے نکلے تو سورج بہت دور آگے نکل گیا تھا۔ درختوں کے سائے لمبے ہو گئے تھے ،بلال کے ساتھی دور ایک جگہ چھپے ہوئے تھے وہ اس جگہ کو دیکھتے رہے تھے جہاں بلال غائب ہو گیا تھا ،انھیں توقع تھی کہ قلعے سے فوج کے کچھ آدمی آئیں گے اور اس جگہ کو گھیرے میں لے کر بلال کو قتل کر جائیں گے، یا اسے پکڑ کر لے جائیں گے، لیکن کوئی بھی نہ آیا ۔
بلال واپس ان کے پاس آیا تو اس پر خمار سا طاری تھا، اس کے بولنے کا انداز ایسا تھا جیسے نشے میں ہو ،اس کے ساتھی اس سے کچھ اور پوچھتے تھے اور وہ کچھ اور جواب دیتا تھا، وہ رانی کی رومانی باتیں سناتا تھا، ساتھیوں نے اسے برا بھلا کہا تو وہ ذرا ہوش میں آیا۔
خدا کی قسم!،،،،، اس نے کہا۔۔۔ مائیں نے تم سب کا انتظام کردیا ہے، رانی ہمیں قلعے میں رکھ لے گی، وہ کل پھر آئے گی۔
دوسرے دن بلال بن عثمان پھر اس جگہ مائیں رانی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، دونوں کے والہانہ پن کا یہ عالم تھا جیسے ایک دوسرے میں تحلیل ہو جانے کی کوشش کر رہے ہوں۔
وہ درخت کی شاخ پر بیٹھے کبوتر اور کبوتری لگتے تھے جو پیار اور محبت میں مگن ہوتی ہیں۔
کیا اب بھی تم مجھ پر شک کرتے ہو؟،،،،،، مائیں نے بلال سے پوچھا۔۔۔۔ اپنے دل سے پوچھو کیا میں تمہیں پکڑا دوں گی ۔
یہ شک تو نہیں رہا کہ تم مجھے پکڑوا دوں گی۔۔۔ بلال نے کہا۔۔۔ لیکن مجھے اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ تم اپنے خاوند کو دھوکا کیوں دے رہی ہو، وہ اتنا بڑا راجہ ہے اور سنا ہے وہ تندرست اور توانا ہے، اور وہ بد صورت بھی نہیں، اور وہ بوڑھا بھی نہیں، پھر تم اسے محبت کے قابل کیوں نہیں سمجھتی؟
مجھے اس کے ساتھ اتنی محبت ہے کہ میں اسے اپنی زندگی بھی دے دوں۔۔۔ مائیں نے کہا ۔۔۔اسے کانٹا چبھ جائے تو میں اس طرح تڑپ اٹھتی ہوں جیسے یہ کاٹا میرے دل میں اتر گیا ہے، وہ چپ ہو گئی کچھ دیر بعد بولی، تم مانو گے نہیں میں تمہیں ایک عجیب بات بتانے لگی ہوں، راجہ داہر میرا خاوند ہے لیکن میں اس کی سگی بہن ہوں۔
بلال نے چونک کر مائیں کو دیکھا ،مائیں نے بات ہی ایسی کہ دی تھی جسے سچ مانا ہی نہیں جاسکتا تھا۔
میں سچ کہہ رہی ہوں بلال!،،،،، مائیں نے کہا۔۔۔ میں راجہ داہر کی بہن ہوں اور وہ میرا خاوند ہے، ہماری شادی اسی طرح ہوئی ہے جس طرح ہندوؤں کی شادی ہو اکرتی ہے۔ ہماری شادی پنڈت نے کرائی تھی، ہم مذہبی طور پر خاوند اور بیوی ہیں، لیکن جسمانی طور پر بھائی بہن ہیں، ہم بے اولاد مر جائیں گے، راجہ داہر مر جائے گا تو میں اس کی لاش کے ساتھ چیتا میں زندہ جل جاؤں گی۔
لیکن یہ شادی ہوئی کیسے؟،،،، بلال نے پوچھا۔۔۔ اس شادی کا مطلب کیا ہے؟
میں بتاتی ہوں۔۔۔ مائیں رانی نے کہا ۔۔۔اور اس نے بلال کو سنایا کہ بھائی نے اپنی سگی بہن کے ساتھ شادی کیوں کی۔

یہ بھی پڑھیں:   رمضان المبارک میں ان عادات و کاموں سے دور رہیں گے تو مکمل صحت کے ساتھ اس ماہ مقدس کی برکات سے مستفید ہو سکیں گے. انتخاب ایم آر شاہد

مائیں رانی نے اپنی شادی کا جو قصہ سنایا وہ ایک تاریخی واقعہ ہے، اس کی تفصیلات تاریخ معصومین اور چچ نامہ میں ملتی ہیں۔ داہر سندھ کا راجہ بنا تو اس نے اپنے ملک کا دورہ کیا، اپنے لوگوں سے ملا ،اور اپنی سرحدوں کا بھی جائزہ لیا ،اس کا یہ دورہ کئی مہینوں پر پھیلا ہوا تھا ،وہ جب واپس اپنی راجدھانی اروڑ آیا تو شہر کے تمام لوگ اس کے استقبال کے لئے راستے کے دونوں طرف کھڑے تھے ،انہوں نے اپنے راجہ پر پھول برسائے اور اس کے راستے میں پھولوں کی پتیاں بچھائیں۔
