الریاض معاہدہ یمن میں امن واستحکام کا دیباچہ ثابت ہوگا،محمد بن سلمان

Spread the love

ریاض: سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے مابین ریاض معاہدے کو یمنی عوام کی فتح اور جنگ زدہ ملک کے امن استحکام کے لیے نقطہ آغاز قرار دے دیا۔عرب ٹی وی کے مطابق الریاض میں معاہدے سے قبل خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت اور ان کی سرپرستی میں یمنی بھائیوں کے مابین پائے جانے والے تنازعہ کو دور کرنے کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لائی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دہلی میں مسلم کش فسادات پر انڈونیشیا میں بھارتی سفیر کی طلبی

سعودی ولی عہد شہزادہ یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی اور ابوظہبی ولی عہد شہزادہ محمد بن زید کی موجودگی میں یمن کی آئینی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے مابین ریاض معاہدے پر دستخط کی تقریب ہوئی۔شہزادہ محمد بن سلمان نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ یمن کے استحکام کے لیے ایک نیا آغازگا ۔

یہ بھی پڑھیں:   میزائلوں کے تجربات میں ناکامی کے پیچھے امریکا کا ہاتھ، ایران نے امریکہ پر الزام عائد کردیا

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ سیاسی حل اور ملک میں جنگ کے خاتمے کی طرف ایک قدم ہے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب نے یمن کی آئینی حکومت کے مطالبے پرعبوری کونسل کے ساتھ مصالحت کی کوششیں کیں،انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے یمن اور خطے کی سلامتی کے لئے بہت کچھ حاصل کیا ہے اور ہم یمنی عوام کی امنگوں پر عمل پیرا رہیں گے۔شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض معاہدے کی کامیابی میں متحدہ عرب امارات کے کردار کی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھیں:   افغان دارالحکومت کابل میں دھماکہ،4 افراد ہلاک ، 90 زخمی

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب اور اتحادی ممالک کے فوجیوں نے یمن کے لیے بہت بڑی قربانیاں دی ہیں۔