پاکستانی شہری کو سال میں کتنے انجکشن لگائے جاتے ہیں

Spread the love

اسلام آباد : وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہرشہری کو سالانہ10 انجکشن لگائے جاتے ہیں، لاڑکانہ میں ایڈز کے پھیلا کی اہم وجہ سرنج کا دوبارہ استعمال بنا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں مریضوں کی حفاظت کے بارے میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ادویات کی غیراخلاقی تشہیر روکنے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام آباد ،موسم کی تبدیلی کے باوجود ڈینگی کنٹرول نہ ہو سکا، پولی کلینک میں 36 مریضوں میں ڈینگی کی تصدیق

معاون خصوصی نے کہا کہ ملک کی75فیصد آبادی کا انحصار نجی ہیلتھ سیکٹر پر ہے، میڈیکل انڈسٹریز اور ڈاکٹرز کا اتحاد توڑنا ہوگا، ڈاکٹرز ہر کانفرنس کیلئے فنڈنز لیتے ہیں، وفاقی ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں انجیکشنز لگائے جانے کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے، ملک میں ہرشہری کو سالانہ10انجیکشنز لگائے جاتے ہیں، شہریوں کو لگنے والے95فیصد انجکشنز غیر ضروری ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   فاسٹ فوڈ اور فرائیڈ اندازے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، تحقیق

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر دسواں شخص ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہے، 85فیصد سرنجوں کا ایک سے زائد بار استعمال کیا جاتا ہے، لاڑکانہ میں ایڈز کے پھیلا ئوکی اہم وجہ سرنج کا دوبارہ استعمال بنا، مریضوں کی حفاظت ڈاکٹرز کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔‎

کیٹاگری میں : صحت