محمدبن قاسم…قسط نمبر/3

Spread the love

مرتب؛ محمدساجداشرفی

700 عیسوی (18 ہجری) میں جب محمد بن قاسم کی عمر چھ سال تھی سندھ میں ایک ہندو راجہ جس کا نام داہر تھا تخت نشین ہوا۔ اس وقت سندھ کا راجہ دو حصوں میں بٹا ہوا تھا ایک حصے کی راجدھانی اروڈ تھی جسے الور بھی کہا جاتا تھا، اور دوسرے راجہ کی راجدھانی برہمن آباد تھی اس راجہ کا نام ہی راج تھا لیکن وہ ایک سال کے اندر ہی مر گیا۔ اس کے تخت پر راجہ داہر کے چھوٹے بھائی دہر نے قبضہ کرلیا، اس سے راجہ داہر کو خوشی ہوئی کہ سندھ کا یہ حصہ بھی اس کے خاندان کے قبضے میں آ گیا ہے۔
راجہ داہر کے تخت نشین ہونے کے دو یا تین سال بعد کا واقعہ ہے راجہ داہر کی رانی جس کا نام مائیں تھا، ہرنوں کی شکار کو نکلی، اس زمانے میں سندھ کے اس علاقے میں ھرن زیادہ پائے جاتے تھے، گھوڑوں پر سوار ہو کر تیروں سے ہرنوں کا شکار کھیلا جاتا تھا۔
ان کے پیچھے گھوڑا ڈال دیا جاتا اور سرپٹ دوڑتے گھوڑے پر تیر چلائے جاتے تھے۔
مائی رانی کی عمر بیس اکیس سال تھی، ایک ہی سال پہلے راجہ داہر کے ساتھ اس کی شادی ہوئی تھی، وہ خوبصورت لڑکی تھی اور ہرن کے شکار کی دلادہ تھی، شاہی خاندان کی لڑکی تھی اس لئے گھوڑ سواری اور تیر اندازی میں مردوں کا مقابلہ کر سکتی تھی۔ اس روز وہ گھوڑوں اور دو پہیوں والی رتھ پر شکار کھیلنے نکلی تھی، رتھ بان محل کا ایک آدمی تھا جو میدان جنگ میں رتھ دوڑانے اور لڑانے کا ماہر تھا۔
انہیں چار پانچ ہرن نظر آئے ،مائیں رانی کے کہنے پر رتھ بان نے رتھ دوڑا دی، ہرن بھاگ اٹھے، رتھ کی رفتار انتہا کو پہنچ گئی اس کے دونوں گھوڑے جنگی تھے اور یہ راجہ کے اصطبل کے گھوڑے تھے بہت ہی تیز دوڑتے تھے ،ایک ہیرن دوسروں سے الگ ہو گیا مائیں رانی نے اس کا تعاقب شروع کردیا زمین کہیں ریتیلی اور کہیں پکی تھی۔
آگے چٹانیں تھی اور ٹیلے گھاٹیاں بھی تھیں، ہرن ان میں چلا گیا ہرن دوڑ نہیں رہا تھا اڑ رہا تھا ،ایک چوکڑی بھر کر جب زمین سے اٹھتا تھا تو چالیس پچاس گز دور جا کر اس کے پاؤں زمین پر لگتے تھے، رتھ کے گھوڑوں نے فاصلہ کم کر لیا لیکن ہرن چٹانوں اور ٹیلوں کے اندر چلا گیا، وہاں تک مائیں رانی نے ہرن پر تین چار تیر چلائے تھے لیکن سب ہی رن کے دائیں اور بائیں زمین پر لگے۔
رتھ بھی ٹیلوں کے اندر چلی گئی وہاں زمین ہموار نہیں تھے رتھ اچھلتی تھی، مائیں رانی دو تین بار گرتے گرتے بچی، ہرن ٹیلوں اور چٹانوں کے درمیان گلیوں میں دوڑا جا رہا تھا اور یہ گلیاں مڑتی تھی رانی نے تعاقب جاری رکھا دائیں اور بائیں اتنی زیادہ رفتار سے مڑتی تھی کہ اس کے الٹ جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا تھا ،لیکن رتھ بان اپنے کام کا ماہر تھا۔ رانی نے ہرن پر کئی تیر چلائے لیکن دوڑتی اور اچھلتی رتھ سے چلا ہوا تیر اتفاق سے ہی ہرن کو لگ سکتا تھا۔
آگے ٹیلوں میں گھرا ہوا میدان آگیا ایک ٹیکری سے ایک گھوڑا اترا اس کے سوار کے ہاتھ میں برچھی تھی اس نے گھوڑے کو ہرن کے پیچھے ڈال دیا ،ادھر سے مائیں رانی کی رتھ میدان میں آئی۔
