نیب نے حمزہ شہباز کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں فوراََ طلب کر لیا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)نیب نے حمزہ شہباز کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں 10 اپریل کو طلب کر لیا۔حمزہ شہباز کو دس اپریل کو 11 بجے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔دریں اثنا منی لانڈرنگ کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست پر سماعت جسٹس شہزاد ملک کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔اس موقع پر نیب ٹیم بھی عدالت میں موجود تھی۔ عدالت میں موجود ن لیگی کارکنان نے نعرے بازی بھی کی جس پر عدالت میں شور ہونے پر جسٹس شہزاد ملک نے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ کارکنان کو اس طرح کیوں بلایا گیا ؟ انہیں کنٹرول کرنا کس کا کام ہے؟ دوبارہ ایسا ہوا تو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ زیادہ افراد کو ساتھ بلا لینے سے عدالتی کارروائی میں رکاوٹ پیدا ہو تی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں تیسرا ملک کون سا تھا؟ وزیر خارجہ نے سب بتا دیا

عدالت نے پوچھا کہ حمزہ شہباز کے خلاف کتنے کیس ہیں؟ نیب حکام کہاں ہیں؟ جس پر نیب نے جواب دیا کہ حمزہ شہباز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور شوگر ملز سے متعلق کیس ہے۔ عدالت نے نیب حکام سے استفسار کیا کہ آپ حمزہ کو کس کیس میں گرفتار کرنا چاہتے ہیں جس پر نیب حکام نے جواب دیا کہ حمزہ شہباز کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں گرفتار کرنا ہے۔

عدالت نے کہا کہ صاف پانی اور رمضان شوگر ملز میں ابھی فیصلہ نہیں کیا؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ حمزہ شہباز کے خلاف ٹھوس شواہد ہیں جس پر تحقیقات کرنی ہیں۔ جب کہ صاف پانی اور رمضان شوگر مل میں ابھی تک وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوئے ہیں۔ دوران سماعت حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے گرفتاری سے 10 دن قبل اطلاع دینے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   کالعدم تنظیموں کے 44 ارکان حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل، مولانا مسعود اظہر بھی شامل

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ گرفتاری سے قبل بتانا ضروری نہیں ہے۔ جسٹس شہزاد نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ہائیکورٹ کا 10 دن والا حکم چیلنج کیا تھا ؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم نے سب کچھ قانون کے مطابق کیا۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ جلدی کی تاریخ دیجئیے گا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ ابھی کیس نوٹس کی اسٹیج پر ہے۔

حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے بغیر کسی نوٹس کے گرفتار کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں۔ اگر نیب کے پاس کوئی دستاویزاتی ثبوت ہیں توپیش کریں ہم جواب دیں گے۔ نیب کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت پیشگی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب کہ نیب کے قانون کےتحت جرم ناقابل ضمانت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم کے بعد صدر عارف علوی بھی نوجوانوں کی ترقی کے لئے میدان میں آ گئے، بڑا فیصلہ کرلیا جمعرات‬‮ 14 ‬‮نومبر‬‮ 2019 | 14:13

جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 17 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے حمزہ شہباز سے رپورٹ اور شق وار جواب بھی طلب کر لیا جبکہ نیب کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ اور پارٹی رہنما ملک احمد خان سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال ، رانا مشہود بھی لاہور ہائیکورٹ کے کمرہ عدالت میں موجود تھے۔جبکہ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