ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مستعفی، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار لاہور ہائیکورٹ میں پیش

لاہور ( این این آئی) وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کیخلاف توہین عدالت کیس میں عدالتی حکم پر لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہو کر بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس مستعفی ہو گئے ہیں ، اب ہمارے نئے وکیل ماڈل ٹائون جے آئی ٹی کیس میں پیش ہوں گے،فاضل عدالت نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی پیشی کے موقع پرباہر رہ جانیوالے وکلاء کی جانب سے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ رہے ہیں آپ،وزیراعلی صاحب،یہ ہے نیاپاکستان،جہاں وزیراعلیٰ کوبلائیں تواتنے وکیل آجاتے ہیں،کسی کیس میں وکلاء کی تعداد دیکھ کر فیصلے نہیں ہوتے، عدالتوں میں صرف قانون کی بات ہو گی۔ ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس قاسم خان ،جسٹس شہزاد احمد خان اور جسٹس عالیہ نیلم پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سانحہ ماڈل ٹائون کی نئی جے آئی ٹی کیخلاف درخواستوں اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کیخلاف توہین عدالت کے نوٹسز کیس کی سماعت کی ۔عدالت نے استفسار کیا کہ دو ہفتے ہوگئے ہیں اب تک توہین عدالت کے نوٹسز کا جواب نہیں دیا گیا۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی جانب سے حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے تفصیلی دلائل سننے جاتے ہیں۔کمرہ عدالت میں روسٹرم پر وکلاء کے رش پر عدالت نے حکم دیا کہ جن وکلاء کے وکالت نامے ہیں صرف وہ روسٹرم کے پاس رہیں ، باقی پیچھے چلے جائیں۔یہ اوپن کورٹ ہے اور کسی دبائو میں نہیں آتے،فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ صوبے کے سب سے بڑے لاء آفیسر ایک ملزم کی طرح کھڑے ہیں،ان کو تو قانونی کی حکمرانی کی بات کرنی چاہیے۔عدالت نے صرف نوٹس دیا ہے،شوکاز نوٹس نہیں کیے۔حامد خان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں توہین عدالت کا قانون متروک ہوچکا ہے۔جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ کہا کہ آزادی اظہار اور اونچی آواز میں بولنے میں فرق ہے۔جس پر حامد خان نے کہا کہ اگرکسی کی آواز قدرتی اونچی ہوتو ججز نظر انداز کر دیتے ہیں۔جسٹس قاسم خان نے کہا کہ اگرکوئی گالیاں نکالناشروع کردے توپھرکیاکیاجائے۔حامدخان نے کہا کہ ایسے شخص کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہیے، عدالت کی عزت واحترام کو نظرانداز نہیں کرناچاہیے، ہماری گزارش ہے جناب اس معاملے کو در گزر کیا جائے، عدالت کی مہربانی کرنے سے عدالت کے وقار میں اصافہ ہوتا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جواب سے مطمئن ہوتے تو اسی وقت فیصلہ کرلیتے اس معاملے کو لٹکانا نہیں چاہتے۔دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عدالت کی توہین کرنا قطعی مقصدنہیں تھا۔ٰعدالت نے دلائل سننے کے بعد کیس کی سماعت دوپہر تین بجے تک ملتوی کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار ،صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت ،چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری قانون کو طلبی کے سمن جاری کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کیخلاف توہین عدالت کے نوٹسز جاری ہوئے کیا حکومت نئی جے آئی ٹی کیس انہیں سے پیروی کرائے گی ۔بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل کو آگاہ کردیا ۔جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے لاہور ہائی کورٹ میں پوزیشنز سنبھال لیں۔عدالتی حکم پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارلاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے ، وزیرقانون پنجاب راجہ بشارت ،چیف سیکریٹری یوسف نسیم کھوکھر اورسیکریٹری قانون بھی ان کے ساتھ تھے ۔عدالت کے باہر رہ جانے والے وکلاء کی جانب سے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ رہے ہیں آپ،وزیراعلیٰ صاحب،یہ ہے نیاپاکستان،جہاں وزیراعلی کوبلائیں تواتنے وکیل آجاتے ہیں۔کسی کیس میں وکلاء کی تعداد دیکھ کر فیصلے نہیں ہوتے، عدالتوں میں صرف قانون کی بات ہو گی۔وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ میں خود بھی وکیل ہوں اور عدالتوں کا احترام کرتا ہوں۔ جسٹس محمدقاسم خان نے وزیراعلیٰ سے استفسار کیا کیا آپکو بتایا گیا ہے کہ آپ کوکیوں بلایاہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میرے والد فوت ہوگئے تھے جس کے باعث مصروف تھا ۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جب کوئی لاافسر بنتا ہے تو اس کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں رہ جاتا ۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ایک بڑا معزز عہدہ ہے جس کا سب احترام کرتے ہیں۔احمد اویس ایک بہت قابل وکیل ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ احمد اویس ایک ملزم کی حیثیت سے یہاں موجود ہیں ،جس طرح کا رویہ اپنایا گیا وہ انتہائی قابل افسوس ہے ۔وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ آئندہ ایسا ہر گز نہیں ہو گا ،ہم عدلیہ کا مکمل احترام کرتے ہیں ۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل کو بلایا انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے ۔ہمارے نئے وکیل ماڈل ٹائون جے آئی ٹی کیس میں پیش ہوں گے ۔عدالت نے کہا کہ پہلے لاء افسران کی تعیناتی میں چیف جسٹس ہائی کورٹ سے مشاورت ہوتی تھی ،اس بار حکومت نے ایسا نہیں کیا،اس نے شاید قانون کے مطابق کیا مگر روایات کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔فاضل عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کر دی ۔ جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب سمیت دیگر افراد ہائیکورٹ سے روانہ ہو گئے ۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف کی فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر جلد سماعت کی استدعا مسترد