راجہ داہر نے اپنی راجدھانی کے لوگوں کی یہ فرمابرداری اور عقیدت مندی دیکھی تو اس نے اسی روز دربار عام منعقد کیا ،چند ایک سرکردہ افراد کو انعامات دیے اور لوگوں کو کھانا کھلایا، جب لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے تو وہ پنڈت اور وہ نجومی اسے تنہائی میں ملے ،اس کی مدح سرائی کی اور اسے دیوتا بنا دیا ۔
ہم نے مہاراج کا اور مہاراج کی بہن مائیں کے زائچے نکالے ہیں۔۔۔ ایک نجومی نے کہا ۔۔۔آنے والے کئی سالوں میں کوئی گڑبڑ نظر نہیں آئی، سوائے ایک خرابی کی۔
مائیں کے زائچے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مائیں کی شادی جس کسی کے بھی ساتھ ہو گی وہ سندھ کا راجا بنے گا۔
ہماری موت کے بعد۔۔۔ راجہ داہر نے پوچھا۔ نہیں مہاراج !،،،،،،نجومی نے کہا۔۔۔ وہ مہاراج کی زندگی میں ہی سندھ کا مالک بن بیٹھے گا۔
وہ کون ہوگا۔۔۔۔ راجہ داہر نے پوچھا ۔۔۔کہاں سے آئے گا؟
اندھیرا ہے مہاراج! ،،،،،،نجومی نے کہا،،،، قسمت جہاں اندھیرے میں چلی جائے وہاں جوتش اور نجوم کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں، یہ نظر آتا ہے دوسرے نجومی نے کہا کہ مائیں کا خاوند کہیں باہر سے نہیں آئے گا، اور مائیں یہیں ہی رہے گی۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ جو ہماری بہن کا خاوند ہوگا وہ ہمیں قتل کر دے گا۔۔۔ راجہ داہر نے پوچھا۔
بات صاف نہیں مہاراج!،،،،،،، نجومی نے کہا۔۔۔ یہ بالکل صاف ہے کہ مائیں کی شادی جس کسی کے ساتھ بھی ہوئی وہ سندھ کا راجہ ہوگا ۔
ہم نے اپنا فرض سمجھا ہے کہ مہاراج کو آنے والے وقت کے خطروں سے آگاہ کردیں۔۔۔ بڑے پنڈت نے کہا۔۔۔ مہاراج کچھ بندوبست کرلیں۔
راجہ داہر نے نجومیوں اور پنڈتوں سے یہ اگلوانے کی بہت کوشش کی کہ اس کی بہن کی شادی کے بعد اس کا انجام کیا ہو گا، لیکن نجومی اور پنڈت اس سے زیادہ کچھ بھی نہ بتا سکے جو وہ بتا چکے تھے، وہ پریشان ہو گیا ہندو نجمیوں اور پنڈتوں کی پیشن گوئیوں کو سو فیصد سچ مانا کرتے تھے، راجہ داہر تو کٹا برہمن تھا وہ نجومیوں کے نکالے ہوئے زائچے کو نظر انداز کرنے کی جرات ہی نہیں کرسکتا۔
نجومی اور پنڈت چلے گئے اور راجہ داہر کا سکون بھی ان کے ساتھ ہی چلا گیا، رات کو جب اس نے محسوس کیا کہ اسے نیند نہیں آئے گی تو اس نے اپنے وزیر کو بلایا ،اس کے وزیر کا نام بدہیمن تھا تاریخ میں لکھا ہے کہ راجہ داہر کو بدہیمن کی عقل و دانش پر مکمل بھروسہ تھا، وزیر جب اس کے پاس آیا تو اس نے بدہیمن کو نجومیوں کا نکالا ہوا زائچہ سنایا ۔
سوچو اور بتاؤ میں کیا کروں؟،،،،،، راجہ داہر نے اسے کہا۔۔۔ میری بہن کی شادی ہونے والی ہے کیا میں خود ہی اپنا اتنا بڑا ملک اپنے بہنوئی کے حوالے کر دوں، اس سے یہ ہوگا کہ میں زندہ رہوں گا، پھر میں کیا کروں گا؟ مہاراج!،،،،،، وزیر بدہیمن نے کہا ۔۔۔راجہ کا اپنی رعایا سے اپنی فوج سے اور اپنے ملک سے جدا ہو جانا اچھا نہیں ہوتا ،پانچ چیزیں ایسی ہیں جو پانچ چیزوں سے جدا ہو جائیں تو ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی ،بادشاہ تخت سے، وزیر وزارت سے ،پیر اپنے مرید سے، دانت منہ سے، بچہ ماں کی چھاتیوں سے، غور کریں مہاراج میں کیسے مشورہ دے دوں کہ آپ تخت سے دستبردار ہوجائے۔
