کوالکوم نے 2020ء کے اسمارٹ فون کے لیے نئی چپ پیش کردی

بیجنگ: تصویر میں دکھائی دینے والی مائیکروچپ کوالکوم کمپنی کی نئی اختراع ہے جو دنیا بھر کے اسمارٹ فون کے لیے پروسیسر بنانے والی ایک بڑی کمپنی ہے، توقع ہے کہ اگلے سال اکثر اسمارٹ فون میں یہی چپ استعمال ہوگی جسے ’اسنیپ ڈریگن 865‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ اپنی سابقہ چپ کے مقابلے میں 25 فیصد تیز رفتار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پانی میں شامل پلاسٹک کو بلبلوں سے باہر نکالا جاسکتا ہے

اس چپ کی بدولت فائیو جی اسمارٹ فون کا خواب پورا ہوگا، اسمارٹ فون کے کیمرے مزید بہتر ہوں گے اور ایچ ڈی آر سمیت ڈولبی وژن جیسی نئی ڈسپلے ٹیکنالوجی پروان چڑھیں گی۔ گزشتہ کئی برس سے کوالکوم کی اسنیپ ڈریگن چپس اسمارٹ فون کی دنیا پر چھائی ہوئی ہیں۔ اس سال ہم نے گوگل پکسل فور ایکس ایل سے لے کر سام سنگ گیلکسی نوٹ ٹین میں بھی اسنیپ ڈریگن 855 سیریس کی مائیکروچپس دیکھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   انسٹا گرام کا دنیا بھرمیں پوسٹس پر لائکس ظاہر نہ کرنے کا تجربہ

اب نئی 865 چپ گزشتہ چپ کے مقابلے میں نہ صرف 25 فیصد تیز رفتار ہے بلکہ فائیو جی میں اس کی اسپیڈ 7.5 جی پی بی ایس ہے۔ اس میں اسپیکٹرا 480 امیج سینسر بھی موجود ہے جو ہر سیکنڈ میں دو گیگا پکسل فوٹو یا ویڈیو پروسیس کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فیس بک نے اکاؤنٹ کے لیے چہرے کی شناخت پر کام شروع کردیا

اس چپ کی بدولت 720 پکسل ویڈیو کو 960 فریم فی سیکنڈ کی رفتار سے بھی دیکھنا ممکن ہوگا اور سب سے بڑھ کر صارفین ڈولبی وژن کے مزے بھی اپنے اسمارٹ فون پر لے سکیں گے تاہم یاد رہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی 2021ء کے اوائل میں ہی دستیاب ہوسکے گی۔