افغان حکومت کی طالبان سے مذاکرات کیلئے وفد بھیجنے کی تیاری

واشنگٹن (ذرائع) امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے کوششوں میں بڑی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت کے نمائندے آئندہ ہفتے دوحہ مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

زرائع کی رپورٹ کے مطابق طالبان ک جانب سے بھی اس بڑی پیش رفت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا کہ افغان حکومت کے کچھ حکام ان مذاکرات میں حصہ لیں گے لیکن وہ ریاستی نمائندوں کے طور پر نہیں بلکہ اپنی ذاتی حیثیت میں شرکت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان ’’امیر‘‘ ہوگیا،ہر سال اربوں ڈالر کس کو دے رہاہے؟

اس حوالے سے دفتر سے جاری بیان میں امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ تھا کہ ‘ افغان صدر اور دیگر نمائندوں سے اس بات پر تبادلہ خیال ہوا کہ کس طرح دوحہ میں آئندہ ہفتے ہونے والے بین الافغان مذاکرات کو یقینی بنایا جائے، جس میں افغان حکومت اور وسیع سوسائٹی کے نمائندگان شرکت کریں گے جو مذاکراتی عمل کو تیز کرنے کے ہمارے مشترکہ مقصد کو آگے بڑھا سکتے ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں:   میزائلوں کے تجربات میں ناکامی کے پیچھے امریکا کا ہاتھ، ایران نے امریکہ پر الزام عائد کردیا

دوسری جانب مختلف ذرائع ابلاغ کو جاری ایک علیحدہ بیان میں طالبان نے بھی بتایا کہ گزشتہ مزاکرات کے ‘فریم ورک کے اندر’ امریکا-طالبان کی اگلی ملاقات اپریل کے وسط میں دوحہ میں منعقد ہوگی۔

واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن مذاکرات کے 6 دور پہلے ہی ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   شام میں امریکی اور پاکستانی سمیت 5 داعش جنگجو گرفتار