میں پوچھ رہا ہوں میں کیا کروں۔۔۔ راجہ داہر نے پوچھا ۔
مہاراج وہ کریں جو آج تک کسی نے نہیں کیا بدھیمن نے کہا ۔۔۔اپنی بہن کے ساتھ خود شادی کرلیں، اور اسے رانی بنالیں، لیکن رشتہ خاوند اور بیوی کا ہوتے ہوئے بہن کو بہن سمجھیں بیوی نہ سمجھیں، ورنہ یہ بڑا پاپ ہوگا، شادی سے فائدہ یہ ہوگا کہ مہاراج کا کوئی بہنوئی نہیں ہوگا ،تو تخت و تاج کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔
میرے دانشمند وزیر!،،،،،، راجہ داہر نے کہا۔۔۔ تمہارا مشورہ بہت قیمتی ہے، اس کے سوا کوئی اور علاج بھی نہیں لیکن لوگ بدنام کرینگے، طرح طرح کی باتیں بنائیں گے۔ مہاراج!،،،،،، بدہیمن نے کہا۔۔۔۔ تھوڑے عرصے کا واقعہ ہے ایک آدمی نے ایک بھیڑ کی پشم میں مٹی رکھی اور کھاد ڈالی اور اوپر سے تھوڑا سا پانی چھڑک کر اس میں رائی ڈال دی اس پر وہ پانی چڑھتا رہا کچھ دنوں بعد رائی پھوٹ آئی، بھیڑ کا مالک بھیڑ کو بازاروں میں لے جانے لگا، میں نے بھی یہ بھیڑ دیکھی تھی بھیڑ کو دیکھنے والوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا ،پھر یوں ہوا مہاراج آٹھ دن بھیڑ کو دیکھ دیکھ کر لوگوں کی دلچسپی کم ہوگئی اور دیکھنے والوں کا ہجوم ختم ہوگیا ،تھوڑے دن اور گزرے تو لوگوں نے بھیڑ کی طرف دیکھنا ہی چھوڑ دیا ،بھیڑ ان کے سامنے سے گزر جاتی تھی تو کوئی اسے دیکھتا ہی نہیں تھا ،مہاراج کو سمجھنا چاہیے کہ لوگ کچھ دن باتیں کریں گے پھر چپ ہوجائیں گے، اور مہاراج یہ بھی سوچیں کہ کس کی ہمت ہے جو آپ کے سامنے آ کر بات کرے گا۔

راجہ داہر نے اپنے وزیر کے مشورے کو قبول کرلیا ،اس کے دماغ پر تخت و تاج سوار تھا اس نے اپنے وزیر سے کہا کہ بادشاہ اور راجہ کے اعمال رواج کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، اور قانون بھی بن جایا کرتے ہیں ،جو کہ راجہ داہر ہر کسی کو خوش رکھنے کے اصول کو پسند کرتا تھا اس لیے اس نے اپنے پانچ سو سردار وغیرہ کو دربار میں بلایا اور انہیں نجومیوں کی پیشنگوئی سنائی ،اور یہ بھی بتایا کہ وزیر نے کیا مشورہ دیا ہے۔
نہیں مہاراج !،،،،،،ایک آواز سنائی دی ۔
ایسا نہیں ہوسکتا مہاراج!،،،،، ایک اور آواز آئی۔
بہت بدنامی ہوگی مہاراج !،،،،،کسی اور نے کہا ۔
پھر سبھی بولنے لگے ،کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے وزیر بدہیمن کے مشورے کی تائید کی ہو۔
سب اس کے خلاف بول رہے تھے۔
لیکن ہم نے اپنی بہن کے ساتھ شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔۔۔ راجہ داہر نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔۔۔ تم سب یہ جانتے ہو کہ ہم اپنا راج کسی اور کے حوالے کر کے جنگل میں چلے جائیں اور باقی عمر بنباس میں گزاریں، ہمارے راج میں کسی کو کوئی تکلیف ہو تو اپنی تکلیف بیان کرے۔
سب پر خاموشی طاری ہو گئی راجہ داہر کی نظریں سفر گھوم گئی، کیا ہم نے تم میں سے کسی کو کبھی نا خوش کیا ہے ،سب کے سر جھک گئے۔ بولو راجہ داہر نے گرجدار آواز میں کہا ۔۔۔ہم اپنی بہن کے ساتھ صرف بیاہ کریں گے اسے بیوی نہیں بنائیں گے ۔
