پہلے بوگی میں لگے پنکھے سے دھواں نکلا اور پھر پنکھا نیچے گرا مسافروں نے آگ لگنے سے قبل ہی چلتی ٹرین سے چھلانگیں کیوں لگائی؟ جلنے والی بوگی میں موجود زندہ بچ جانے والے شخص نے سارا قصہ سنا دیا

اسلام آباد : تیزگام میں آگ لگنے کے واقع کی مکمل تفصیلات سامنے آگئی ہے۔ تیز گام کی بوگی میں موجود زندہ بچ جانے والے چشم دیدہ شخص کی ویڈیو سامنے آئی ۔ جس میں اس شخص نے بتایا کہ پنکھا نیچے گرا جس کی وجہ سے آگ لگی ۔ پنکھا نیچے گرنے کی وجہ سے بوگی میں دھواں نکلا اور اس کےبعد آگ لگ گئی ۔ زندہ بچ جانے والے شخص نے بتایا کہ بوگیوں میں گرمی کی شدت بڑھ گئی تھی جس کی وجہ سے لوگوں نے چلتی ٹرین سے چھلانگیں لگائیں جس سے ان کی موت ہوئی ۔

اس کا مزید بتانا تھا کہ دو سے تین منٹ لگے جب ٹرین کی سپیڈ کم ہوئی ، میں بھی باقی لوگوں کیساتھ کود گیا تھا ۔ زندہ بچ جانے والے شخص نے بتایا ہے کہ وہ 13نمبر بوگی میں سفر کررہا تھا کہ واش روم کے ساتھ لگے پنکھے سے بہت زیادہ دھواں نکلا جس کے بعد پنکھا نیچے گر گیا۔ قبل ازیں تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی سلنڈر دھماکے سے نہیں ہوئی بلکہ شارٹ سرکٹ سے ہوئی ،عینی شاہدین کا انکشاف،۔نجی ٹی وی کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی سلنڈر دھماکے سے نہیں ہوئی بلکہ شارٹ سرکٹ سے ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن )کے درمیان قربتیں بڑھنے لگیں، شہباز شریف کا بلاول بھٹو زرداری کے لئے بڑا اعلان

بوگیوں سے رات سے بدبو آ رہی تھی جس کے متعلق ریلوے انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا تھا لیکن کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔دوسری جانب ڈپٹی کمشنر جمیل احمد جمیل نے بتایا کہ تیز گام ٹرین کی ایئر کنڈیشنڈ اور بزنس کلاس کی تین بوگیوں میں آتشزدگی ہوئی جن میں 209 مسافر سوار تھے۔ متعدد لاشیں ناقابل شناخت ہوگئی ہیں۔ریسکیو ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر تبلیغی جماعت کے مسافروں کا گیس سلنڈر پھٹنے سے آگ لگی۔ حادثے کا شکار اکانومی کلاس کی دو بوگیاں امیرحسین اینڈجماعت کے نام سے بک کی گئی تھیں۔ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے امدادی آپریشن جاری ہے

یہ بھی پڑھیں:   اسد عمر کے استعفیٰ دینے کی اصل وجہ سامنے آگئی، معروف صحافی و تجزیہ نگار کے تہلکہ خیز انکشافات

جس میں پاک فوج کے دستے بھی شریک ہیں جبکہ خان پور، لیاقت پور اور ریلوے پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مسافر ٹرین میں آگ لگنے کے افسوسناک حادثے کے بعد ضلع بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ ریسکیو 1122، پولیس، فائر بریگیڈ، سمیت دیگر امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا

یہ بھی پڑھیں:   تحریک انصاف کی حکومت نے صرف ایک سال میں کتنے ارب ڈالرز کا غیر ملکی قرضہ اتارا؟

جب کہ حادثے میں متاثرہ زخمیوں کو ٹی ایچ کیو لیاقت پور، آر ایچ سی چنی گوٹھ اور بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ریلوے انتظامیہ حادثہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو انشورنس کی مد میں 15لاکھ روپے دے گی، جبکہ زخمی ہونے والوں کو50ہزار روپے سے3لاکھ روپے تک دیے جائیں گے۔وزیراعظم عمران خان، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد،صدرمملکت عارف علوی،اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سمیت حکومتی و دیگر سیاسی شخصیات نے حادثے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