کینسر کے خاتمے کےلیے کاؤپاکس وائرس تیار کرلیا گیا

پرتھ: آسٹریلیا کی ایک بایوٹیک کمپنی ’’اِمیوجین‘‘ نے کاؤپاکس وائرس میں تبدیلیاں کرکے اسے کسی بھی قسم کے کینسر کو ختم کرنے کے قابل بنالیا ہے؛ اور چھوٹے چوہوں پر اس کے تجربات بھی انتہائی کامیاب ثابت ہوچکے ہیں۔

اب اگلے مرحلے میں انسانوں پر آزمانے کےلیے صحت سے متعلق آسٹریلوی اداروں سے اجازت بھی لے گئی ہے، جو 2020 میں کسی بھی وقت شروع کردیئے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ملاوٹی اورکھلی چائے پتی کی فروخت کا مکروہ دھندہ بے نقاب کر دیا

اس طریقہ علاج کو ’’سی ایف 33‘‘ (CF33) کا نام دیا گیا ہے جسے کینسر کے امریکی ماہر یومان فونگ نے وضع کیا ہے جبکہ امیوجین نے لائسنس پر حاصل کرنے کے بعد اسی کام کو مزید آگے بڑھایا ہے۔

اس طریقے کی انسانی آزمائشیں بھی ڈاکٹر فونگ کی نگرانی میں جاری رکھی جائیں گی، جن کےلیے دنیا بھر سے کینسر کی مختلف اقسام میں مبتلا مریضوں کو بطور رضاکار بھرتی کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کی پہلی کورونا ویکسین ’پاک ویک‘ متعارف کروادی گئی

واضح رہے کہ حالیہ چند برسوں کے دوران مختلف امراض کے علاج میں تبدیل شدہ وائرس سامنے آتے رہے ہیں مگر انسانی تجربات میں ان سے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ لیکن، پروفیسر یومان فونگ کے مطابق، ان ناکامیوں کی سب سے بڑی وجہ یہ رہی ہے کہ اس مقصد کےلیے ایسے وائرس استعمال کیے جاتے رہے ہیں جو پہلے ہی اچھے خاصے زہریلے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سیب بلڈ پریشر کم کرنے میں مؤثر ہے، طبی ماہرین

کینسر ختم کرنے کےلیے جب ان میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تو وہ اور بھی زیادہ خطرناک اور ہلاکت خیز بن کر فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث بن جاتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت