معیشت میں استحکام میں مزید ڈیڑھ سال کا عرصہ لگے گا ، وزیر خارجہ اسد عمر

واشنگٹن (این این آئی) وفاقی وزیر خارجہ اسد عمر نے کہاہے کہ معیشت میں استحکام میں مزید ڈیڑھ سال کا عرصہ لگے گا اور حکومت معاشی بہتری کے لیے ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں پر کام کر رہی ہے، آئی ایم ایف پروگرام سے معیشت میں بہتری آئے گی ،حکومت کے تیسرے سال سے ترقی کا آغاز ہوگا ۔پاکستانی کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی 5سالہ مدت کے 3مراحل ہیں، پہلے مرحلے میں ابتدائی چند ماہ میں اپنی بقا کی جنگ لڑنا تھا اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ مرحلہ کامیابی سے گزر گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ہم استحکام کے مرحلے میں ہیں، اقتدار میں آنے کے ایک ماہ بعد ستمبر میں اندازہ لگایا تھا کہ ہمیں ملکی معیشت میں استحکام کیلئے 2سال اور تیسرے سال سے ترقی کا آغاز ہو گا جو میرے خیال میں اب بھی ایک اچھا اندازہ ہے۔اسد عمر نے کہا کہ ہمیں معیشت کی بہتری میں مزید 18ماہ لگیں گے جس کے بعد بہتری آنا شروع ہو گی لیکن ہمیں اس بات پر یقین ہے اس مرتبہ اقتصادی ترقی پائیدار ہو گی اور یہ مالی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے متاثر نہیں ہو گی۔انہوں نے کہاکہ ہمیں ادائیگیوں میں توازن کے بحران کا بار بار سامنا ہے اور مجھے کوئی ایسی حکومت یاد نہیں پڑتی جسے ادائیگیوں میں توازن کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو اور اس نے آئی ایم ایف سے مدد طلب نہ کی ہو۔انہوں نے 1988، 1999، 2008، 2013 اور 2018 میں بحرانی صورتحال ایک ہی طرح کی تھی۔اس کا مطلب یہ ہے ڈھانچے میں کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہے اور اسی لیے حکومت ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں پر کام کر رہی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف مشن شروع کرنے کا اصولی فیصلہ قومی معیشت کے بہترین مفاد میں کیاگیا اور آئی ایم ایف پروگرام سے معیشت میں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کا وفد تکنیکی معاملات طے کرنے کیلئے آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان پہنچے گا۔اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتربنانے کی خواہش کااظہارکیاتھا اورتجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی پیشکش کی تھی، خطے میں تجارتی سرگرمیوں سے لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔پاکستان نے اپنی معیشت میں بہتری کے لیے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک مرتبہ پھر مالی معاونت طلب کی تھی اور اس کے بعد سے اب تک اس کی آئی ایم ایف سینئر حکام سے متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سانحہ ساہیوال کی شفاف تحقیقات نہ ہوئیں توعمران خان نہیں بچ سکیں گے :سلمان غنی