پھر ٹھیک ہے مہاراج!،،،، ایک آواز سنائی دی، اور سب نے تائید میں بولنا شروع کر دیا، دو تین دنوں بعد راجہ داہر نے اپنی بہن مائیں رانی کے ساتھ شادی کر لی ،یہ ایک رسم تھی جو خاموشی سے ادا کی گئی، لوگوں میں اس شادی کے خلاف باتیں ہوئی جس نے سنا اس نے کانوں کو ہاتھ لگایا لیکن بہن کے ساتھ شادی کرنے والا اس دیس کا راجہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   محمدبن قاسم....قسط نمبر/2

اس طرح میری شادی اپنے سگے بھائی کے ساتھ ہوں گئی۔۔۔ مائیں رانی نے اس انوکھی شادی کی کہانی بلال بن عثمان کو سناتے ہوئے کہا۔۔۔ میں نے اپنے بھائی کے لیے یہ قربانی دی، یہ تو میں بھی نہیں چاہتی تھی کہ میرا بھائی راج سے محروم ہو جائے، مجھے یہ خطرہ نظر آنے لگا تھا کہ میرا خاوند میرے بھائی کو قتل کرا کے اس کی تخت پر بیٹھ جائے گا۔
تمہیں یہ تو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ تمہاری شادی کس کے ساتھ کی جارہی تھی۔۔۔ بلال نے پوچھا ۔
معلوم تھا مائیں رانی نے جواب دیا ۔۔۔وہ بھی راجہ ہے بھاٹیہ نام کی ایک ریاست ہے، وہ اسکا راجہ ہے، اسکا نام سونہن رائے ہے، میں برہمن آباد میں اپنے بھائی دہرسینہ کے پاس تھی، اس نے مجھے اس بھائی راجہ داہر کے پاس بھیج دیا تھا اس نے پیغام بھیجا تھا کہ میری شادی فوراً بھاٹیہ کے راجہ سونھن رائے کے ساتھ کر دی جائے، بھائی دہرسینہ نے میرے ساتھ میرا جہیز بھی بھیجا تھا جس میں سات سو گھوڑے اور پانچ سو ٹھاکر تھے ،اور ایک قلعہ بھی جہیز میں دیا جا رہا تھا۔
مورخ لکھتے ہیں کہ راجہ داہر کے بھائی دہر سینہ کو پتہ چلا کہ داہر نے مائیں کے ساتھ شادی کر لی ہے تو وہ آگ بگولا ہوگیا ،اس نے داہر کو لکھا کہ وہ مائیں رانی کو راجہ سونھن رائے کے حوالے کردے، داہر نے جواب دیا کہ اس نے کس خطرے کے تحت اپنی بہن کے ساتھ شادی کی ہے اس نے یہ بھی لکھا کہ بہن کو اس نے بہن ہی رکھا ہے ،اسے عملاً بیوی نہیں بنایا۔
دہرسینہ کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اس نے فوج ساتھ لی اور راجہ داہر کی راجدھانی کو آکر محاصرے میں لے لیا ،راجہ داہر کے پاس فوج زیادہ تھی اس نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ محاصرہ توڑا جائے ،اس حکم پر فوج باہر نکل آئ دہرسینہ نے دیکھا کہ اس کی فوج داہر کی فوج کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں تو اس نے راجہ داہر کو پیغام بھیجا کہ وہ قلعے سے باہر آکر اس کی بات سنے، راجہ داہر نے دہرسینہ کو یہ پیغام بھیجا کہ تم میرے بھائی ہو تم خود قلعے میں کیوں نہیں آ جاتے، اس پیغام پر دہر سینہ ہاتھی پر سوار ہوکر قلعے میں آیا اور راجہ داہر سے کہا کہ وہ اس کے ساتھ باہر چلے ،راجہ داہر اسی ہاتھی پر سوار ہوگیا۔ ہودے میں آگے دہرسینہ آگے کو منہ کئے بیٹھا تھا، داہر پیچھے بیٹھ گیا، اس کا وزیر بدہیمن ساتھ ساتھ گھوڑے پر جارہا تھا ،جب ہاتھی رتھ لے کے دروازے پر پہنچا تو بدہیمن کو کچھ شک ہوا یا اسے کسی سے اشارہ ملا اس نے راجہ داہر کو اشارہ کیا کہ وہ باہر نہ جائے۔
