🌷عورت اور پردہ🌷

Spread the love

“رکنِ مینیجمنٹ ٹیم”
(اسلامک یوتھ پارلیمنٹ)
۔۔۔۔۔۔(حصہ اول)۔۔۔۔۔۔

عورت کے لغوی معنی ہیں
”چھپانے کی چیز“
اللہ عزوجل کے محبوب احمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے
”عورت ،عورت (چھپانے کی چیز ہے) ہے۔جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے جھانک کر دیکھتا ہے ۔یعنی اسے دیکھنا شیطانی کام ہے۔
لیکن فی زمانہ تو قصہ ہی اُلٹ ہے۔فتنے کے اس دور میں بے پردگی عام ہوچکی ہے۔اور کہا جانے لگا ہے کہ اب دنیا ترقی کرچکی ہے معاشرے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے تو اب پردے کی ضرورت نہیں رہی اور اسی طرح کے مختلف حیلے بہانے سننے کو ملتےہیں۔
اگر کوٸی عالمِ دین یا خوفِ خدا رکھنے والا اس طرف توجہ دلانا بھی چاہے تو یہ کہ کر ان کی تضحیک کی جاتی کے کہ یہ لوگ عورت کو چاردیواری میں قید کردینا چاہتے ہیں۔
جناب علماءِ کرام من گھڑت باتیں نہیں کرتے بلکہ یہ تو حکم خداوندی ہے۔
قرآن کریم میں پارہ ٢٢ سورةالاحزاب کی آیت نمبر ٣٣
میں پردے کا حکم دیتے ہوۓ رب عزوجل کا ارشاد ہے۔
ترجمہ کنزالایمان
“اور اپنے گھروں میں ٹہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جہالیت کی بے پردگی”
مزکورہ بالا آیت میں دیا جانے والا یہ حکم صرف اُس زمانےکی عورتوں کے لیۓ نہیں تھا بلکہ اُمت مسلمہ کی تمام عورتوں کے لیۓ ہے۔
مگر افسوس صد افسوس آج کے اس لبرل معاشرے میں بے پردگی کا وبال روز بروز اپنی جڑیں مضبوط کرتا جارہا ہےاب عورت بازاروں ،ریسٹورینٹس ،تفریح گاہوں اور اس جیسی کٸ فتنے سے بھر پور جگہوں کی زینت بنتی جارہی ہے اور پردے کو دقیانوسی اور تنگ نظری کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔
آج کل کی عورتوں کا خیال ہے کہ پردے کا حکم دے کر انہیں قید کیا جارہا ہے اور اس طرح ان کی وقعت کم ہورہی ہے۔
پردے سے عورت کی قدروقیمت کبھی کم نہیں ہوسکتی بلکہ یہ تو اللہ عزوجل کی طرف سے عورت کے لیۓ بہت بڑا انعام ہے
اسلام نے عورت کو بہت عزت دی ہے اور اس بات پر اسے اپنے رب عزوجل کا شکر گزار ہونا چاہیے اسلام سے قبل دورِ جاہليت میں لڑکی کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا جاتاتھا لڑکی کی پیداٸش ان کے نزدیک غم و مصیبت کا پیام تھا اور خود عورت کا وجود اُن کے لیۓ موجبِ ذلت و عار تھا عورتوں کی عزتیں تک محفوظ نہیں تھی۔لیکن اسلام نے عورت کا رتبہ کس قدر بلند کردیا
اب عورت بیوی کی صورت میں بہترین خزانہ،بیٹی کی صورت میں جہنم کی آگ سے حفاظت ،
ماں کی صورت میں قدموں تلے جنت اور خود لڑکی کی پیدائش باعثِ رحمت ہے۔
لیکن ہماری عورتیں رب عزوجل کی یہ تمام عنایات بھول کر غیر مسلموں کے نقشِ قدم پہ چل پڑی ہیں اور جہالت کہ انتہا تو دیکھیں کہ اس فتنے کو معاذاللہ ترقی کا نام دیا جارہا ہے۔
مغربی ممالک کا کلچر اپناتے ہوۓ آج تک کسی عورت نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ان کے اور ہمارے مذہب میں کتنا فرق ہے ۔
وہاں کی عورت اپنے پیروں پہ کھڑی ہے اور ایسا کرنا اس کی مجبوری ہےکیونکہ اس کے پاس
باپ،بھاٸی،شوہر،اوربیٹے کی صورت میں مقدس رشتے موجود نہیں ہیں جو اُسے شہزادیوں کی طرح تخت پہ (گھر میں) بٹھا کر اس کی ذمہ داری اٹھاٸیں وہاں کی عورتیں اس خاندانی نظام کے لیۓترس رہی ہیں تاکہ وہ بھی ملکہ بن کے زندگی گزار سکیں مگر وہاں عورت کو پاٶں کی جوتی سمجھا جاتا ہے اور صرف اور صرف زاتی تسکین کے لیۓ استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اسلام نے تو عورت کو قدرومنزلت دی اور باپ،بھاٸی،بیٹے اور شوہر کی صورت میں مضبوط ساٸبان عطا کیۓ تاکہ وہ غیر اخلاقی حملوں سے محفوظ رہ سکے۔
❗❗❗لیکن
آج کی عورت تو اپنا آپ منوانا چاہتی ہے اور اسی سوچ کی پیشِ نظر مرد کے شانہ بشانہ چلنے کے چکروں میں اُس نے حیا کی چادر اُتار پھینکی ہے
اب غیر مردوں سے ملنے ،ان کے ساتھ بیٹھنے اور بات چیت کرنے میں کوٸی عارمحسوس نہیں کی جاتی بلکہ بڑے فخر سے اسے ترقی کا نام دیا جاتا ہے(جاری ہے……………) ۔

یہ بھی پڑھیں:   اورنیل بہتارہا

عرض گزاشت
🌷اسلامک یوتھ پارلیمنٹ 🌷