ترکی اور روس کی افواج میں جنگ چھڑ گئی،شدیدگولہ باری

Spread the love

ماسکو/دمشق: شام میں الرقہ صوبے کے شہر عین عیس میں ایک فوجی اڈے پر تعینات روسی فورسز نے ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا شامی گروپوں کو بم باری کا نشانہ بنایا ہے۔ جواب میں ترکی کی جانب سے بھی گولہ باری کی گئی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شام میں انسانی حقوق کے گروپ المرصد نے یہ تصدیق کی کہ روسی فوجی اڈے کی جانب سے ترکی کے ہمنوا گروپوں کے ٹھکانوں پر 5 راکٹ داغے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی، مسلمانوں نے قانونی مدد لے لی

اس پر ترکی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 5 راکٹ داغے جو روسی اڈے کے احاطے میں گرے۔المرصد کو یہ بھی معلوم ہوا کہ روسی فورسز اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان ایک اجلاس ہوا۔ اس موقع پر روسی فورسز نے باور کرایا کہ ترکی کی فورسز اور اس کے ہمنوا گروپوں کے پیچھے نہ ہٹنے کی صورت میں انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   انتہا پسندوں نے دو کشمیریوں پر حملہ کردیا، گالیاں، لاٹھیاں، بدترین تشدد، ویڈیو منظرعام پر آگئی

روسی فورسز شمالی شام میں سیکورٹی اقدامات میں شریک ہیں۔اس دوران ترکی کی فورسز اور اس کے ہمنوا گروپوں، اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان سیف زون کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔انقرہ نے شمالی شام میں کرد گروپوں کے خلاف حملہ شروع کیا تھا۔ یہ گروپ دباؤ کے تحت پیچھے ہٹ گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   مرضیہ ہاشمی ایران میں ایک مذہبی تقریب میں اظہار خیال کر رہی ہیں

بعد ازاں واشنگٹن اور ماسکو کی جانب سے مداخلت سامنے آئی تا کہ شمالی شام میں سرحد سے 30 کلو میٹر اندر تک ایک سیف زون کے قیام پر عمل درامد ہو سکے۔ اس کوشش کا مقصد ترکی کی سرحد پر کرد گروپوں کی موجودگی کے حوالے سے انقرہ کے اندیشوں کو دور کرنا ہے۔