ناروے کا قرآن پاک کی بےحرمتی کے واقعات روکنےکا حکم

اوسلو: ناروے کی حکومت نے قرآن پاک کی بےحرمتی کے واقعات روکنےکا حکم دے دیا ہے۔

نارویجن میڈیا کے مطابق حکومت نے پولیس کو احکامات جاری کیے ہیں کہ کسی بھی شخص یا تنظیم کو قرآن کی بے حرمتی کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

حکومت نے نسل پرستی سے متعلق آئینی شق کی بنیاد پر نئی قانونی تشریح جاری کی ہے، جس کے تحت پولیس پر مذہبی علامتوں کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی سرگرمی کو روکنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ قرآن کی بے حرمتی کی کوشش کرنے والے شخص کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی، کیونکہ ایسے واقعات سے مسلمانوں کے ردعمل اور انتقامی کارروائیوں کا خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   123 یہودی انتہا پسندوں کی قبلہ اول کی اندر گھس کر بے حرمتی

قرآن پاک کی بے حرمتی پر ناروے کے سفیر کی دفترخارجہ طلبی

16 نومبر کو ناروے میں اسلام مخالف تنظیم اسٹاپ اسلامائزیشن آف ناروے (سیان) نے ریلی نکالی تھی، جس میں اس کے رہنما لارس تھورسن نے قرآن کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہاں موجود چند مسلمان نوجوانوں نے قرآن کی بے حرمتی اس کی کوشش کو ناکام بنادیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت میں سکھ نے مسجد کیلیے اپنی زمین دیدی

پاکستان نے اس واقعے پر ناروے کے سفیر کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