فیس بک نے بچوں سے بدسلوکی سے متعلق ایک کروڑ سے زائد پوسٹس ہٹادیں

Spread the love

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کیے ہیں جس میں رواں سال جولائی سے ستمبر کے درمیان بچوں کے ساتھ بدسلوکی، ان پر ہونے والے تشدد، بچوں کے ساتھ جنسی استحصال اور خودکشی جیسے نقصان دہ مواد پر مشتمل ایک کروڑ 16 لاکھ پوسٹیں ہٹائی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ناروے کا قرآن پاک کی بےحرمتی کے واقعات روکنےکا حکم

یہ نقصان دہ مواد نہ صرف فیس بک سے بلکہ انسٹاگرام سے بھی ہٹایا گیا ہے۔ سال 2017 میں ایک 14 سالہ مولی رسل نامی بچی نے خودکشی کرلی تھی جس کے بعد عوام کا سوشل میڈیا کے حوالے سے غم و غصہ سامنے آیاتھا۔ مولی کی خودکشی کے بعد اس کے والد کو اپنی بیٹی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے خود کو نقصان پہنچانے اورخودکشی کے بارے میں بڑی تعداد میں مواد ملاتھا۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت پر جنگی جنون سوار، روس سے 36 رافیل طیارے مانگ لیے

فیس بک کے نائب صدرگائے روزن کا کہنا ہے کہ ہم ایسا مواد ہٹاتے ہیں جو خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہو اور اس مواد کو دیکھ کر دوسرے بھی حوصلہ افزائی حاصل کریں۔

فیس بک کمیونٹی معیارات کے نفاذ کی چوتھی رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق بچوں کے جنسی استحصال اور عریانی سے متعلق مواد رکھنے والی فیس بک کی ایک کروڑ 16 لاکھ پوسٹیں جب کہ انسٹاگرام کی 7 لاکھ 54 ہزار پوسٹیں ہٹائی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:   افغان حکومت کی طالبان سے مذاکرات کیلئے وفد بھیجنے کی تیاری