“کیا ہوگیا، کونسا آسمان ٹوٹ پڑا ہے؟ مولانا فضل الرحمن کا دھرنے میں افغان طالبان کے جھنڈوں اور شرکاء کے ہاتھوں میں تلواروں پر حیران کن ردعمل

اسلام آباد : جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آئندہ دو روز میں مزید سخت فیصلے کر نے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حکومت سے نجات تک ہم میدان میں رہیں گے،ڈی چوک جانا ایک تجویز ہے،مودی عمران خان کے وزیر اعظم بننے پر بہت خوش ہے۔ ہمیں کہا جاتا ہے بھارتی میڈیا کوریج دے رہا ہے اب صرف بھارت ہی نہیں، بین الاقوامی میڈیا بھی کوریج دے رہا ہے، خان صاحب اب آپ کی رٹ ختم ہوگئی ہے،کرسی پر بیٹھنے سے کوئی حکمران نہیں بنتا،نکمے حکمران پاکستان کے لیے رسکبن
چکے ہیں،اپنے آپ کو وزیر اعظم کہتے ہو تو زبان بھی وزیر اعظم والی استعمال کرو،تمام سیاسی جماعتیں وزیر اعظم عمران خان کے استعفے کے مطالبے پر متفق ہیں،آئندہ آنے والے دنوں میں حکومت بنائیں گے

آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آزادی مارچ کے شرکاء نے سفر کی صعوبتیں برداشت کی،تمام شرکاء کی استقامت کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ جعلی حکومت نے کمیٹی بنائی ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں،ہر طرف کنٹینر لگائے گئے ہیں، حکومت کس راستے سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے،وزیراعظم ہاؤس، صدر ہاؤس اور بنی گالا کے راستے بند کر دئیے گئے ہیں، حکومت کہتی ہے ہم آئین اور قانون کے مطابق مذاکرات کرینگے،حکومت اپنی آئینی اور قانونی حیثیت سے متعلق تو وضاحت دے،رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا ہم سب اکٹھے ہیں،رہبر کمیٹی نے ڈی چوک جانے کی تجویز دی ہے

یہ بھی پڑھیں:   کچھ دونوں میں اشیا کی قیمتوں میں کمی ہو جائیگی، شاہ محمود قریشی

انہوں نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے معاہدہ توڑ دیا گیا ہے،ہم ہیں کہ معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کہتے ہیں خواتین کی عزت نہیں کی،جتنی خواتین کو عزت ہم دیتے ہیں اتنی کسی کی طرف سے نہیں جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جتنی بھی خواتین اینکرز پرسن اور صحافی حضرات آئی ہیں ہم نے ان کو عزت دی ہے اور خود ان اینکرز اور صحافیوں نے اعتراف کیا ہے کہ ہمیں پہلے والے دھرنوں سے زیادہ عزت ملی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے خواتین کو احترام دیا ہے اور انہوں نے اپنے فرائض انتہائی عزت و آبرو کے ساتھ سر انجام دیئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم پہلے بھی عزت والے لوگ تھے

یہ بھی پڑھیں:   انورمجید کی ایف آئی اے کے خلاف درخواست پروفاقی حکومت کوجواب جمع کرانے کی آخری مہلت

دوسروں کو بھی عزت دینا جانتے ہیں اور خاتون کو بھی عزت دینا جانتے ہیں،کبھی کہا جاتا ہے آپ کی باتیں ایسی ہیں کہ ہندوستان کا میڈیا بہت چلا رہا ہے ہندوستان کا میڈیا نہیں چلا رہاہے بلکہ پوری دنیا کامیڈیا چلا رہا ہے،پوری دنیا کامیڈیا ہمارے آزادی مارچ کو دکھانے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا پاکستان کے آزادی مارچ کو کورکررہی ہے،صرف انڈیا کی بات مت کرو۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پھر کہتے ہیں مودی فضل الرحمن سے بڑا خوش ہے میں کہتا ہوں مودی کشمیر کو عمران سے چھینے میں کامیاب ہوگیا اس نے عمران خان کے ہوتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا ہے

یہ بھی پڑھیں:   سگریٹ اور سوفٹ ڈرنکس پر ہیلتھ ٹیکس لگانے کی حتمی منظوری

آپ کے ہوتے ہوئے جو رعایتیں مل رہی ہیں جس طرح وہ کشمیریوں کا خون پی رہاہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہاکہ مودی کشمیر میں اپنی گرفت مضبوط کررہا ہے آپ سے بڑھ کر اس کیلئے اور کوئی خوش قسمت نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اسلام آباد میں ایسی قوت آئی ہے اب اسرائیل کو تسلیم کر نے کی بات نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں سے مسلسل رابطے میں ہیں، ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ آپ کے ساتھ مسلم لیگ نواز نہیں ہے آپ کے ساتھ پیپلز پارٹی نہیں ہے آپ کے ساتھ فلاں جماعت نہیں ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آپ نے دیکھا کہ یہاں مسلم لیگ (ن)کی قیادت بھی آئی اور پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹوزر داری دو بار آئے ہیں یہاں پر تمام سیاسی جماعتیں موجود ہیں،ہم سب ایک ہیں اور حصول مقصد تک ایک ساتھ رہیں گے۔