ہٹ جاؤ آگے سے۔۔۔ رتت بان نے چلا کر سوار سے کہا ۔۔۔یہ مہارانی کا شکار ہے۔
گھوڑ سوار نے جیسے سنا ہی نہیں وہ ہرن کی تعاقب میں رہا ۔
مہارانی!،،،،، رتھ بان نے حیرانی سے کہا۔۔۔ تیر اور کمان مجھے دیں پہلے میں اس سوار کو ختم کردو۔
یہ اپنے ملک کا معلوم نہیں ہوتا۔۔۔ مائیں نے کہا ۔
ہرن ایک طرف موڑا، گھوڑ سوار بھی موڑا ،اب اس کا چہرہ ذرا سامنے آیا۔
یہ تو عرب کا آدمی لگتا ہے۔۔۔ رتھ بان نے کہا۔۔۔ اس نے ادھر آنے کی جرات کیسے کی ہے۔
رتھ پوری رفتار سے دوڑ رہی تھی مائیں نے ہرن پر تیر چلایا یہ بھی خطا گیا ،گھوڑ سوار نے برچھی کو درمیان میں سے پکڑ کر ہاتھ میں تولہ رکابوں میں کھڑے ہو کر اس نے برچھی پھینکی پرچھی ہرن کی گردن کے پیچھے کندھوں کے درمیان لگی ،انی ہرن کے جسم میں اتر گئی اور ہرن چند قدم آگے جا کر گر پڑا ،سوار نے گھوڑا روکا کود کر اترا اور ہرن کے پاس کھڑا ہو گیا ۔
مائیں رانی کی رتھ اس کے سامنے آ رکی وہ آدمی مائیں کی طرف دیکھ رہا تھا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
رتھ بان رتھ سے اترا اور اس آدمی کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
کیا تم ان عربوں میں سے ہوں جنہیں مہاراجہ نے پناہ دے رکھی ہے ؟۔۔۔۔رتھ بان نے اپنی زبان میں پوچھا ۔۔۔کیا تم نہیں جانتے تم نے کتنا بڑا جرم کیا ہے، مہارانی تمہیں رتھ کے پیچھے بندھوا کر مجھے حکم دیں گی کہ رتھ کو دوڑا دو ،تم عربی لوگ ہوتے ہی بے ادب اور بد تمیز ہو۔
میں ان عربوں میں سے نہیں ہوں۔۔۔ اس آدمی نے کہا۔۔۔ اور میں بدتمیز اور بے ادب بھی نہیں ہوں۔
اوہ ،،،،،،رتھ بان نے کہا ۔۔۔تم ہماری زبان بول سکتے ہو۔

مائیں رانی کو غصہ آنا چاہیے تھا ،وہ رتھ سے اتری غصے سے ہی تھی، لیکن اس نوجوان عرب کے سامنے جا کر رک گئی اور نظریں اس کے چہرے پر گاڑ دی، عرب کے اس باشندے کی عمر تیس سال کے لگ بھگ تھی اس کا رنگ سفیدی مائل گندمی تھا اس کی آنکھیں سیاہ تھی اور یہ آنکھیں مسکراتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں، اس کے چہرے پر جلالی سا تاثر تھا، چہرے کے خد و خال میں دلکشی تھی، اس کا قد دراز اور جسم پھریرا تھا، صاف پتا چلتا تھا کہ مائیں اس سے مرعوب ہو گئی ہے ،اس عرب کی مسکراہٹ سندھ کی اس رانی کا مذاق اڑا رہی تھی، گھوڑوں کے ٹاپ سنائی دیے چھ گھوڑ سوار ایک ٹیکری کے پیچھے سے نکلے وہ ادھر آ رہے تھے ،وہ مائیں رانی کے محافظ تھے۔
سنگرام !،،،،،،مائیں رانی نے رتھ بان سے کہا۔۔۔ سواروں کو وہیں روک لو ،رتھ لے جاؤ میں اس کی قسمت کا فیصلہ خود کرونگی۔ رتھ بان رتھ لے کر چلا گیا اور اس نے گھوڑ سواروں کو دور ہی روک دیا۔
یہاں کیوں آئے ہو؟،،،، مائیں رانی نے عرب سے پوچھا ۔۔۔ہرن کے شکار کے لیے آئے تھے؟
میں حیران میری اجازت کے بغیر لے جا تو نہیں سکو گے ۔
میں نے اسے اپنے لئے مارا ہوتا تو میں اسے مرنے سے پہلے زبح کر لیتا۔۔۔ اس خوبرو عرب نے کہا۔۔۔ میں نے اسے تمہارے لئے مارا ہے ،تم لوگ مرا ہوا جانور کھا لیا کرتے ہو۔
