بچوں کی توجہ اسمارٹ فون سے ہٹانے کے لیے چوزوں کی تقسیم

جکارتا: انڈونیشیا کے ایک شہر میں بچوں کو اسمارٹ فون کی لت سے بچانے کے لیے ان میں نرم جلد اور ملائم کھال والے چوزے تقسیم کئے گئے ہیں۔

اس ضمن میں چار دن کے چوزے بوندگ شہر کے اسکولوں کے 2000 بچوں میں تقسیم کئے گئےاور اس کا اہم مقصد بچوں کو ٹیبلٹ اور فون سے دور رکھنا تھا۔ اس عمل کو انہوں نے مرغیانہ یا چکنائزیشن کا نام دیا ہے۔ ہر طالبعلم کو یہ ذمے داری سونپی گئی کہ وہ صبح و شام چوزوں کو دانی اور پانی دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   گھوڑے کی جگہ ڈنڈنے پر سوارہونے کی بھارتی پولیس کی انوکھی مشق،ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل

کچھ بچوں کو پنجرے بھی دیئے گئے ہیں جس میں لکھا ہے کہ ’ برائے مہربانی میرا اچھی طرح سے خیال رکھنا۔ یہ اسکول جکارتہ سے 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اور بچوں سے کہا گیا ہے کہ اگر اسکول میں جگہ نہ ہوتو وہ اسے اپنے گھر لے جاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   غیر ملکی گائیں ہماری ماتا نہیں، آنٹیاں ہیں، بی جے پی صدر

تاہم انڈونیشیا کے صدر جوکو وائڈوڈو نے بھی ایک مہم کا آغاز کیا ہے جس میں شہریوں کو بھی پولٹری فارم کی ترغیب دی جاری ہے تاکہ وہ انڈے اور اور مرغی کے گوشت میں خود کفالت حاصل کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب اسکول کے بچے بھی خوشی خوشی چوزے لے کر گھر چارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   چینی مالکان کا ملازمین کے پاؤں دھوکر ان کی خدمات کا اعتراف

ایک بچے کی ماں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ اس کا بچہ اسمارٹ فون دیکھنا چھوڑ دے اور مستقبل میں مرغبانی کا کام کرے۔ دوسری جانب بچوں نے بھی مرغبانی اور چوزے پالنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