ایک سال کے اقتدار میں عوام سے جو کہا وہ کر نہیں سکے ،عمران خان کا اعتراف

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے شہروں کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہماری توجہ شہروں کے پھیلائو کی بجائے بلند عمارتیں بنانے پر مرکوز ہے۔اسلام آباد میں 3 روز ساتویں ریجنل ایشیائی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں گھنے جنگلات، طویل صحرا، بلند ترین پہاڑی سلسلے ہیں۔

شہروں میں رہنے والے زیادہ تر پاکستانی پاکستان کی خوبصورتی کو نہیں دیکھ پاتے۔وزیراعظم یہاں 12 ایکولوجیکل زونز ہیں صحرا سے لے کر ہمالیہ تک پاکستان قدرتی وسائل اور خوبصورتی سے مالا مال ملک ہے،ہمیں مستقبل کی نسلوں کا احساس کرکے فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میں ان خوش قسمت پاکستانیوں میں شامل ہوں جو پاکستان کے تمام علاقے گھوم چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے جلد ہی قدرتی ماحول کو پہنچنے والے نقصانات کا احساس ہوگیا تھا، میں نے آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہونے والی تباہی کو دیکھا لیکن حکومتوں نے بھی اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔

یہ بھی پڑھیں:   کسی کو اٹھاکر پھانسی نہیں لگاسکتا، ساہیوال رپورٹ کا انتظار کیا جائے، عثمان بزدار

عمران خان نے کہا کہ جب میں پیدا ہوا اس وقت پاکستان کی آبادی 4 کروڑسے کم تھی اور آج پاکستان کی آبادی 22 کروڑ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ 2013 میں خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے کے بعد ہم نے بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کیا تھا، پہلی مرتبہ کسی حکومت نے بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تحفظ کے لیے اقدام اٹھایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بلین ٹری سونامی میں مقامی آبادی کو بھی شامل کیا گیا اور ہم نے اب ملک گیر سطح پر 10 بلین ٹری سونامی کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اصغر خان کیس: سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے ضمنی رپورٹ طلب کرلی

عمران خان نے کہا کہ بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کرنے کے بعد خیبرپختونخوا میں ٹمبر مافیا کی صورت میں بڑے چیلنج کا مقابلہ کیا اور ٹمبر مافیا سے مقابلے میں 10 فارسٹ گارڈز نے جانوں کا نذرانہ دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے شہروں کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہماری توجہ شہروں کے پھیلا کی بجائے بلند عمارتیں بنانے پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں فضائی اور آبی آلودگی پر قابو پانے کی طرف توجہ نہیں دی گئی، ایک وقت میں نئی دہلی بہت صاف شہر ہوا کرتا تھا اب آلودگی سے بہت متاثر ہوچکا ہے۔ ایسا ہی لاہور میں ہورہا ہے لاہور کا شمار آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے میں لاہور میں پلا بڑھا جس کی آب و ہوا بہت صاف ستھرا تھا لیکن اب لاہور ایک بہت بڑا شہر بن چکا ہے اور 10 سال میں 70 فیصد سے زائد درخت کاٹے جاچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سانحہ ساہیوال، جوڈیشل کمیشن تشکیل نہ دینے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

وزیراعظم نے کہا کہ تمام مذاہب انسانیت کی فلاح و بہبود کا درس دیتے ہیں۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے سینئر بیوروکریٹس کو ہدایت کی ہے کہ عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے محنت کریں، مسائل کا حل نکالیں اور قومی احتساب بیورو (نیب )سے خوفزدہ ہوئے بغیر وقت پر فیصلہ لینے کا خطرہ مول لیں۔

وفاقی سیکریٹریز اور چیف سیکریٹریز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ‘ہمیں اقتدار میں آئے ایک برس گزر چکا ہے لیکن ہم عوام کی توقعات کے مطابق کام نہیں کرسکے۔