تم نے اسے میرے لئے کیوں مارا ہے۔۔۔ مائیں رانی نے پوچھا۔۔۔ کیا تم نے مجھے عورت سمجھ کر یہ فرض کر لیا تھا کہ میں اس ہرن کو نہیں مار سکوں گی، تم نے میرے ساتھ مذاق کیا ہے یا تم نے دیکھا نہیں تھا کہ میں اس ہرن کے پیچھے آرہی ہوں۔
میں نے تمہیں سمجھا تو ایک عورت ہی ہے۔۔۔ عرب نے کہا۔۔۔ لیکن میں نے تمہیں کمزور اور اناڑی شکاری نہیں سمجھا تھا، میں اس ٹیکری کے اوپر کھڑا تھا تم نے جب ہرنوں کی طرف رتھ دوڑائی تھی تو میں اس وقت سے تمہیں دیکھ رہا تھا، تم نے جتنے تیر چلائے وہ میں نے سب کے سب دیکھے تھے، تم نے یہ نہیں دیکھا کہ اب رتھ اچھلے گی یا اب ہرن بڑی لمبی چوکڑی بھرے گا، تم اندھا دھند تیر چلاتی رہی۔
ہرن یہاں آ گیا تو میں نے سوچا کہ اس عورت کو ہرن مار ہی دو ،مجھے ڈر تھا کہ تم رتھ سے گر پڑوں گی۔
کیا تمہیں معلوم نہ تھا میں کون ہوں؟،،،، مائیں رانی نے دبی دبی سی زبان میں پوچھا۔ نہیں!،،،،، عرب نے کہا ۔۔۔لیکن میں یہ جان گیا تھا کہ یہ جو لڑکی رتھ پر آرہی ہے اور اس کے ساتھ چھ گھوڑ سوار بھی ہیں شاہی خاندان کی لڑکی ہو گی، مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ تم راجہ داہر کی رانی ہو۔
اب تمہیں معلوم ہو گیا ہے ۔۔۔رانی نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔کیا اب بھی تم مجھ سے نہیں ڈرو گے۔
نھیں!،،،، عرب نے کہا ۔۔۔تمہارے ملک میں ڈر کے معنی کچھ اور ہوتے ہیں ،ہمارے ملک میں آؤ تو تمہیں ڈر کا مطلب بدلا ہوا نظر آئے گا، ہم صرف اللہ سے ڈرا کرتے ہیں، ہم مسلمان ہیں ہم میں کوئی راجہ اور مہاراجہ نہیں ہوتا، اور کوئی بادشاہ بھی نہیں ہوتا۔
تم یہاں کیوں آئے تھے؟،،،، مائیں رانی نے پوچھا ۔
میں ایک جرم کر چکا ہوں ۔۔۔عرب نے جواب دیا۔۔۔ اب اگر یہ بتا دو کہ میں یہاں کیوں آیا تھا تو یہ میرا دوسرا جرم ہوگا ،لیکن میں تمھیں یہ بتا دیتا ہوں کہ میں یہاں کوئی جرم کرنے نہیں آیا تھا ،میں پناہ لینے آیا ہوں۔
مائیں رانی نے اپنے رتھ بان کو بلایا، وہ رتھ دوڑاتا پہنچا۔
رانی نے اسے کہا کہ ھرن سے برچھی نکال کر یہیں رہنے دے، اور ہرن کو رتھ میں ڈال کر لے جائے، رتھ بان نے اس کے حکم کی تعمیل کی، وہ جب چل پڑا تو رانی نے اسے آواز دے کر روک لیا اور اس کے پاس چلی گئی ۔
کوئی خطرہ نہیں سنگرام!،،،،، مائیں رانی نے آہستہ سے کہا۔۔۔ پھر بھی میں اس سے کچھ باتیں معلوم کر رہی ہوں ،یہ آدمی ہمارے کام کا معلوم ہوتا ہے، تم لوگ یہاں سے تھوڑا پیچھے چلے جاؤ۔
مائیں رانی!،،،،، سنگرام نے کہا ۔۔۔جو عقل آپ میں ہے وہ ہم میں نہیں، میں صرف یہ عرض کروں گا کہ ہوشیار رہنا ،ان مسلمانوں کا کوئی بھروسہ نہیں۔
تم فکر نہ کرو۔۔۔ مائیں رانی نے کہا۔۔۔ جاؤ یہ شخص میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔
رتھ بان چلا گیا۔ رانی کے سوار محافظ بھی جو کچھ دور کھڑے تھے وہاں سے ہٹ گئے۔
رانی پھر اس عرب کے پاس جا کھڑی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   محمدبن قاسم....قسط نمبر/2

کیا تم اپنے متعلق مجھے کچھ بتاؤ گے۔۔۔ مائیں رانی نے اس عرب سے پوچھا۔
