نواز شریف ضمانت کی مدت ختم ہونے پر دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل

لاہور(نیوز رپورٹر) سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تا حیات قائد نواز شریف ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق نواز شریف قافلے کی صورت میں جاتی امرا سے کوٹ لکھ پت جیل پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ ان کی صاحبزادی مریم نواز تھیں جب کہ ان کی گاڑی حمزہ شہباز چلارہے تھے۔ نواز شریف کے قافلے میں مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنماؤں کے علاوہ کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے جیل منتقلی سے قبل کارکنوں کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کارکنوں نے والہانہ جذبے کا اظہار کیا ہے، ان کا جذبہ اور دعائیں رنگ لائیں گی، ظلم کی یہ رات ختم ہوگی اور جیل کی کال کوٹھری سے مجھے نجات ملے گی، کارکن جانتے ہیں کہ مجھے کس گناہ کی سزا دی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کی مشکلات میں اضافہ،ق لیگ کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی نے ایک اور وزارت مانگ لی

نواز شریف نے جیل جانے سے قبل اپنے اہل خانہ اور سیاسی رفقا کے ہمراہ افطار کیا، اس سلسلے میں جاتی امرا میں نواز شریف کی پسندیدہ کھانے تیار کئے گئے، افطار کے دسترخوان پر کھجوریں، پلاؤ، سفید چاول اور قورمہ خصوصی طور پر رکھا گیا۔

جاتی امرا کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان تباہی کے راستے پر ہیں، انہیں اگر یہ منظور ہے تو چلتے رہیں، نواز شریف کے بیانیے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اب بھی نواز شریف ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر قائم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   (ن) لیگ نے قومی اسمبلی میں بہاولپوراورجنوبی پنجاب صوبہ کیلیے آئینی ترمیمی بل جمع کرادیا

دوسری جانب وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بیٹی نے پہلے والد کی سیاست ناکام کی اوراب ان کا جلوس نکال رہی ہے جب کہ بیٹوں نے پلٹ کر والد کا حال تک نہ پوچھا اورچھوٹے کو یقین ہوگیا کہ بڑا بھائی جیل ہی جائے گا تو وہ بھی بھاگ نکلا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انوکھا قیدی ہے جو تمام قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے، میاں صاحب کچھ بھی کرلیں انہیں اپنے کیے کی سزا بھگتنا پڑے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   تھر کول سے بجلی کی پیداوار شروع، 330 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 26 مارچ کو نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 6 ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت منظور کی تھی، جس کے بعد سابق وزیر اعظم کی ضمانت کی مدت 7 مئی کو ختم ہوگئی۔