اسپرین سے موٹے افراد میں مہلک کینسر کے خطرے میں کمی

میری لینڈ: جن لوگوں کا وزن بڑھ رہا ہے اور وہ موٹاپے کی طرف مائل ہیں، اگر وہ ہفتے میں صرف تین مرتبہ بھی اسپرین کا استعمال کرتے رہیں تو ان میں کینسر سے موت کا خطرہ 15 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

یہ خلاصہ ہے امریکا کے ’’نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ‘‘ میں 146,000 افراد پر کی گئی 15 سالہ تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کا، جن سے پتا چلتا ہے کہ ایسے لوگ جو طبّی اصطلاح میں ’’زائد وزن‘‘ (اوور ویٹ) کہلاتے ہیں، اگر وہ ہفتے میں تین یا زیادہ مرتبہ اسپرین کی کم مقدار استعمال کرتے رہا کریں تو کینسر سے ان کی موت کے امکان میں 15 فیصد کمی واقع ہوتی ہے جبکہ مجموعی طور پر، کسی بھی دوسری طبّی وجہ سے، ان کی موت کے امکانات 19 فیصد کم رہ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان سے ایڈز جیسے موذی مرض کا خاتمہ؟

واضح رہے کہ کسی شخص کا وزن نارمل یا زیادہ ہونے کا تعین اس کے ’’باڈی ماس انڈیکس‘‘ (بی ایم آئی) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جس کا حساب لگانے میں قد، وزن، عمر اور جنس کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جن افراد کا بی ایم آئی 25 سے 29.9 کے درمیان ہو (یعنی جن کا وزن نارمل سے زیادہ ہو لیکن ابھی وہ موٹاپے کی حدود میں داخل نہ ہوئے ہوں)، کم مقدار میں اسپرین کا باقاعدہ استعمال انہیں طویل مدتی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ملک بھر میں پولیو کے 77اور پنجاب میں 5کیس سامنے آنے کے بعد صوبے کے چھ اضلاع میں انسداد پولیو مہم شروع کردی گئی

ریسرچ جرنل ’’جاما نیٹ ورک اوپن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی یہ تحقیق واضح طور پر اسپرین کے حق میں جارہی ہے لیکن حالیہ برسوں کے دوران اسپرین پر کی گئی مختلف تحقیقات سے معاملہ خاصا الجھ گیا ہے۔ اس میں ایک طرف ایسے مطالعات ہیں جو اسپرین کے نقصانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جبکہ دوسرے مطالعات جو اتنے ہی معتبر ہیں، اسپرین کے فوائد کا پتا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اہلِ خانہ سے کشیدہ تعلقات سنگین امراض کی وجہ بن سکتے ہیں، تحقیق

البتہ، اس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپرین کے منفی اثرات اس کے زیادہ استعمال کا نتیجہ ہیں؛ اور یہ کہ اسے کم مقدار میں اپنے معمولات کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ کم مقدار میں اسپرین کا استعمال بطورِ خاص ایسے افراد کے لیے تجویز کیا جاتا ہے جن کی عمر 50 سے 60 سوال کے درمیان ہو۔ تاہم، اسپرین کی ’’کم مقدار‘‘ کا تعین ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا چاہیے اور اس بارے میں خود سے کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔

کیٹاگری میں : صحت