کچھ بتانے سے پہلے میں کچھ پوچھونگا۔ پوچھو!،،،،، مائیں نے کہا۔
میں تمہارے ملک سے واقف ہوں۔۔۔ عرب نے کہا ۔۔۔اس ملک کے راجہ اور ان کی رانیاں ایک عام آدمی کے ساتھ اس طرح نرمی سے بات نہیں کیا کرتے جس طرح تم کر رہی ہو، یہاں انسان انسانوں کے خدا بنے ہوئے ہیں۔
تم کوئی عام آدمی نہیں معلوم ہوتے۔۔۔ مائیں رانی نے کہا ۔۔۔تم کسی شاہی خاندان کے آدمی ہو، تم نے ہماری زبان کہاں سے سیکھی ہے، تم تو ہمارے ملک کی اور بھی کچھ باتیں جانتے ہو،،،، رانی چپ ہو گئی اور کچھ سوچ کر عرب کی طرف دیکھا اور کہنے لگی مجھے تمہارے ساتھ سختی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں میں تمہیں یہ بتا دیتی ہوں کہ تم اس وقت میرے محافظوں کے گھیرے میں ہوں اور میں تمہیں عرب کا جاسوس سمجھتی ہوں کیا تم میرا یہ شک رفع کر سکتے ہو۔
نہیں!،،،،، عرب نے کہا۔۔۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں کسی کا جاسوس نہیں میرا نام بلال بن عثمان ہے اور میں اپنی خلافت کا باغی ہوں، معلوم ہوا تھا کہ یہاں عرب کے بہت سے باشندوں نے پناہ لے رکھی ہے وہ سب باغی تھے۔
ہاں یہ صحیح ہے۔۔۔ مائیں رانی نے کہا ۔۔۔ہم نے سیکڑوں عربوں کو پناہ میں رکھا ہوا ہے تم ان کے پاس کیوں نہیں چلے گئے۔
مجھے معلوم نہیں وہ کہاں ہیں۔۔۔ عرب نے جواب دیا۔۔۔ میں اکیلا نہیں میرے ساتھ چار اور ساتھی ہیں ہم چار پانچ دنوں سے یہاں چھپے ہوئے ہیں، پتا نہیں چل رہا تھا کہ یہاں کے راجہ تک کس طرح پہنچیں اور پناہ حاصل کریں،تم نے پوچھا تھا کہ میں نے تمہارے ملک کی زبان کہاں سے سیکھی ہے ،میں لڑکپن میں اپنے باپ کے ساتھ اس ملک میں آ چکا ہوں اور میں نے پانچ سال یہی گزارے تھے ۔
کیا تم سندھ میں رہے تھے؟
نہیں رانی!،،،، بلال نے جواب دیا۔۔۔ میں سب سے پہلے سراندیپ گیا تھا۔
تم جانتی ہو گی کہ بڑی لمبی مدت سے وہاں مسلمان آباد ہیں اس کے قریب ہندوستان کے علاقے مالابار میں بھی عرب کے مسلمان آ کر آباد ہوئے تھے۔
میں جانتی ہوں ۔۔۔رانی نے کہا۔۔۔ مجھے معلوم ہے یہ عرب کے وہ مسلمان ہے جو تجارت کے لیے وہاں گئے تھے اور ان میں سے بہت سے وہی آباد ہوگئے تھے، اور میں یہ بھی جانتی ہوں کے مالابار میں جو مسلمان ہیں اسلام کی تبلیغ بھی کرتے ہیں اور انہوں نے ان علاقوں کے بے شمار دوسرے مذہبوں کے خاندانوں کو مسلمان بنا دیا ہے۔
میرا باپ بھی مبلغ تھا۔۔۔ بلال بن عثمان نے کہا۔۔۔ وہ تاجر بھی تھا ،میں اسکے ساتھ ادھر آیا تھا ،میں اپنے باپ کے ساتھ ہندوستان کے کئی علاقوں میں گیا تھا میں نے اس دوران یہاں کی زبان سیکھی تھی، باپ مجھے بھی تبلیغ کی تربیت دے رہا تھا لیکن میں سپاہ گری کا شوقین تھا ،باپ نے جب میرا یہ شوق دیکھا تو اس نے مجھے سپاہ گری کے استادوں کے حوالے کر دیا ،اور جب میں جوان ہو گیا تو اس نے مجھے واپس عرب بھیج دیا، میں خلیفہ کے لشکر میں شامل ہوگیا لیکن کچھ عرصے بعد خلافت پر جھگڑا شروع ہو گیا جو فوجی اور شہری اس وقت کے خلیفہ کے خلاف تھے انہوں نے بغاوت کردی لیکن ناکام ہوئے اور پکڑے گئے ،ان میں سے بہت سے وہاں سے بھاگ آئے تھے یہ وہ عربی باشندے ہیں جنہیں یہاں کے راجہ نے پناہ دی تھی، میں چونکہ انہی کی اولاد میں سے ہوں اس لیے مجھے بھی وہاں سے بھاگنا پڑا۔
