مولانا فضل الرحمان نے مارچ کے دوران مذہب کارڈ استعمال کیا، وزیراعظم

Spread the love

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد دھرنے کے دوران مذہب کارڈ استعمال کیا۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کور کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلی اور گورنرز بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال اور مہنگائی کنٹرول کرنے سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   پنجاب میں 19 پولیس افسران کے تقررو تبادلے

پی ٹی آئی منشور پر عمل درآمد سے متعلق حکمت عملی اور حکومتی معاشی اہداف اور ترقیاتی منصوبوں پر مشاورت ہوئی۔ کور کمیٹی نے تحریک انصاف کے منشور پر عمل درآمد کے لیے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر پارٹی منشور پر عمل درآمد کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   پرویز مشرف سزائے موت کےفیصلے کیخلاف اپیل کرسکیں گے یا نہیں ؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کے پلان بی سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل پر بھی بات چیت کی گئی اور مولانا فضل الرحمان کی اداروں پر تنقید کی مذمت کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمان کی تقاریر پر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کا 53 ہزار حجاج کو اخراجات کی 80 کروڑ روپے سے زائد رقم واپس کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مولانا نے آزادی مارچ کے دوران مذہب کارڈ استعمال کیا اور فضل الرحمان نے دھرنے سے کشمیرکاز کو شدید نقصان پہنچایا۔