🌹زندہ درگور🌹

تحریر: منورہ نوری خلیق

اب ہے کیا لاکھ بدل چشمِ گریزاں کی طرح
میں ہوں زندہ تیرے ٹوٹے ہوئے پیماں کی طرح

اس دور پرآشوب کا قصہ جب لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، اسے بھی باپ نے موت کی نیند سلانے کے لئے زندہ دفن کرنا چاہا تھا مگر لوحِ تقدیر میں تو کچھ اور ہی لکھا تھا۔۔۔

قسط #1

رات سرد بھی تھی اور تاریک بھی، کبھی کبھی بجلی چمکتی تو لمحہ بھر کو قرب و جوار کا منظر نظر آجاتا ورنہ سیاہ چادر تنی ہوئی تھی۔ ایسے میں ایک قلعہ نما مکان کے سامنے تین آدمی کھڑے سرگوشیاں کررہے تھے، ایک سرگوشی ابھری۔
“آقا! یہ علاقے کے قبرستان کا گورکن ہے جسے آپ نے طلب کیا تھا۔”
“اچھا۔۔۔۔۔۔۔!” جواب ملا۔ “اسے سب کچھ بتادیا ہے؟”
اب خاموشی چھاگئی شاید سردار اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اس کلبلاتے ہوئے وجود کو محسوس کررہا تھاجس کے سبب ناگواری کی لہریں اس کے دل و دماغ میں اٹھ رہی تھیں، اسی وقت بجلی چمکی۔ اس نے دیکھا کہ سیاہ عمامہ سے اپنا نصف چہرہ ڈھانپے ہوئے وہ شخص حاضر تھا جسے اس نے طلب کیا تھا۔ اس نے تحمکانہ لہجے میں کہا۔
“اسے لے جاؤ اور صبح ہونے سے پہلے پہلے دفن کردو۔”
“بہتر ہے حضور ۔جو حکم سرکار کا۔”
سرگوشی ابھری اور بچی ایک ہاتھ سے نکل کر دوسرے ہاتھ میں پہنچ گئی۔ بجلی پھر چمکی۔ اب بچی دینے والے نے واپسی کے لئے اس قلعہ نما مکان کی طرف رخ موڑ لیا اور بچی کو لے جانے والے نے قبرستان کی طرف لے جانے والی سڑک کی طرف قدم بڑھا دئیے اور اس تاریکی میں ایک بہت بڑے گناہ کا فیصلہ ہوگیا۔
خالقِ کائنات نے تو رات آرام کے لئے بنائی تھی اور دن کام کے لئے لیکن انسان رات کی تاریکی سے بھی متعدد فائدے اٹھا لیتا ہے۔
جوشن شاہ بھی ایسا ہی سردار تھا جو تاریکی میں عیش بھی کرتا تھا، گناہ بھی اور گناہوں کی پردہ پوشی بھی۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ بچی نہ گناہ کا نتیجہ تھی نہ عیش و عشرت کا بلکہ وہ تو اس کی منکوحہ بیوی صفورہ کی وہ بیٹی تھی جو برسوں کی مایوسی کے بعد دنیا میں آئی تھی۔ پچھلے کئی برسوں میں اس سردار کی کئی بیویوں اور لونڈیوں نے صرف بیٹیوں کو ہی جنم دیا تھا جنہیں پیدا ہوتے ہی دفن کر دیا جاتا تھا کیونکہ اپنی بے حساب دولت اور اسلاف کی چھوڑی ہوئی جائداد کے لئے سردار کو بیٹی کی نہیں، بیٹے کی ضرورت تھی لہذا یہ بچی بھی لیجائی گئی تھی جسے دینے کے بعد جوشن شاہ پورے اطمینان کے ساتھ اس قلعہ نما مکان میں داخل ہوگیا جہاں اس بدنصیب ماں کے کمرے میں سب جمع تھے جس کا دل نوچ لیا گیا تھا۔ شمع کی تیز روشنی غموں کے پردے چاک کررہی تھی اور ہر چہرہ پہچانا جاسکتا تھا۔