یہ بہت پرانی بات ہے جب عرب کے باغی یہاں آئے تھے ۔۔۔مائیں رانی نے کہا ۔۔۔تم اب کیوں آئے ہو؟
میں دراصل ان کا باغی نہیں جن کے خلاف پہلے بغاوت ہوئی تھی۔۔۔ بلال نے کہا ۔۔۔بغاوت کے وقتوں میں بھی باغی ہی تھا لیکن تھوڑے عرصے سے میں نے محسوس کرنا شروع کر دیا تھا کہ آپس کی لڑائیاں اچھی نہیں ہوتی ہیں موجودہ خلافت کا وفادار ہو گیا ،لیکن وہاں ابھی تک اس خلافت کے باغی موجود ہیں انہوں نے مجھے قتل کی دھمکی دی میں دراصل باغیوں کا باغی ہو گیا تھا، اپنے ملک میں میرا زندہ رہنا مشکل ہو گیا تھا، اس لئے میں اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ یہاں آگیا ہوں میں اب بھی سوچ میں پڑا ہوا ہوں کبھی خیال آتا ہے کے میں شاید غلطی پر ہوں اور مجھے باغیوں کا ساتھ دینا چاہیے۔
مائیں رانی کے چہرے کے تاثرات کچھ اور تھے یہ تاثرات کسی رانی کے چہرے کے نہیں بلکہ ایک عام سی لڑکی کے تاثرات تھے، ایسے تاثرات چہرے پر اس وقت آیا کرتے ہیں جب کوئی آدمی دل کو اچھا لگتا ہے، اور دل کہتا ہے کہ یہ سامنے بیٹھا رہے بولتا رہے اور میں سنتی رہوں۔
کیا تم مجھ پر اعتبار کر سکتی ہوں؟،،،، بلال بن عثمان نے رانی سے پوچھا ۔۔۔میں تیرے محل میں جو بھی نوکری ملے کرنے کو تیار ہوں، میں کہتا ہوں کہ مجھے کوئی ٹھکانہ مل جائے تو میں اطمینان سے بیٹھ کر سوچو کہ صحیح کون اور غلط کون ہے، کیا میں ہی غلطی تو نہیں ہے۔
میں تمہارے لئے کچھ کرو گی۔۔۔ مائیں رانی نے کہا۔۔۔ ہماری ایک اور ملاقات ہونی چاہیے۔ جہاں کہوں گی وہاں آ جاؤں گا ۔۔۔بلال نے کہا۔
مائیں رانی نے بلال کو قلعے کے قریب ایک جگہ بتا کر کہا کہ وہ اگلے روز وہاں پہنچ جائے۔ یہ کہہ کر مائیں رانی چلی گئی ۔
بلال وہاں سے چل پڑا اور ایک اونچی ٹیکری کے پیچھے چلا گیا وہاں عرب کے چار جوان آدمی اس کے انتظار میں کھڑے تھے، وہ وہاں کچھ دنوں سے چھپے ہوئے تھے بلال نے راجہ داہر تک رسائی حاصل کرنے کا یہ طریقہ اختیار کیا تھا جو اتفاق سے اس کے سامنے آگیا تھا۔ اس نے قید ہونے کا خطرہ بھی مول لے لیا تھا۔ یہ تو اسے توقع ہی نہیں تھی کہ مائیں رانی اس سے اس طرح متاثر ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   رمضان المبارک میں ان عادات و کاموں سے دور رہیں گے تو مکمل صحت کے ساتھ اس ماہ مقدس کی برکات سے مستفید ہو سکیں گے. انتخاب ایم آر شاہد

سندھ کے علاقے میں ان پانچ عربوں کی موجودگی کوئی عجیب بات نہیں تھی، محمد بن قاسم کی پیدائش سے بہت پہلے عرب کے مسلمان ہندوستان کی زمین پر موجود تھے، سب سے پہلے اسلام ہندوستان کے جنوبی علاقے مالابار میں آیا تھا ،اس وقت وہاں چار مذہب تھے بدھ مت، ہندومت ،عیسائیت ،اور یہودیت ،،،،،،
