4 افریقی ممالک میں ویکسین کی وجہ سے پولیو کیسز سامنے آئے، رپورٹ

Spread the love

لندن : 4 افریقی ممالک میں پولیو کے ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جس کا سبب اورل ویکسین بنی ہے جبکہ صحت کے عالمی اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر بچے عام طور پر پائے گئے وائرس کے بجائے ویکسین میں موجود وائرس سے معذوری کا شکار ہوئے۔

امریکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے منظر عام پر ا?نے والی رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے نائیجیریا، کانگو، سینٹرل افریقنرپبلک اور انگولا میں 9 ایسے نئے کیسز کی نشاندہی کی جو ویکسین کی وجہ سے ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق افریقہ کے دیگر 7 ممالک اور ایشیا میں بھی اس قسم کے کیسز رپورٹ ہوئے جس میں پاکستان اور افغانستان بھی شامل ہیں جہاں اب تک پولیو کی بیماری کا خاتمہ نہ ہوسکا۔خیال رہے کہ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ پولیو ویکسین میں موجود زندہ وائرس اس قابل ہوجائے کہ بیماری پیدا کرنے کی طاقت حاصل کرے۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیر صحت پنجاب کا راولپنڈی، اٹک اور ننکانہ میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کرنے کا اعلان

حال ہی میں ویکسین کے ذریعے پولیو کے مرض کا شکار بننے والے تمام کیسز کی وجہ پولیو ویکسین میں موجود ٹائپ 2 وائرس تھا جبکہ عام ماحول میں پایا جانے والا ٹائپ 2 وائرس ختم ہوئے برسوں گزر چکے ہیں۔واضح رہے کہ پولیو انتہائی متعدی مرض ہے جو گندے پانی یا کھانے سے پھیلتا ہے اور عموماً 5 سال سے کم عمر بچوں کو اپنا شکار بناتا ہے۔اس انفیکشن کے 200 نتائج میں سے ایک معذوری ہے اور اس میں بہت معمولی شرح بچوں کی اموات کی بھی ہے جو سانسوں کا نظام سکڑنے کے باعث ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کینسر کے خاتمے کےلیے کاؤپاکس وائرس تیار کرلیا گیا

اس حوالے سے گزشتہ ہفتے عطیات دہندگان نے پولیو کے خاتمے کے لیے 2 ارب 60 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا عہد کیا تھا، جو 1988 میں شروع ہونے والے انسداد پولیو پروگرام کا حصہ ہے اور اس کا مقصد سال 2000 تک دنیا سے پولیو کے مرض کا خاتمہ تھا، تاہم اس وقت سے اب تک کئی ڈیڈ لائنز گزر چکی ہیں لیکن یہ مرض اب بھی معذوری کا سبب بن رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انجیر کھانے کے حیرت انگیز فوائد ماہرین طب نے بتا دئی

ایک اندازے کے مطابق دنیا سے پولیو کے خاتمےکے لیے ضروری ہے کہ 95 فیصد سے زائد آبادی میں قوت مدافعت موجود ہو جس کے کے لیے عالمی ادارہ صحت اور اس کے شراکت دار طویل عرصے سے اورل پولیو ویکسین پر انحصار کررہے ہیں کیوں کہ یہ سستی ہے اور آسانی سے پلائی جاسکتی ہے اور ایک خوراک میں صرف 2 قطرے شامل ہوتے ہیں۔

ا

کیٹاگری میں : صحت