تحریک انصاف کی حکومت کا 7ماہ کا قرضہ پاکستان کے 30 سال کے قرضے سے زیادہ ہو گیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل اپنے ہر جلسےمیں یہی اعلان کیا تھا کہ ملک چلانے کیلئے ہم قرضہ نہیں لیں بلکہ پاکستان کی سرزمین میں اتنے وسائل موجود ہیں کہ ہمیں قرضہ لینے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ، ہمارے پاس دوسرے ممالک امداد مانگنے کیلئے آئیں گے ۔

تحریک انصاف کی حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد اشیا خوردو نوش کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستانی عوام بلبلا اٹھے ہیں ۔ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد یہاں تو سب کچھ الٹا ہونا شروع ہو گیا ہے ، مہنگائی اس قدر بڑھتی جارہی ہے کہ حکومت تمام کوششوں کے بعد بھی بے بس دیکھا ئی دے رہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   ادویات کی قیمتوں میں اضافہ؛ لاہور ہائیکورٹ نے حکومت سے جواب طلب کرلیا

پیٹرول ، گیس اور بجلی کی قیمتوں آسمان پر پہنچ گئیں ہیں اور ڈالر نے اونچی اڑانا اڑنا شروع کر دیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق اگر ملک میں یہی صورتحال قائم رہی تو وہ دن دور نہیں ہے جب ڈالر کی قیمت 200پر پہنچ جائے گی اور اسے روکنا پاکستان کے ہاتھ میں نہیں ہو گا ۔

تاہم وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پاکستانی عوام ہر تقریر اور خطاب میں یقین دہانی کروائی ہے کہ قوم تھوڑا سا انتظار کرے ہماری حکومت پاکستانیوں کو خوشحال بنانے کیلئے اپنی کوششیں کر رہی ہے اور وہ وقت دور نہیں جبکہ پاکستان اور پاکستانیوں کی ہر جگہ پرعزت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا ۔

یہ بھی پڑھیں:   480 سے زائد بدعنوان افسران نیب کی رضاکارانہ رقم واپسی کی اسکیم میں شامل

جبکہ وفاقی وزیر حماد اظہر نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں یہ کہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت قرضہ لے رہی ہے اور اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے ۔ پروگرام ہوسٹ نے جب یہ سوال کیا کہ پاکستان نے تیس سالوں میں اتنا قرض نہیں لیا جتنا تحریک انصاف کی حکومت نے 7ماہ کے عرصے میں لیا ہے ۔

جس کا جواب دیتے ہی وفاقی وزیر برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا اور تحریک انصاف کی حکومت کیا کرے ، ہمارے پاس جب اقتدار آیا تو ملک خزانہ بالکل خالی تھا ہمارے پاس نظا م حکومت چلانے کیلئے اور کوئی چارہ نہیں تھا ۔ ادارے کنگال ہو رہے ہیں اور ریونیو بھی نہیں آرہا اور روپیہ کی قدروقیمت میں حیرت انگیز طور پر کمی آتی جارہی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹوئٹر پر ”سے نو ٹو وار” ٹوئٹر ٹرینڈ بن گیا، بھارتی صحافیوں اور حکمرانوں نے بھی ٹیگ لگانا شروع کردئیے

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے جو قرضہ لیا اسے عوام کو آنے والے وقت میں بہت آسانیاں میسر آئیں گے ۔ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ ہم جتنا قرضہ لے چکے ہیں اس کے بعد اور قرضہ نہ لیں ۔