یمن، حجاز، اور مسقط کے عرب بھی وہاں موجود تھے وہ جہاز ران اور تاجر تھے ان میں سے بعض یہی آباد ہوگئے تھے ،اس وقت وہ مسلمان نہیں تھے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مقدسہ میں ہی اسلام بالامار میں پہنچ گیا تھا، جس اجالے کو غار حرا کی تاریکی نے جنم دیا تھا اس کی شعاعیں ان عرب تاجروں کے ذریعے مالابار میں پہنچی تھی جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا ،مالابار سے آگے سراندیپ (موجودہ سری لنکا) تھا ،وہاں بھی عرب کے مسلمان تاجر اور جہازراں آن پہنچے اور ان کے ساتھ اسلام بھی آیا ،سراندیپ کے مقامی باشندے سب سے پہلے تو مسلمانوں کے اخلاق اور کردار سے متاثر ہوئے اور جب مسلمانوں نے اسلام کی تبلیغ شروع کی تو لوگوں کو پتہ چلا کہ اسلام کے بنیادی اصول اور تعلیمات کیا ہیں تو وہ اسلامی مساوات سے متاثر ہوئے، اسلام راجہ اور رعایا کے تصور کو رد کرتا تھا، چنانچہ دوسرے مذاہب کے لوگ بڑی تیزی سے اسلام قبول کر نے لگے، یہاں تک کہ سراندیپ کے راجہ نے بھی اسلام قبول کر لیا ،مالابار کے راجا زمورن نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے روانہ ہوا لیکن عرب کے ساحل سے کچھ دور بحری جہاز میں فوت ہو گیا اسے یمن کے ساحل پر دفن کیا گیا ۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں ایک سالار عثمان بن ابی عاص نے بمبئی کے قریب تھانہ بندرگاہ کے علاقے پر حملہ کیا تھا اس حملے کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کے جنوبی علاقوں میں عرب کے جو تاجر اور جہازراں جاتے ہیں ان کی حفاظت کے لیے ہندوستان کی کسی بندرگاہ پر قبضہ کیا جائے۔
یہ ہندوستان پر مسلمانوں کا پہلا حملہ تھا مگر یہ حملہ امیرالمومنین کے حکم کے بغیر کیا گیا تھا، حملہ کامیاب تھا لیکن اس بندرگاہ پر قبضہ نہ کیا گیا ،مورخ بلاذری لکھتا ہے کہ جب عثمان بن ابی عاص نے مال غنیمت میں سے بیت المال کا حصہ مدینہ بھیجا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بڑا سخت پیغام بھیجا انہوں نے لکھا۔
میرے ثقفی بھائی تیری یہ کاروائی بہت خطرناک تھی ، جو فوج اس حملے کے لئے لے گیا تھا وہ تو ایک کیڑے کی مانند تھی جسے تو نے لکڑی پر بٹھا کر سمندر میں ڈال دیا تھا اگر یہ فوج اتنی دور جاکر کسی مشکل میں پھنس جاتی تو خدا کی قسم میں تیرے قبیلہ ثقیف سے اتنے آدمی لے لیتا ۔
اس کے کچھ ہی دنوں بعد عثمان بن ابی عاص نے امیرالمومنین کی اجازت سے سندھ پر ایک اور حملہ کیا انہوں نے اپنے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا ایک حصے کے سالار عثمان خود تھے اور انہوں نے دوسرے حصے کی کمان اپنے بھائی مغیرہ کو دی تھی، لشکر کا یہ حصہ بحری بیڑے میں گیا تھا اور سمندر کی طرف سے دبیل کے مقام پر حملہ کیا گیا تھا، عثمان نے خود ایک اور مقام پر حملہ کیا تھا جو برج کے نام سے مشہور ہے۔ اس وقت راجہ چچ سندھ کا حکمران تھا۔ دبیل کا حاکم چچ کا ایک بڑا دلیر جرنیل سامہ تھا۔ اس نے اپنی فوج کو قلعے سے باہر لاکر عثمان بن ابی عاص کے بھائی مغیرہ کا جم کر مقابلہ کیا، مغیرہ دشمن کی فوج کے قلب تک پہنچ گیا اور سامہ کو للکارا اس طرح دونوں فوجوں کے سالار آمنے سامنے ہوئے مغیرہ نے بسم اللہ اور فی سبیل اللہ کا نعرہ لگایا، اور سامہ پر حملہ کیا سامہ زخمی تو ہوا لیکن جو زخم مغیرہ نے کھائے وہ مہلک ثابت ہوئے اور مغیرہ شہید ہوگئے، فتح تو مسلمانوں کو ہی حاصل ہوئی لیکن یہ فتح خاصی مہنگی پڑی کچھ وجوہات کی بنا پر ان مقامات پر قبضہ نہ کیا گیا ہے۔
