وزیراعظم نے اسد عمر کو آئی ایم ایف کی خواہش پر ہٹایا، خورشید شاہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)رہنما پیپلزپارٹی خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اسد عمر کو آئی ایم ایف کی خواہش پر ہٹایا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما پیپلزپارٹی خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ کی تبدیلی کے پیچھے آئی ایم ایف نکلی،

وزیراعظم عمران خان نے اسد عمر کو آئی ایم ایف کی خواہش پر ہٹایا، میری معلومات کے مطابق اسد عمر کو ہٹانے میں باقر رضا کو استعمال کیا گیا، باقر رضا کے ذریعے پیغام پہنچایا گیا کہ آئی ایم ایف اسد عمر سے خوش نہیں، یہ بھی بتا دیا گیا کہ اسد عمر کی موجودگی میں آئی ایم ایف پیکج نہیں ملے گا، آئی ایم ایف سخت فیصلے نہ کرنے پر اسد عمر سے ناخوش تھی، آئی ایم ایف سمجھتی تھی کہ اسد عمر کو کچھ پتہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام آباد : پاک بھارت کشیدگی کے باوجود سعودی عرب کی اہم شخصیت آج پاکستان پہنچے گی، پاکستانی قیادت سے اہم معاملات زیرگفتگو لائے جائیں گے

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ نئے فنانس منسٹر کا حق ہے اپنی مرضی کی ٹیم لائے، حکومت نے بجٹ سے پہلے ہی تباہی مچا دی ہے، رمضان میں مہنگائی ویسے ہی 30 سے 40 فیصد بڑھ جاتی ہے، توقع تھی رمضان سے پہلے آئل قیمتیں بڑھانے کی بیوقوفی نہیں کریں گے، ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے سارا بوجھ غریبوں پر ڈال دیا گیا، یہ سارے پیسے غریبوں سے نچوڑ کر اپنی حکومت چلانا چاہ رہے ہیں، تصور بھی نہیں تھا کہ تیل کی قیمت 122 روپے لٹر ہو گی، ہمارے دور میں تیل 140 ڈالر فی بیرل اور اب 70 ڈالر فی بیرل ہے۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ یہ حکومت نا اہل ثابت ہوئی، ہر چیز ہاتھ سے نکلی جا رہی، ملک کے غریب لوگ ایک روٹی کے محتاج تھے، اب شائد روزہ بھی نہ کھول سکیں، تیل کی قیمتیں بڑھا دی گئیں، دواؤں کی قیمت 400 فیصد تک بڑھا دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت کی پلٹی پاکستان سے کیا درخواست کردی؟

خورشید شاہ نے کہا کہ ہم کہتے تھے آئی ایم ایف کے پاس بروقت جاؤ، کہا تھا جب آپ پھنس چکے ہو گےاور پھر جاؤ گے تو آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہوں گی، یہ آئی ایم ایف کے پاس اب گئے جب پھنس چکے ہیں۔