دہر سینہ تو آگے کو دیکھ رہا تھا داہر ہودے میں کھڑا ہو گیا اور دروازے کے اوپر کسی چیز کو پکڑ کر لٹک گیا ،ہاتھی باہر نکل گیا داہر کو اوپر سے اتارا گیا اور قلعے کا دروازہ بند کردیا گیا ،باہر جاکر دہرسینہ نے ہاتھی رکوایا پیچھے دیکھا تو داہر ہودے میں نہیں تھا ۔
تم نے ہمیں کیوں روک لیا تھا؟،،،،،، راجہ داہر نے اپنے وزیر سے پوچھا۔
آپ کا بھائی آپ کو باہر قتل کرنے کے لیے لے جا رہا تھا ۔۔۔بدہیمن نے جواب دیا ۔۔۔اس کے تیور بتا رہے تھے اور میرے بھیجے ہوئے ایک جاسوس نے عین اس وقت مجھے یہ خبر دی تھی جب آپ ہاتھی پر سوار دروازے کے قریب پہنچ گئے تھے ،تاریخوں میں ہے کہ دہر سینہ نے داہر کو واقعی قتل کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا ،دہر سینہ نے دیکھا کہ داہر اس کے ہاتھ سے نکل گیا ہے اور اس کی فوج داہر کی فوج کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں تو اسے بہت صدمہ ہوا ،صدمے کے علاوہ گرمی زیادہ تھی دہر سینہ کو بخار ہو گیا اس کے تمام جسم پر چھالے اٹھ آئے وہ چار روز بیمار رہ کر وہیں قلعےکےباہر مر گیا ۔ یہ واقعہ 672 عیسوی کا ہے اس وقت دہر سینہ کی عمر تیس سال تھی۔

کیا سمجھتے ہو بلال !،،،،،مائیں رانی نے بلال بن عثمان کو یہ ساری داستان سنا کر کہا۔۔۔۔ راجہ داہر مجھ پر کوئی پابندی عائد نہیں کر سکتا ،اس نے مجھے اپنی بیوی نہیں بنایا۔ ہمارا رشتہ بہن بھائی والا ہے ،لیکن وہ جانتا ہے کہ میں جوان ہوں اور اس عمر میں مجھے اپنے خاوند کے پاس ہونا چاہیے ،اسے احساس ہے کہ جوان جسم کے مطالبہ کیا ہوتے ہیں، اور جوان روح کیا چاہتی ہے، اس نے اپنے تختوں کو بچانے کے لئے میری جوانی کے جزبات کی قربانی دی ہے۔
میں نے سنا ہے کہ اس ملک میں زندہ لڑکیوں کی جان کی قربانی بھی دی جاتی ہے۔۔۔ بلال بن عثمان نے کہا۔۔۔ تم نے ٹھیک سنا ہے۔ مائیں رانی نے کہا۔۔۔ اگر نجومی یا پنڈت کہہ دے کہ کوئی آئی ہوئی مصیبت انسانی جان کی قربانی سے ٹلے گی تو کسی موزوں لڑکی کو پنڈتوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے یہ ایک رسم خاص طریقے سے ادا کی جاتی ہے۔
ہم اسے شرک اور گناہ کبیرہ کہتے ہیں ۔۔۔بلال نے کہا۔۔۔ تمہارا خدا کیسا ہے جو اپنے بندوں کا خون بہا کر خوش ہوتا ہے ۔
میں نے تمہیں پہلے کہا ہے کہ میرے ساتھ مذہب کی بات نہ کرو ۔۔۔مائیں رانی نے کہا۔۔۔ میں جب تمہارے پاس آتی ہو تو میں ہندو نہیں ہوتی، اور میں تمہیں مسلمان نہیں سمجھتی، میں ایک عورت ہوں اور تمہیں ایک مرد سمجھ کر آتی ہوں ،عورت اسی مرد کو اپنے دل میں بساتی ہے جو اس کے دل کو اچھا لگتا ہے، میں رانی ہوں تمہیں زنجیروں میں باندھ کر اپنا غلام بنا سکتی ہوں لیکن میں تمہاری محبت کی زنجیروں میں بند کر تمہاری غلام ہو گئی ہوں، میں تمہارے اس سوال کا جواب دے رہی ہو کہ میں اپنے خاوند کو کیوں دھوکہ دے رہی ہوں، اور میں اسے محبت کے قابل کیوں نہیں سمجھ رہی۔
میں کہہ رہی تھی کہ میرا بھائی راجہ داہر جانتا ہے کہ اس نے میری جوانی کے ارمان اور رومان قربان کر کے مجھے ریگستان میں چھوڑ دیا ہے جہاں میں پیاسی بھٹک رہی ہوں، میرے وجود کا انگ انگ جل رہا ہے۔