اس کے چھ سال بعد ایک اور سپہ سالار عبداللہ بن عامر بن ربیع نے ایران کو فتح کیا پھر وہ سیستان پر حملہ آور ہوئے جہاں کے حاکم مرزبان نے ہتھیار ڈال دیے، سیستان پر قبضہ مکمل ہوگیا تو سپہ سالار عبداللہ نے اپنے ایک اور سالار قلبی کو مکران پر حملے کے لئے بھیجا ،اس وقت مکران پر راجہ راسل کی حکمرانی تھی اس نے سندھ کے راجہ چچ سے مدد مانگی، چرچ نے راسل کی مدد کے لئے اپنی فوج بھیج دی اس طرح دشمن کی تعداد دگنی سے بھی بڑھ گئی اس کے باوجود مسلمانوں نے فتح پائی اور مکران کے ایک بڑے حصے پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔
اس سے پہلے بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں ان کے مقرر کیے ہوئے عراق کے حاکم ابو موسی اشعری نے اپنے ایک سالار ربیع بن زیاد حارثی کو فوج دے کر مکران پر حملہ کر آیا تھا، اور مکران تہ تیغ بھی ہو گیا تھا لیکن فوج کو واپس بلا لیا گیا۔
ابو موسی اشعری نے مکران کے مال غنیمت میں سے بیت المال کا حصہ الگ کر کے امیر المومنین کو بھیجا یہ مال غنیمت لے جانے والے ایک تجربے کار کماندر صحارعبدی تھے۔
اللہ تم سب کو یہ فتح مبارک کرے۔۔۔ امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔۔ تم سب پر اللہ کی رحمت ہو یہ بتا مکران کا علاقہ کیسا ہے؟،،،،، وہاں کے لوگ کیسے ہیں، اور وہاں کی زمین کیسی ہے؟ امیرالمومنین!،،،،، صحار نے کہا ۔۔۔خود پیاسی ہے، پھل نہیں، پھول بھی نہیں ،پھل ہے تو وہ کھانے کے قابل نہیں، وہاں کے لوگ لوٹ مار کے دلادہ، ایک دوسرے کو لوٹتے اور زندہ رہتے ہیں، زندہ رہنے کے لئے دوسروں کو قتل کرتے ہیں، اگر ہم نے وہاں تھوڑی فوج رکھی تو اسے لوٹ لیا جائے گا ،اور اگر زیادہ فوج رکھی تو بھوک اور پیاس سے مر جائے گی۔
تجھ پر اللہ مہربان ہو ۔۔۔عمر فاروق رضی اللہ عنہ صحارعبدی کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔۔۔تو شاعری کررہا ہے وہاں کی صحیح حالات بیان کر۔
امیرالمومنین!،،،،، صحارعبدی نے کہا ۔۔۔جو دیکھا ہے وہ بیان کیا ہے، خدا کی قسم جو کوئی وہاں جائے گا یہی بتائے گا جو میں نے امیر المومنین کی خدمت میں بیان کیا ہے۔ صداقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
نہیں صحار!،،،،،،امیرالمومنین نے دوٹوک لہجے میں کہا۔۔۔ مجاہدین اسلام کو بھوکا اور پیاسا نہیں مارا جاسکتا ،قیصروکسریٰ سے ہتھیار ڈلوانے والے مجاہدین کی یہ توہین نہیں کی جاسکتی کہ وہ سو رہے ہوں تو ڈاکو انہیں لوٹ لیں، وہ بھوک اور پیاس سے سسک سسک کر جان دے دیں۔
امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ لشکر کو واپس بلا لیا جائے، کچھ حصے پر قبضہ رکھا گیا اور جو علاقہ حکم تغلبی نے فتح کیا تھا اسے چھوڑ دیا گیا۔
ہندوستان کے مغربی علاقوں میں مسلمانوں کی پیشقدمی اور فتوحات مکران پر ہی ختم نہیں ہوجاتی، یہ تفصیلات خاصی طویل ہے بات چونکہ تاریخ اسلام کے عظیم اور سب سے کم عمر سالار محمد بن قاسم کی ہورہی ہے اس لئے ہم اس روئیداد کو سندھ تک ہی محدود رکھیں گے۔
عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ مسند خلافت پر رونق افروز ہوئے اس دور میں بھی ہندوستان کے مغربی علاقوں میں مسلمانوں کی پیشقدمی جاری رہی، پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کی خلافت کا دور شروع ہوا جس میں مسلمان قلات تک پہنچے ،اس کے بعد علی کرم اللہ وجہہ الکریم بھی شہید ہوگئے اور خلافت بنو امیہ کے پاس چلی گئی۔
بنو امیہ کے دور میں بھی ہندوستان کے مغربی علاقوں میں مسلمان حاکم رہے لیکن پیچھے اس مرکز میں جہاں سے اسلام کی کرن پھوٹی اور دور دور تک پہنچی تھی ان میں دولت اور اقتدار کی ہوس پیدا ہو گئی اور خلافت ایک متنازع مسند بن گئی، اس ہوس نے ان مسلمانوں کو جنہوں نے اسلام کو کرہ ارض کے گوشے گوشے تک پہنچانا تھا خانہ جنگی میں الجھادیا ،نیک و بد کے، جھوٹے اور سچے کی ،حق اور باطل کی تمیز ختم ہوگئی، جنہوں نے حق کا پرچم بلند کیا انہیں باغی کہا گیا۔ ظلم و تشدد کا دور شروع ہوگیا جس نے ظلم و تشدد میں سب سے زیادہ نام پایا وہ محمد بن قاسم کا چچا حجاج بن یوسف تھا، اب اقتدار کے ان پجاریوں نے اسلام اور اللہ اکبر کے نعروں کو سیاست کا رنگ دے دیا۔
مسند خلافت پر جو معرکہ آرائی ہوئی ہم اس کی تفصیلات میں بھی نہیں جارہے مختصر بات یہ ہے کہ وہ وقت بھی آیا کہ خلافت دو حصوں میں بٹ گئی دارالخلافے دو ہو گئے یوں کہہ لیں کہ اسلام کا جگر دو حصوں میں کٹ گیا، پھر عبدالملک بن مروان کا دور خلافت شروع ہوا تو اس نے بغاوتوں اور خانہ جنگی کی کیفیت کو ختم کیا اور اموی حکومت کو مستحکم کیا، حجاج بن یوسف اسی دور میں حاکم بنا اور شہرت پائی۔
بغاوت کے دور میں تقریبا پانچ سو سرکردہ عرب راجہ داہر کے پاس پہنچے اور انہیں راجہ داہر نے پناہ دے کر مکران کے اس علاقے میں آباد کر دیا تھا جو اس کے قبضے میں تھا ،ان پناہ گزینوں میں اکثریت علافی خاندان کی تھی، یہ ایک مشہور جنگجو قبیلہ تھا۔
بلال بن عثمان اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ پناہ لینے ہی آیا تھا چونکہ وہ اجنبی تھے اس لئے بھٹکتے اور چھپتے پھر رہے تھے، انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ اس سندھ کے راجہ نے عرب کی خلافت کے ساتھ دشمنی پیدا کر لی تھی، اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اس نے خلافت کے باغیوں کو پناہ دے رکھی تھی، اور دوسری وجہ یہ کہ اس کے باپ چچ نے مسلمانوں کے خلاف مکرانیوں کو مدد دی تھی، اس وجہ سے بھی بلال بن عثمان ڈرتا تھا کہ راجہ داہر انہیں گرفتار کر کے قید خانے میں ڈال دے گا۔
جاری ہے

یہ بھی پڑھیں:   محمدبن قاسم...قسط نمبر/5