یہ لاہور ہائیکورٹ نہیں جہاں… چیف جسٹس آف پاکستان نے ایسی بات کر دی کہ سب چپ ہو گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ میں سرکاری اراضی پٹرول پمپس کولیز پر دینے سے متعلق سماعت ہوئی۔ دوران سماعت جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دئیے کہ کمرہ عدالت میں وکلاء اپنی اپنی آواز دھیمی رکھا کریں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے دوران سماعت کہا کہ زیادہ تر سائٹس ایل ڈی اے کی ہیں۔

کچھ سائیٹس میونسیپل کارپوریشن اور کچھ پنجاب حکومت کی ہیں۔وکیل نے کہا کہ نیلامی میں پٹرول پمپ کی سائٹس کو 5 سال کے لیے لیز پر دے رہے ہیں۔جس نے سائٹس لیز پر لینی ہیں اس نے کروڑوں روپے زمین پر لگانا ہے۔پانچ سال کی مدت لیز کے لیے کم ہے۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دئیے کہ لیز کی معیاد پر ورک آؤٹ کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سمیت 72 قومی اسمبلی کے اراکین کی رکنیت معطل

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سرکاری اثاثوں کو بے رحم انداز میں بانٹا گیا مصری شاہ میں ایک سائٹ 600روپے کرائے پر دی گئی۔اور لبرٹی مارکیٹ میں بھی ایک سائٹ 5 ہزار کرائے پر دی گئی۔جب کہ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دئیے کہ کیوں نہ معاملہ نیب کو بھجوا دیں، نیب خود دیکھ لے گا کیا جرم ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   از خود نوٹس کا اختیار بہت کم استعمال کروں گا، نامزد چیف جسٹس

یہ لاہور ہائیکورٹ نہیں جہاں شور مچا کر فیصلہ لے لو۔واضح رہے لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کی تھی جس کے بعدن لیگ کے مخالفین کی جانب سے یہ بھی کہا کہ لاہور ہائیکورٹ شریف خاندان کو ریلیف دینے کے لیے بنی ہے۔منی لانڈرنگ کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں توسیع کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   جھنگ : جرائم پیشہ افراد سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنی تمام تر پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پٹرولنگ پولیس بہترین ڈیوٹی سر انجام دے رہی ہے، ڈی ایس پی پیٹرولنگ محمد مظہر فاروق سدھانہ کا پولیس لائن جھنگ میں انچارج پیٹرولنگ پوسٹس سے خطاب . عرفان سیال کی رپورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 17 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا کروانے کا حکم دیا تھا ۔ عدالت نےحمزہ شہباز سے رپورٹ اور شق وار جواب بھی طلب کر لیا جبکہ نیب کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا۔