پانی میں شامل پلاسٹک کو بلبلوں سے باہر نکالا جاسکتا ہے

Spread the love

ہالینڈ: ایمسٹرڈیم کے ضلع ویسٹرڈوک میں ایک ندی پر دنیا کا عجیب و غریب اور دلچسپ نظام لگایا گیا ہے۔ ندی کی تہہ میں ایک ہموار پلیٹ فارم بلبلے اوپر بھیجتا رہتا ہے جس کے ساتھ نیچے موجود پلاسٹک بھی اوپر آکر کنارے پر جمع ہوتا رہتا ہے۔

اس نظام کی بدولت پلاسٹ کی بڑی تعداد کو سمندر میں جانے سے روکا جاسکتا ہے۔ یہ نظام عین اس مقام پر ندی کے دونوں کناروں کے درمیان بلبلوں کی ایک دیوار قائم کرتا ہے اور یوں ہوا کے زور سے ندی میں بہتا ہوا پلاسٹک اوپر آتا ہے جسے جمع کرلیا جاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان بھر میں 11دسمبر سے ٹیلی نار کی سروسز بند ہونے جارہی ہیں؟

اس عمل سے کشتیوں اور اندر جانداروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اسے بنانے والوں کا خیاہ ہے کہ یہ عمل پانی میں آکسیجن کی مقدار بڑھاتے ہوئے مضر الجی کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ہالینڈ میں اس ٹیوب کو پانی میں ایک خاص زاویے سے رکھا گیا ہے تاکہ پلاسٹک کا کوڑا نچلی سطح سے اوپر آجائے اور ایک جگہ جمع ہوتا رہے۔ اگرچہ یہ تین سال کا پائلٹ منصوبہ ہے لیکن ابتدائی تجربات بھی بہت امید افزا ثابت ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   فیس بک لائکس خریدنا اور بوسٹ کرنا حرام قرار ،معروف عالم دین نے فتویٰ جاری کردیا

اسے نظام کو دریائے ایسول کے ایک کنارے پر لگایا گیا ہے اور یہ نارتھ سی نامی سمندر میں گرنے والے پلاسٹک کی 86 فیصد مقدار کو پہلے ہی اچک لیتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ ہر سال سمندروں میں 80 لاکھ میٹرک ٹن پلاسٹک جمع ہورہا ہے جو دریاؤں اور ندی نالوں سے وہاں پہنچتا ہے اور یوں سمندری حیات کے لیے موت کا سامان بن رہا ہے۔ اس ضمن میں بلبلوں کی دیوار پلاسٹک کی آلودگی کو روک سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں کتنے فیصد آبادی انٹر نیٹ استعمال کرتی ہے؟