وہ مرد ہے اور وہ راجہ ہے وہ بھنورا ہے کلی کلی کا رس چوس سکتا ہے، محل میں داسیوں کی کمی نہیں اسے ایک بیوی کا پابند رہنے کی ضرورت نہیں، اس نے مجھے بھی آزاد چھوڑ رکھا ہے لیکن میں رانی ہوں میں اپنے وقار کو مٹی میں نہیں ملا سکتی میں کسی کی بیوی نہیں بن سکتی ،لیکن فطرت کا گلہ نہیں گھونٹ سکتی ،دل میں محبت کا جو الاؤ بھڑک اٹھا ہے اسے میں بجھا نہیں سکتی میں کسی کی بیوی نہیں بن سکتی جو مجھے پیار سے دیکھے اور میں جس کے راستے میں آنکھیں بچھاؤں۔
میں سمجھ گیا ہوں رانی!،،،،، بلال نے کہا۔۔۔ خدا کی قسم تم نے میرے دل میں اپنا پیار پیدا کر لیا ہے ،لیکن میں اجنبی مسافر ہوں تمہارے وطن میں بے وطن ہوں ،کیا ایک جلاوطن کے ساتھ تم یوں چھپ چھپ کر ملتی رہوں گی۔
نہیں!،،،،،، مائیں نے جواب دیا ۔۔۔میں تمہیں اپنے ساتھ رکھوں گی۔
رانی!،،،، بلال نے اسے اپنے قریب کرتے ہوئے کہا ۔۔۔اگر میں بے وطن نہ ہوتا تو تمہیں مسلمان بنا کر تمہارے ساتھ شادی کر لیتا ۔
تم نے پھر مذہب کا نام لیا ۔۔۔مائیں نے کہا۔۔۔ نہ میں اپنا مذہب چھوڑو گی نہ تمہیں اپنے مذہب میں لانے کی کوشش کروں گی، ہم ایک دوسرے کی پوجا کریں گے، کہو بلال قبول کرتے ہو۔

چھ سال بعد رمل کے راجہ نے راجہ داہر کے ملک پر حملہ کردیا اور اس کے کچھ علاقے پرقبضہ کرکے آگے بڑھا ،اس کے ساتھ ہاتھی بھی تھے یہ سب نر ہاتھی تھے، انھیں بہت زیادہ اور بڑی قوی غذا کھلائی جاتی تھی، اسی لیے یہ مستی میں رہتے تھے حملے کے لیے ان ہاتھیوں کو شراب پلا کر لایا گیا تھا۔ ہاتھیوں کے ساتھ رمل کے راجہ کی جو فوج تھی وہ اتنی زیادہ تھی کہ راجہ داہر گھبرا گیا اور اس کی فوج اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی ،راجہ داہر نے اپنے وزیر بدہیمن کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ وہ کیا کرے۔
مقابلہ کریں مہاراج !،،،،،بد یمن نے کہا ۔۔۔اپنی فوج تھوڑی ہے تو کیا ہوا اس خزانے کا منہ کھولیں جس میں آپ نے دولت کے ڈھیر لگا رکھے ہیں، یہ لوگوں میں تقسیم کریں اور انہیں کہیں کہ دشمن کے مقابلے کے لئے نکلیں، بہادری سے لڑنے والوں کے لئے انعام مقرر کریں۔
رعایا کو لڑنے کا تجربہ نہیں۔۔۔ راجہ داہر نے کہا۔۔۔ اناڑی لوگ دشمن کے آگے ٹھہر نہیں سکیں گے۔
پھر دشمن کے ساتھ صلح کر لیں۔۔۔ وزیر بریمن نے کہا ،کیا اس سے بہتر موت نہیں وزیر نے کہا۔
ہمارا دشمن صلح کی نہ جانے کتنی قیمت اور نہ جانے کیا قیمت مانگ بیٹھے ،صلح کا مطلب ہے ہتھیار ڈالنا میں ہتھیار نہیں ڈالوں گا۔
پھر ایک ہی صورت رہ جاتی ہے بدہیمن نے کہا۔۔۔ مہاراج نے عرب کے جن مسلمانوں کو پناہ دے کر اپنے ملک میں آباد کیا تھا انہیں لڑنے پر راضی کریں۔
لیکن ان کی تعداد صرف پانچ سو ہے ۔۔۔راجہ داہر نے کہا۔۔۔ شاید کچھ زیادہ ہو اتنی تھوڑی تعداد میں کچھ نہیں کر سکیں گے۔
مہاراج !،،،،،،بدہیمن نے کہا ۔۔۔عربوں کو آپ نہیں جانتے یہ اس قوم کے آدمی ہیں جس نے فارسیوں اور رومیوں کو شکست پر شکست دے کر ان کی جنگی طاقت ختم کر ڈالی ہے، یہ لوگ دلیر بھی ہیں اور بہت تھوڑی تعداد میں بھی فتح پانے کا تجربہ رکھتے ہیں۔
چچ نامہ اور تاریخ معصومی میں لکھا ہے کہ راجہ داہر کو یہ مشورہ پسند آیا ،اور خود ان عرب مسلمانوں کے پاس گیا جنہیں اس نے اپنے ملک میں پناہ دی تھی، ان کی تعداد پانچ سو تھی اور یہ سب اپنے قبیلوں کے سردار یا سرداروں کے بیٹے تھے، یہ باغی ہوئے پھر وہاں سے بھاگ کر سندھ میں آگئے تھے، ان کا سردار امیر محمد علافی تھا ،بعض مورخوں نے اس کا نام محمد حارث علافی لکھا ہے، وہ بنی اسامہ کا سردار تھا اور سندھ میں آنے والے سرداروں نے اسے امیر بنا لیا تھا۔
