دہلی،فیکٹری میں آگ لگنے سے 40 سے زیادہ افراد ہلاک

Spread the love

دلی: ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 43 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔انڈیا کے دارالحکومت دلی میں ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 43 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ آگ اتوار کی صبح پرانی دلی کی اناج منڈی میں ایک فیکٹری میں لگی اور آگ بجھانے والا عملہ جائے وقوع پر پہنچ چکا ہے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس چار منزلہ عمارت میں کم از کم 10 افراد سوئے رہے تھے۔اس عمارت میں سکول بیگ تیار کیے جاتے تھے۔دہلی میں فائر ڈپارٹمنٹ کے سربراہ اتُل گارگ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی ٹیم نے جائے حادثہ سے مجموعی طور پر 63 افراد کو نکالا تھا لیکن ان میں سے 43 کی موت ہوگئی ہے۔

زخمیوں کو لوک نایک ہسپتال ( ایل این جے پی) میں داخل کرایا گیا ہے۔ ہسپتال کی ڈاکٹر ریتو سکسینا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ زیادہ تر ہلاک ہونے والوں میں 15 سے 20 سال کے نوخیز نوجوان تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   لندن ،برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ نذیر احمد کی ہمشیرہ رحلت کر گئیں

انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ جس عمارت میں آگ لگی وہاں پلاسٹک کے کھلونے بنانے کا کام بھی کیا جاتا تھا۔ اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آگ نيچے کی منزل پر لگی تھی لیکن جلد ہی وہ تیسری منزل تک پہنچ گئی جہاں بہت سے لوگ سو رہے تھے۔

دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آتشزدگی کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اب وہ جائے حادثہ پر پہنچ چکے ہیں۔ انھوں نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو دس دس لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت زخمیوں کا مکمل علاج کرائے گی اور انھیں ایک ایک لاکھ روپے کا معاوضہ بھی دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت کی معیشت بہت بڑے معاشی بحران کا شکار،خطرناک پیش گوئی کردی گئی

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی مہلوکین کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم کے فنڈ سے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے ڈھائی ڈھائی لاکھ جبکہ زخمیوں کے لیے 50-50 ہزار روپے کا اعلان کیا ہے۔

پرانی دلی کی گلیاں تنگ ہیں جہاں بڑی گاڑیاں نہیں جا سکتی ہیں.انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے اس واقعے میں ’قیمتی جانوں کے نقصان کو ایک سانحہ قرار دیا ہے۔‘وزیراعظم مودی نے حکام سے کہا ہے کہ وہ اس سانحے سے نمٹنے کے لیے تمام تر سہولیات فراہم کریں۔

دلی میں آگ بجھانے کے عملے کو پہلی کال صبح پانچ بج کر 22 منٹ پر موصول ہوئی۔ جس مقام پر یہ فیکٹری موجود تھی وہ شہر کا قدیم ترین حصہ ہے اور تنگ گلیوں کی وجہ سے جائے وقوع تک پہنچنا انتہائی مشکل تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تمام افراد دھوئیں کی وجہ سے بےہوش ہو چکے تھے۔

‘آگ لگنے کی اب تک وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے اور اس حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ پرانی دلی کی بلیماران اسمبلی سیٹ سے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے عمران حسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جانچ کرانے کی بات کہی

یہ بھی پڑھیں:   ٹریفک قوانین کے "پاسدار" ڈرائیوروں پر سے جرمانہ ختم کرنے کا منصوبہ

پرانی دلی کی بلیماران اسمبلی سیٹ سے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے عمران حسین بھی آگ لگنے کی جگہ پر پہنچ گئے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ لگائیں گے اور تحقیقات کروائيں گے۔

اتل گارگ نے بتایا کہ آگ لگنے والی عمارت میں کاغذ اور گتے کی بڑی مقدار رکھی تھی جس کی وجہ سے کافی دھواں پھیل گیا تھا اور دھویں کی وجہ سے لوگوں کو بچانے میں زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ سرچ آپریشن میں شامل ایک افسر نے میڈیا کو بتایا کیا ہے کہ اب آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور سرچ آپریشن بھی مکمل کرلیا گیا ہے۔