بھارت میں ماحول مسلمان نہیں ہندو خراب کرتے ہیں

نئی دہلی : بھارتی سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل کا کہنا ہے کہ بھارت میں ماحول مسلمان نہیں ہندو خراب کرتے ہیں، بھارتی میڈیاکے مطابق بھارت سپریم کورٹ کے سینئر وکیل راجیو دھون نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت میں مسلمانوں نے کبھی ماحول کو خراب نہیں کیا بلکہ ماحول میں تلخی اور کشیدگی انتہا پسند ہندوپیدا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان فضائی حدود کی اجازت دے رہا ہے، امریکہ

سینئر وکیل نے سپریم کورٹ کے بابری مسجد بارے فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہوئی ہے، راجیو دھون نے کہاکہ سپریم کورٹ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بابری مسجد کی جگہ مسلمانوں کو کہیں اور پانچ ایکڑ جگہ خیرات کی شکل میں دیں، انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کو یہ یکطرفہ فیصلہ تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   شام میں اسپتالوں اور فوجی تنصیبات پر بمباری میں 45 افراد ہلاک

راجیو دھون کا شمار بھارت کے معروف وکلاء میں ہوتا ہے، ان کے اس انٹرویو کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے ساتھ ساتھ دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، ان کے انٹرویو کو بھارتی میڈیا اشتعال انگیزی کے مترادف قرار دے رہا ہے۔