حکومت کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے اثاثے منجمد کرنے کے خلاف سماعت مقرر

لاہور (زرائع) لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے اثاثے منجمد کرنے کے خلاف حافظ سعید اور وفاقی حکومت کی متفرق درخواستوں کو 18 اپریل کو سماعت کے لیے مقرر کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امین الدین خان نے وفاقی حکومت کی متفرق درخواست پر جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت کے اثاثے منجمد کرنے کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔وفاقی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سعدیہ ملک عدالت میں پیش ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عوام تیار رہیں اب حکومت کو گھر بھیجنے کا وقت آگیا ہے، آصف علی زرداری کا عمران خان کو آخری پیغام

انہوں نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ تنظیم کے سربراہ حافظ سعید نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت کے اثاثے حکومتی تحویل میں لینے کے اقدام کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا ہے۔

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سعدیہ نے عدالت کو مزید بتایا کہ عدالت نے اس کیس میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو نوٹس جاری کررکھے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کیس انتہائی اہم ہے، اٹارنی جنرل آف پاکستان اس کیس میں خود پیش ہونا چاہتے ہیں جبکہ وہ 16 اپریل کو مصروفیت کے باعث پیش نہیں ہوسکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   حمزہ شہباز کے گھر داخل ہو کر انہیں گرفتار کرنے کی اجازت دے دی گئی

انہوں نے عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ حافظ سعید کی درخواست کی سماعت کے لیے کوئی اور تاریخ مقرر کی جائے، جس پر عدالت عالیہ نے مرکزی کیس کو 18 اپریل کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔

خیال رہے کہ 4 مارچ 2019 کو وفاقی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے پابندی کے شکار افراد اور تنظیموں کو کنٹرول میں لے کر ان کے اکاؤنٹ منجمد کرنے کے لیے سلامتی کونسل آرڈر 2019 جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 25 اپریل تک توسیع