علافی قبیلے نے عبدالملک بن مروان کے دور خلافت میں مکران کے امیر سعید بن اسلم کلابی کو قتل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   محمدبن قاسم...قسط نمبر/5

مہاراج!،،،،، علافی نے آگے بڑھ کر داہر کا استقبال کیا اور کہا ۔۔۔آپ کے آنے میں وہ شان نہیں جس شان سے آپ باہر نکلا کرتے ہیں۔
آج میری شان کو تمہاری تلوار قائم رکھے گی۔۔۔ راجہ داہر نے کہا ۔۔۔میں احسان جتانے اور احسان کا صلہ لینے نہیں آیا ،میں دوستی کا حق لینے آیا ہوں۔
علافی نے اسے بٹھایا اور تین چار سرکردہ آدمیوں کو بھی بلایا۔
کہو مہاراج!،،،،،، علافی نے پوچھا۔۔۔ آج ہماری تلوار کی کیا ضرورت پیش آئی ہے ،ہم دوستی کا حق ادا کریں گے۔
راجہ داہر نے اسے بتایا کہ ایک بہت طاقتور دشمن اس پر حملہ کرنے آ رہا ہے اور اس وقت اس کی فوج دس بارہ میل دور پڑاؤ کئے ہوئے ہے۔
خدا کی قسم عرب کے مسلمان کسی کا احسان بھولا نہیں کرتے۔۔۔ علافی نے کہا ۔۔۔ہم دوستی کا حق ادا کریں گے ،حق ادا نہ ہوا تو جانیں دے دیں گے۔
پھر کوئی ترکیب کرو اور میرے راج کو اس دشمن سے بچاؤ ۔۔۔راجہ داہر نے مایوس اور ہارے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ دشمن کے پاس ہاتھی ہیں جو بد مست ہیں ان کی یلغار کو تو کوئی فوج برداشت کر ہی نہیں سکتی، ان کی چنگھاڑ سے ہی فوج پر دہشت طاری ہو جاتی ہے ،کیا آپ لوگ ان ہاتھیوں سے مقابلے کی کوئی ترکیب سوچ سکتے ہیں۔
اے سندھ کے راجہ!،،،،،، ایک بوڑھے عرب سردار نے کہا۔۔۔ آج سے چالیس سال پہلے کے دن یاد کر، تو اسوقت چھوٹا ہو گا ،فارس کے آتش پرستوں نے ہمارے ہاتھوں کھائی ہوئی شکستوں سے تنگ آکر قادسیہ کے میدان میں ہم سے فیصلہ کن جنگ کرنے کے لئے اتنی فوج اتاری تھی جو شاید اس سے پہلے کسی لڑائی میں نہیں اتری تھی، آتش پرست ہاتھی بھی لائے تھے، ہمارے لیے ہاتھی بالکل نئی اور بہت ہی خوفناک چیز تھی، میں اس وقت جوان تھا اور میں اس میدان میں لڑا تھا۔ آئے سندھ کے راجہ تو شاید جانتا ہوگا کہ شاہ فارس کو یہ ہاتھی اس وقت کے سندھ کے راجہ نے دیئے تھے، یہ ہندوستان کے جنگی ہاتھی تھے، چالیس سال گزر گئے ہیں لیکن ان ہاتھیوں کی چنگھاڑ مجھے آج بھی سنائی دے رہی ہیں ،ان ہاتھیوں نے ہماری فوج کو بہت نقصان پہنچایا تھا لیکن ہم نے ہاتھیوں کے سونڈ کاٹ ڈالی تھی، کیا یہ کام آسان تھا؟
نہیں میرے بزرگ دوست!،،،،، راجہ داہر نے کہا ۔۔۔۔یہ کام آسان نہیں تھا میں اس وقت چھوٹا تھا مجھے ذرا بڑے ہوکر معلوم ہوا تھا کہ مسلمانوں نے قادسیہ کی جنگ میں فارسیوں کو بہت بری شکست دی ہے، اور ہاتھیوں نے زخمی ہو کر اپنی فوج میں بھگدڑ مچادی تھی۔
جنگ قادسیہ 635 عیسوی (14ہجری) میں لڑی گئی تھی، اس وقت شاہ فارس یزدگرد تھا، اس نے مختلف ملکوں سے فوجی مدد یہ کہہ کر مانگی تھی کہ اسلام کے سیلاب کو روکا نہ گیا تو کوئی اور مذہب زندہ نہیں رہے گا ،اور سب مسلمانوں کے غلام ہوں گے،
