بھارت میں ماحول مسلمان نہیں ہندو خراب کرتے ہیں

Spread the love

نئی دہلی : بھارتی سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل کا کہنا ہے کہ بھارت میں ماحول مسلمان نہیں ہندو خراب کرتے ہیں، بھارتی میڈیاکے مطابق بھارت سپریم کورٹ کے سینئر وکیل راجیو دھون نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت میں مسلمانوں نے کبھی ماحول کو خراب نہیں کیا بلکہ ماحول میں تلخی اور کشیدگی انتہا پسند ہندوپیدا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   شہزادہ ہیری کے بعد شہزادہ ولیم کے جوتے میں بھی سوراخ

سینئر وکیل نے سپریم کورٹ کے بابری مسجد بارے فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہوئی ہے، راجیو دھون نے کہاکہ سپریم کورٹ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بابری مسجد کی جگہ مسلمانوں کو کہیں اور پانچ ایکڑ جگہ خیرات کی شکل میں دیں، انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کو یہ یکطرفہ فیصلہ تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایران میں کارگو طیارہ لینڈ نگ سے قبل ایئر پورٹ کی حدود پر بنی دیوار سے ٹکرا گیا

راجیو دھون کا شمار بھارت کے معروف وکلاء میں ہوتا ہے، ان کے اس انٹرویو کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے ساتھ ساتھ دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، ان کے انٹرویو کو بھارتی میڈیا اشتعال انگیزی کے مترادف قرار دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   محبوبہ مفتی کی بیٹی کو بھارتی جبر کے خلاف آواز اُٹھانے پر دھمکیاں