یہ صفورہ تھی، سردار جوشن شاہ کی وہ بیوی جو ولادت کے درد کو بھول کر اپنی بچی کے غم سے تڑپ رہی تھی اور سردار کی باقی بیویاں ہالہ، زینب اور سودہ اس کے درد کو پرانی یادوں کی کسک محسوس کرتے ہوئے اشک بار تھیں۔ لونڈیاں خوفزدہ سی کھڑی اپنی نم نم آنکھوں کو صاف کررہی تھیں۔ جوشن شاہ نے باری باری ان سب کو دیکھا تو سب نے دم سادھ لیے مگر وہ غصے سے بے قابو ہوگیا تھا، آنکھیں باہر نکلنے کو تیار اور چہرہ سرخ ہورہا تھا۔ اس نے سب پر نظر کرتے ہوئے اور گرجتے ہوئے کہا۔
“میں نے یعنی سردار جوشن نے برسوں تم پر رحم کیا، مہربانیاں روا رکھیں لیکن آج میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر اس کے بعد اس گھر میں کسی عورت نے کسی بیٹی کو جنم دیا تو میں اس بیٹی کے ساتھ اسے بھی دفن کردوں گا۔”
اس اعلان پر یہاں پر موجود سب عورتیں سہمی گئیں لیکن یہ سن کر زینب خوف سے پیلی پڑ گئی تھی۔
اپنے اندر کے وجود نے اسے خوفزدہ کردیا تھا۔ اس نے کچھ نہیں کہا، بس اس تاریک رات میں آسمان کی طرف دیکھا اور بے آواز بولی۔
“رب کائنات! میرے بچے کی حفاظت کرنا”
بجلی پھر چمکی۔ نہیں جانے دعا کی قبولیت کا اعلان تھا یا ابرِِ باراں برسنے کی بشارت۔ جوشن شاہ یہ اعلان کرکے چلا گیا اور اسے پتہ ہی نہ چلا کہ اس اندھیری رات میں کون، کب تک تڑپتی رہی، اور دنیا سے مایوس ہو کر کس نے دربار حقیقی سے کیا مانگا؟ نہ وہ آرزو سن سکتا تھا نہ جذبات کو محسوس کرسکتا تھا۔ بچی دفن کرنے کے لئے بھیج دی گئی تھی اور وہ جو ہر بیٹی کو اسی طرح بھیج دینے کے بعد عیش و عشرت میں مصروف ہوجاتا تھا، آج بھی مصروف ہوگیا تھا۔
عجیب بات تھی کہ اپنی لڑکیوں کو دفن کردینے والے دور دراز سے لڑکیاں منگاتے اور عیش کرتے تھے۔
وقت گزرتا رہا، زینب خوفزدہ رہی۔ اپنے اندر پلنے اور بڑھنے والا وجود اسے ڈراتا رہا۔ وہ چشم تصور سے اپنی بیٹی کو دفع ہوتے دیکھتی تو چیخ مار کر ہوش میں آجاتی پھر گھنٹوں روتے اور سسکتے ہوئے گزر جاتے۔ وہ گڑگڑا کر اپنے بیٹے کے لئے دعا کرتی رہتی۔ صفورہ کا غم اس سے بڑھ کر تھا، وہ سوچوں ہی سوچوں میں ایک کلبلاتے ہوئے وجود کو محسوس کرتی جو اس سے چھین لیا جاتا۔ وہ روتی سسکتی مگر جاتے ہوئے جوشن شاہ کو دیکھتی پھر وہ خالی ہاتھ واپس آتا نظر آتا اور پھر اسے خبر سنا دی جاتی کہ جس بچی کو اس نے جنم دیا تھا، وہ زندہ دفن کردی گئی۔۔۔
یہ دونوں زندہ عورتیں خود کو زندگی سے بہت دور محسوس کرتیں۔ ان کے دکھ کا اندازہ کسی کو بھی نہیں تھا۔ ان کے علاوہ اس مکان کی ہر عورت سہمی ہوئی تھی۔ وقت اپنے دامن میں ان کے دکھوں کے لاتعداد واقعات سمیٹے گزر گیا اور خالق کائنات نے اگر سب کی نہیں تو زینب کی دعا ضرور قبول کر لی تھی کہ اسی گھر میں اسی سردار جوشن کے گھر زینب کے بطن سے بیٹے نے جنم لیا۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:   حیات جرم نا ہو، زندگی وبال نا ہو!

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📚
پیشکش: