شریف خاندان نے کرپشن کی بنیاد رکھی اسحاق ڈار نے جعلی اکائونٹ بنانے کا طریقہ متعارف کرایا، فواد چوہدری

اسلام آباد(یوپی آئی )وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اس ملک میں شریف خاندان نے کرپشن کی بنیاد رکھی اور اسحاق ڈار نے جعلی اکائونٹ بنانے کا طریقہ متعارف کرایا جس سے پیسہ باہر بھیجہ گیا ۔ اس کے بعد آصف زرداری نے کرپشن کی نئی ایجادات کیں انہوںنے اپنا بینک ہی خرید لیا۔ شریف فیملی کا اصل پیسہ باہر پڑا ہوا ہے جب ضرورت ہوتی ہے تو وہاں سے پیسہ منگوا لیتے ہیں۔گزشتہ دس سالوں میں ملک کا قرضہ 37ارب سے97ارب تک چلا گیا۔

ملک میں بڑے لوگوں کو سزائیں دلوانا بہت مشکل کام ہے یہ ذمہ داری صرف وزیر اعظم کی نہیں بلکہ عوام اور اداروں کی بھی ہے ۔ شریف فیملی نے 14جعلی لوگوں کے نام پر اکائونٹس بنائے جنکا پتہ نہیں اور دوسرے ایسے لوگ ہیں جو اکائونٹس بنانے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کے ہمراہ وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر اور وزیر مملکت حماد اظہر بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   میجر جنرل عمر احمد بخاری کو نیا ڈائریکٹر جنرل رینجر سندھ تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا

فواد چوہدری نے کہاکہ پاکستان کا 1947سے لے کر 2008تک 37 ارب ڈالر کا قرضہ تھا ۔ گزشتہ دس سالوں میں یہ قرضہ 97ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے اس دوران دو خاندانوں کی حکومت رہی شریف فیملی اور زرداری فیملی ۔ نواز شریف جب وزیر اعظم بنے تو انہوںنے سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے کرپشن کی اور انہوںنے 1992میں اکنامک ریفارم ایکٹ لایا جس کا مقصد پاکستان سے باہر جانے والے پیسے پر کوئی سوال نہ اٹھایا جاسکے ۔ انہوںنے کہا کہ اسحاق ڈار نے جعلی اکائونٹس بنانے کا طریقہ متعارف کرایا جس سے ملک کا پیسہ باہر جاتا رہا ۔ 2000میں اسحاق ڈار نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا اور تسلیم کیا کہ نواز شریف نے منی لانڈرنگ کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ شریف فیملی کے بعد آصف علی زرداری نے نئی ایجادات کیں انہوںنے اپنا بینک ہی خرید لیا ، سندھ میں جعلی اکائونٹس بنائے گئے جس کا سراغ ایف آئی اے نے لگایا ۔ انہوںنے کہا کہ جعلی اکائونٹس سے بلاول اور ایان علی کی ٹکٹوں کے پیسے ادا کیے جاتے رہے ۔ انہوںنے کہا کہ شعباز شریف کے اوپر کیس آمدن سے زائد اثاثوں کا ہے انکا خاندان آہستہ آہستہ ملک سے باہر جانا شروع ہوگیا دو سو سے زائد میسجز بینکوں سے جاری ہوئے جس سے رقم ایک اکائونٹس سے دوسرے اکائونٹس میں ٹی ٹی لگائی گئی ۔

یہ بھی پڑھیں:   ملکی معیشت 8 سال کی بدترین سطح پر پہنچ گئی

شعباز شریف کی آمدنی صرف انکی بطور وزیر اعلیٰ کے تنخواہ تھی انہوںنے اپنی بیگم تہمینہ دورانی کے لئے دو فلیٹس خریدے جس کے پیسے نصرت شعباز کے اکائونٹس سے دئیے گئے ماڈل ٹائون کے گھر کی تعمیر و مرمت کیلئے بھی پیسے اسی اکائنٹس سے ادا کیے گئے ۔شہباز شریف کو انکی اہلیہ نصرت شعباز پیسے بھیجتی رہی جب بھی انکو ضرورت ہوتی تو پیسہ باہر سے آتا خواہ کوئی مرغی خانہ بنانا ہو یا ڈیری فارم بنانا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارتی طیارے کو مار گرانے کے لیے جے ایف-17 تھنڈر جنگی طیارے کا استعمال کیا گیا

انہوں نے کہا کہ ایک جعلی اکائونٹ منظور کے نام سے ہے جو پنڈ دادن خان کا رہائشی ہے ایک محبوب ریڑھی والے کے نام سے اور ایک رفیق کے نام سے ہے جو مر چکا ہے۔ شعباز شریف کے پاس ایک پیسہ بھی اپنا نہیں ہے ۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ مائیں بہنیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں اگر شہباز شریف کی بیگم اور اکائونٹس سے پیسے آئیں گے تو نیب تحقیقات تو کرے گی ۔دبئی سے بنائے گئے جعلی کمپنیوں میں پیسہ بھیجنے کیلئے جعلی اکائونٹس استعمال کیے جاتے منطور پاپڑ والا رفیق مرحوم کون ہیں جنکے نام پر اکائونٹس بنائے گئے یہ منی لانڈرنگ 2008تک کی گئی جبکہ اینٹی منی لانڈرنگ کا کیس 2007سے عملدرآمد ہوتا ہے ۔