سپریم کورٹ نے اورنج لائن ٹرین پراجیکٹ کیس میں پراجیکٹ کے راستے جو آئے اسے ٹریک کا حصہ بنانے کا حکم دیدیا

اسلام آباد( آن لائن ) سپریم کورٹ نے اورنج لائن ٹرین پراجیکٹ کیس میں پراجیکٹ کے راستے جو آئے اسے ٹریک کا حصہ بنانے کا حکم دیتے ہوئے اگلی سماعت پر چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ، تعمیراتی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز، سیکرٹری ٹرانسپورٹ ، سیکرٹری فنانس اور نیب پراسکیویشن ٹیم کو طلب کرتے ہوئے معاملے کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی ہے ۔ کیس کی سماعت جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی اس موقع پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ فنڈز کی وجہ سے میٹرو اورنج لائن ٹرین کے منصوبے پر کام نہیں رکنا چاہیے اور منصوبے کے راستے میں جو آئے اسے ٹریک کا حصہ بنا دیا جائے۔ تعمیراتی کمپنیاں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گی تو وہ پھر کہیں اور جائیں گی، منصوبے پر کام نہیں ہوگا تو معاملہ نیب کو بھی بھیجا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فنڈز کی وجہ سے منصوبے پر کام نہیں رکنا چاہیے اور منصوبے کے راستے میں جو آئے اسے ٹریک کا حصہ بنا دیا جائے۔دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کام نہ ہونے سے منصوبے میں تاخیر ہورہی ہے، تعمیراتی کمپنیوں نے 15 اپریل تک کام مکمل کرنا تھا، تعمیراتی کمپنیوں نے اپنی یقین دہانی پوری نہیں کی۔جس کے بعد کیس کی مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کردی گئی۔رواں سال جنوری میں سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو تعمیراتی کمپنیوں کو بر وقت ادائیگیوں کی بھی ہدایت کی تھی۔گزشتہ سال دسمبر میں سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل اور کمپنیوں کی ادائیگی سے متعلق کیس میں ایک عدالتی ثالث مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارتی طیاروں کا ہدف کچھ اور تھا جو پاک فضائیہ کے باعث حاصل نہ کر سکے، میجر جنرل آصف غفور