اس نے سندھ کے راجہ سے بھی مدد مانگی تھی، سندھ کے راجہ نے اسے اپنی فوج کی کچھ نفری دی تھی، اور جو خطرناک چیز دی وہ ہاتھی تھا، معلوم نہیں سندھ سے کتنے ہاتھی شاہ فارس کو دیے گئے تھے، ان میں راجہ کا اپنا سفید ہاتھی بھی شامل تھا ،جو دراصل سفید نہیں بلکہ سفیدی مائل بھورا تھا ،جنگ قادسیہ میں اس ہاتھی پر فارس کا مشہور سالار رستم سوار تھا ،وہ مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔
اس لیے تمھارے پاس آیا ہوں ۔۔۔راجہ داہر نے کہا۔۔۔ ہاتھیوں کا مقابلہ تم ہی کرسکتے ہو، میں نے تمہاری مدد کی تھی تم میری مدد کرو۔
ہم مدد کو پہنچیں گے۔۔۔ علافی نے کہا ۔۔۔ہمیں اپنے اللہ پر بھروسہ ہے، ہاتھی انشاءاللہ میدان میں آئیں گے ہی نہیں، ہم میں لڑنے کے قابل جتنے بھی آدمی ہیں وہ لڑیں گے آپ ہمیں تھوڑی سی فوج دے دیں باقی فوج کو آپ ابھی ادھر روانہ کردیں جدھر دشمن پڑاؤ کئے ہوئے ہے، اس کے پڑاؤ سے کچھ دور آپ کی فوج پڑاؤ کرے، اور اپنے ارد گرد خندق کھود لے ، مجھے اپنے پانچ سو سوار دے دیں باقی میرے اپنے سوار ہوں گے، اس کے بعد جو ہوگا وہ آپ کا دشمن بھی دیکھے گا اور آپ بھی دیکھ لینا ۔
پھر جو ہوا وہ عرب کے مسلمانوں کی عسکری روایات کے مطابق ہوا ،صرف سندھ کے راجہ داہر اور اس کے دشمن نے ہی نہ دیکھا بلکہ تاریخ نے دیکھا اور آج تک تاریخ ساری دنیا کو دکھا رہی ہے۔
ہوا یہ کہ محمد حارث علافی کی ہدایات کے مطابق راجہ داہر نے اپنی فوج کے پانچ سو سوار س کے حوالے کردیئے ۔
علافی نے ان میں مسلمان سوار شامل کرلئے۔ داہر کی فوج نے قلعے سے نکل کر کوچ کیا اور رمل کے راجہ کی فوج کے پڑاؤ سے تین میل دور خیمے گاڑ دیے، اور خیمہ گاہ کے ارد گرد خندق کھود لی، اس دوران علافی بھیس بدل کر اور ایک دو ساتھیوں کو ساتھ لے کر راجہ داہر کے دشمن کے خیمہ گاہ تک گیا اور دیکھا کہ وہاں کتنی فوج ہے اور کیا کہاں ہے۔ وہ تو بہت بڑا لشکر تھا راجہ داہر کے بچنے کی یہی صورت تھی کہ اپنے دشمن کی شرائط پر اس سے صلح کر لیتا یا اس کی اطاعت قبول کرلیتا ۔
رمل راجہ نے داہر کی فوج پر توجہ مرکوز کرلی اور حملے کی تیاری کرنے لگا، اس نے دیکھا کہ داہر کی فوج اس کی فوج کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تو وہ بے فکر ہو گیا ،اسے ایسا خطرہ نظر نہ آیا کہ راجہ داہر کی فوج اس پر حملہ کرے گی۔
ایک رات جب رمل کی فوج گہری نیند سوئی ہوئی تھی علافی نے اپنے سواروں میں سے جن میں سندھی اور عرب سوار شامل تھے رمل کی خیمہ گاہ پر شب خون مارا، اور خیموں کو آگ لگادی خیمہ گاہ میں بھگدڑ مچ گئی دشمن کی فوج سوائے بھاگ نکلنے کے کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی، لیکن علافی کا شب خون اتنا شدید اور تیز تھا کہ رمل کی فوج کے لیے بھاگنا بھی محال ہو گیا ،ہزاروں سپاہی مارے گئے اور جنگی قیدی بھی ہوئے، اور پچاس ہاتھی بھی پکڑ لئے گئے، رمل کے راجہ کی تو کمر ہی ٹوٹ گئی۔
راجہ داہر نے عرب کے ان پناہ گزین مسلمانوں کو جو انعامات دیے ان کے علاوہ انہیں مکران کی سرحد پر خاصا وسیع علاقہ دے دیا ،جہاں یہ عرب آباد ہوگئے ۔
اس وقت بلال بن عثمان اور اس کے چار ساتھی محل کے خاص اصطبل کی ملازمت میں پانچ سال گزار چکے تھے، مائیں رانی کی نظر کرم بلال پر ضرورت سے بھی زیادہ تھی، وہ رسمی طور پر اپنے سگے بھائی کی بیوی تھی لیکن اس کے درپردہ مراسم بلال کے ساتھ تھے۔
وہ جب شکار کے لیے جاتی تھی تو ان پانچ عربوں کو ساتھ لے جاتی تھی۔
جاری ہے